بیرجند کی اہل سنت برادری؛ ماضی اور حال

بیرجند کی اہل سنت برادری؛ ماضی اور حال
birjandایران کے صوبہ جنوبی خراسان کے صدرمقام ’’بیرجند‘‘ ایران کے مشرق میں واقع ہے جس کا کل رقبہ 31,704 مربع کلومیٹر ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ شہر ایران کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ بیرجند کے شمال میں قائن اور فردوس نامی شہر واقع ہیں، مغرب میں صوبہ کرمان اور مشرق میں افغانستان جبکہ جنوب میں ’’نہبندان‘‘ آتا ہے۔

گندم، جو، زعفران، اناج ودیگر غلات کی پیداوار کے علاوہ ہاتھ سے بنائے ہوئے جائے نماز اور مختلف الیکٹرک سامان کے متعدد کارخانے کی وجہ سے بیرجند کافی مشہور ہے۔
تاریخ بلدان کی کتابوں میں سب سے پہلے یاقوت الحموی نے بیرجند کے بارے میں لکھاہے: یہ علاقہ ’’قہستان‘‘ میں آتا ہے جو عہد خلافت میں خراسان کا ایک ضلع تھا۔
اگر گہری نظر سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو مختلف شہروں کے انقلابات اور عروج و زوال کے متعدد وجوہات سامنے آئیں گی۔ بیرجند ایسے شہروں کی بہترین مثال ہے جس کے عروج میں مختلف اسباب کا دخل تھا اور پھر اس کے زوال کادور شروع ہوا۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہو تا ہے بیرجند یا ’’بیرگند‘‘ شروع میں صرف ایک چھوٹا سا قریہ تھا۔ پھر کسی زمانے میں ’’قائنات‘‘ کے حاکم کا مرکز بن گیا جس نے افغانیوں کے یورش کو دفع کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور نادرشاہ کے افغانستان پر یلغار میں اس کا ساتھ دیا۔ اس وجہ سے بیرجند کی اہمیت کافی بڑھ گئی اور اس شہر کا رونق دوچند ہوگیا۔ اسی طرح اگر جغرافی اسباب نے اس کی شہرت میں ساتھ نہیں دیا تو سیاسی عوامل و وجوہات نے بیرجند کی اہمیت بڑھادی۔
پچھلی صدی کے پانچویں عشرے میں جب ایران وہندوستان کے تجارتی تعلقات بڑھ گئے تو اقتصادی و معیشتی اسباب نے اس شہر کو اسٹریٹجک بنادیا۔ چونکہ ایران کا قریب ترین شہر ہندوستان سے بیرجند ہی ہے۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے دوران اس شہر سے بڑا فائدہ اٹھایا گیا۔ لیکن جب اونٹوں سے سفر کا دور ختم ہوا اور کاروانسرا کی ضرورت باقی نہ رہی اور بڑے ٹرک سڑکوں پر راج کرنے لگے تو بیرجند کی وہ اہمیت بھی باقی نہ رہی جو اسے پہلے حاصل تھی۔
بلکہ مزید برآں بڑی مارکیٹوں کے ظہور نے بیرجندی عوام کو دیگر علاقوں کی جانب روانہ ہونے پر مجبور کردیا اور بہت سارے لوگوں نے اپنی مزدوری چھوڑدی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بیرجند ایک خشک علاقہ ہے جو جنوبی خراسان کے دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہے۔ پینے کا پانی صرف پہاڑوں کے دامن میں موجود چشموں میں ہے جو بارش اور برف پگھلنے سے حاصل ہوتا تھا۔

بیرجند کے بعض نامور علماء وشخصیات
علامہ عبدالعلی بیرجندی:
آپ ماہر فلکیات اور ریاضی تھے۔ نویں اور دسویں صدی ہجری مین رہتے تھے۔
آپ کا پورا نام نظام الدین عبدالعلی بن محمد بن حسین ہے۔ آپ کا لقب ’’الفاضل البیرجندی‘‘ اور ’’المحقق البیرجندی‘‘ تھا۔ علامہ عبدالعلی حنفی مسلک تھے اور آپ نے حدیث شریف شیخ خواجہ غیاث الدین کاسانی سے پڑھی، حکمت کے فنون منصور بن معین الدین کاسانی سے اور دیگر علوم کو کمال الدین سے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ آپ نے علامہ سیف الدین تفتازانی اور ملا مسعود سے بھی استفادہ کیا۔
آپ کی وفات کی تاریخ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، مگر سب سے زیادہ صحیح یہ ہے کہ آپ ۹۴۲ ھ۔ق میں وفات پا گئے۔ علامہ عبدالعلی بیرجندی نے متعدد کتابیں لکھیں، سب سے اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
۱۔ شرح آداب المناظرہ
۲۔ شرح التذکرۃ النصریۃ فی الھیءۃ
۳۔ شرح الدرر النظم فی خواص القرآن الکریم
۴۔ شرح الشمسیۃ

حکیم سعدالدین شمس الدین النزاری القہستانی:
آپ شعر گوئی میں انتہائی ماہر تھے اور حنفی مذہب کے فقیہ تھے۔ لیکن عصر حاضر میں نامعلوم اسباب کے بنا پر آپ کی کوئی تصنیف منظر عام پر نہیں آئی۔ البتہ بعض کتابیں ان سے منسوب کی جاتی ہیں۔ حکیم سعدالدین کی پیدائش ۶۴۵ ھ۔ق میں ہوئی جبکہ وفات ۷۱۰ ھ،ق کو ہوئی جب آپ کی عمر ۶۵ برس تھی۔
بعض کتابیں جو آپ کی طرف منسوب ہیں درج ذیل ہیں:
۱۔ مونس الأحرار
۲۔ دیوان نزاری
۳۔ کلیات نزاری
۴۔ نامہ منظومہ یا شعر مثنوی
بیرجند کے ایک اور عالم دین ابوعبیداللہ القاینی ہیں جو أدب وحسن کتابت میں معروف تھے۔ آپ اپنی عفت، اتباع سنت اور کثرت خطاطی کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے اور آپ کو اصمعی صغیر کہا جاتا تھا۔

بیرجند کی اہل سنت برادری دورحاضرمیں:
بیرجند شہر میں اس وقت سنی برادری کل آبادی کی پندرہ فیصد ہے جن کی جامع مسجد اور عیدگاہ بھی ہے۔
یہاں بعض دینی ادارے اور مدارس بھی سرگرم عمل ہیں۔ شہر کے علاوہ اکثر سنی مسلمان آس پاس کے علاقوں میں رہتے ہیں جیساکہ ’’سربیشہ‘‘ اور ’’درمیان‘‘ میں۔ ’’درمیان‘‘ نامی علاقے میں بارہ سے زائد مقامات پر جمعہ پڑھا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اس خطے کو ’’جلگہ سنی خانہ‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ’’ اہل سنت کے لیے ہموار زمین‘‘۔

دینی مدارس و مراکز:
جنوبی خراسان میں چار دینی مدارس سرگرم عمل ہیں۔ الصدیق دینی مدرسہ بیرجند کے شہر میں واقع ہے جس کے سرپرست مولانا حیدر فاروقی ہیں۔ مدرسہ علامہ ندوی (رح) جو نصرالدین نامی گاؤں میں ہے، اس ادارے کے مہتمم مولانا سید مومن موسوی ہیں۔ شیخ محمد برفی کی سرپرستی میں چلنے والا دینی مرکز ’’علی بن ابیطالب‘‘ جو ’’طبس‘‘ شہر میں واقع ہے۔ اسی طرح ماخونیک میں ایک دینی مدرسہ علمی خدمات سرانجام دے رہا ہے جس کے مدیر شیخ محمود رحمانی ہیں۔ اسی علاقے میں دعوت وتبلیغ کا ایک مرکز بھی موجود ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں