آج : 6 February , 2011

ایرانی انقلاب آمریت کی حکمرانی کیخلاف رونماہوا، مولاناعبدالحمید

ایرانی انقلاب آمریت کی حکمرانی کیخلاف رونماہوا، مولاناعبدالحمید
molana_21خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید نے اس جمعے کے خطبے کاآغاز سورت العلق کی بعض آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے انسان کے غرور وتکبر کے اسباب پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا اولاد، قوم وقبیلہ، علم، مال ودولت، جاہ واقتدار ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے آدمی غرور میں مبتلاہوتاہے۔

مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا یہ انسان کی طبیعت ہے کہ جب اس کے پاس اقتدار وقوت ہے تو وہ خود کو بے نیاز سمجھ کرحلال وحرام کی تفریق نہیں کرتا۔ جس حکمران کی اصلاح وتزکیہ نہ ہوچکی ہو وہ یہ نہیں سوچتا کہ کسی دن اس کے اقتدار کاسورج غروب کرے گا۔ ایسے حکمران اپنے پیش روؤں اور ہم منصبوں سے سبق حاصل نہیں کرتے جو ایک لمحے میں تخت سے تختہ تک پہنچتے ہیں۔

ایران کے 1979انقلاب کے اسباب:
ایران کے عوامی انقلاب کی سالگرہ کے ایام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: آج کل ایران میں اناسی کے عظیم انقلاب کی سالگرہ کے ساتھ ہی مشرق وسطی میں انقلاب کے فلک شگاف نعرے بلندہوچکے ہیں۔ انقلابات کی آوازیں سننے میں آرہی ہیں، ہمیں ان کے اسباب پرغور کرناچاہیے۔
آزادی کے فقدان اور آمریت کو ایرانی انقلاب کے اہم اسباب قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا اظہاربیان پرپابندی کی وجہ سے شاہ ایران پر کوئی تنقید نہیں کرسکتاتھا، شاہ ایران پرتنقید ’’ریڈلائن ‘‘ سمجھی جاتی تھی، اگر کوئی زبان کھولتا تو ’ساواک‘ (شاہ کا انٹیلی جنس ادراہ) کے کارندے اس کے پیچھے پڑجاتے اور اسے خاموش رہنے پرمجبورکرتے۔
سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی اور ایک ہی پارٹی کے اقتدار کو انقلاب کے دیگر اسباب میں شمار کرتے ہوئے انہوں نے کہا شاہ ایران سیاسی جماعتوں پر قدغن لگاکر ان کی سرگرمیوں کو غیرقانونی قراردیاتھا۔ صرف ایک ہی جماعت کو آزادی حاصل تھی جو شاہ کی اپنی پارٹی تھی۔ الیکشن بھی برائے نام ہو تے تھے جن کے نتائج ان کی خواہش کے مطابق ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ غربت کی وبا عام ہوچکی تھی اور لوگوں کی معاشی صورتحال انتہائی ناگفتہ بھی تھی۔ عوام کاگزارہ حکومتی خیرات پر ہوتاتھا جو انہیں مخصوص دنوں میں ملتاتھا۔ اسی وجہ سے عوام نے انقلاب کیلیے عزم کیا، آزادی وحریت انسان کی سب سے بڑی عزت ہے ۔ ایرانی عوام اس عزت سے محروم تھے، جب عوام نے اس کاتختہ الٹ دیا تو اسے بالکل توقع نہ تھی کہ یکدم اقتدار سے محروم ہو جائے گا۔

تیونس اور مصر میں عوامی انقلاب:
آمریت اور آزادی اظہاربیان کے فقدان کو تیونس ومصر کے عوامی انقلابات وتحاریک کے بنیادی اسباب قرار دیتے ہوئے نامور سنی عالم دین نے کہا جب تیونسی اور مصری عوام سے ان کی آزادی چھین لی گئی، ان کی عزت اٹھالی گئی اور مفیدتنقید کو ان کیلیے شجرہ ممنوعہ قراردیاگیا تو انہیں سڑکوں پرنکلنا پڑا۔ ان کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی لیکن عوامی طاقت کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔
لوگوں کوحکام کی تنقیدسے روکاگیا، یہ کیسے ہوسکتاہے کہ آدمی غلط کام دیکھے اور چھپ رہے۔ آزادی عوام کی عزت اوربنیادی حق ہے۔
اکثراسلامی ممالک کے نام نہاد انتخابات کوناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا مصر وتیونس میں بظاہر انتخابات منعقد ہوتے تھے، لیکن حیرت انگیزطورپر نتیجہ ہمیشہ حکمران جماعت کی مرضی کیمطابق ہوتاتھے۔ انتخابات ایک آلہ ہے جس کے ذریعے وہ مزیدعوام پر عرصہ حیات تنگ کرتے چلے آرہے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا اکثر مغربی ممالک کے برعکس بیشتر مسلم ممالک میں آمریت کادور دورہ ہے، ایرانی قوم نے اسی مقصدکیلیے انقلاب لایا تاکہ آمریت اور سیاسی دباؤ کاخاتمہ ہو، آزادانتخابات منعقد کرائے جائیں، ایرانیوں نے معیشتی بحرانوں سے نجات پانے کے علاوہ سیاسی مسائل سے بھی چھٹکاراحاصل کرنے کے غرض سے انقلاب لایا۔ حکام کو عوام کی آواز وقت پر سننی چاہیے۔ شاہ ایران نے ’’بن علی‘‘ اور ’’حسنی مبارک‘‘ کی طرح اس وقت عوام کی آواز سنی جب بہت دیر ہوچکی تھی۔
مولانا عبدالحمید نے تاکیدکی اگر آزادی اظہار بیان اور میڈیا پر پابندیاں لگائی جائیں اور عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھاجائے تو یہ انقلاب کسی بھی ملک کے اندر آسکتاہے۔

صوبہ سیستان وبلوچستان میں بدامنی کے اسباب:
اہل سنت والجماعت کے حقوق کے تحفظ اور بدامنی کے اسباب کی تہہ تک پہنچنے پر زور دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا ایران کی اہل سنت برادری کامطالبہ ہے کہ ان کے قومی ومذہبی حقوق کاخیال رکھاجائے۔ صوبائی حکام کو سمجھناچاہیے کہ صوبے مین بدامنی کی وجہ دین ومذہب نہیں ہے، بدامنی کے اسباب کو غربت اور بڑے پیمانے پر پائے جانے والے لسانی ومذہبی امتیازی سلوک میں ڈھونڈناچاہیے۔
اگرحکام اصل اسباب کو چھوڑکر خودساختہ وجوہات کو ہائی لائٹ کریں تو صوبے میں ہرگز امن بحال نہ ہوگا۔ جب آدمی خود کو اپنے ہی ملک میں اجنبی محسوس کرے اور ہرجگہ اسے امتیازی رویہ کاسامنا ہو تو تشدد کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں رہے گا۔

اہل سنت ایران کو مذہبی آزادی سے محروم کرنے کی کوشش:
اہل سنت والجماعت ایران پر آئے روز بڑھتے دباؤ کاتذکرہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے مزیدکہا بعض اوقات ہمیں باجماعت نمازپڑھنے سے روکاجاتاہے، نمازیوں سے کہاجاتاہے ’’آج تم نماز پڑھتے ہو اور کل دہشت گردبنتے ہو!‘‘ نمازپڑھنا دہشت گردی نہیں، نمازسے روکنا اور اس طرح کے بیجا دباؤ شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ ہم ہمیشہ صہیونیوں اور مغربی طاقتوں کو ملامت کرتے ہیں جو نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ کادعوا کرتے ہیں جو دراصل ان کی فلسطین پالیسی کا ردعمل ہے۔
آخرمیں حضرت شیخ الاسلام نے تاکیدکی اہل سنت برادری اپنے ملک کی حفاظت کیلیے پرعزم ہے اور کسی کو انہیں اپنے حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ کے فضل ومدد سے ہم ہرگز ایسے اقدامات پرخاموش نہیں رہیں گے اور اپنے مذہبی حقوق کیلیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں