آج : 15 January , 2011

تیونس میں ایمرجنسی نافذ، صدر مستعفی

تیونس میں ایمرجنسی نافذ، صدر مستعفی
ben-aliتیونس(بى بى سى) تیونس میں غیر معمولی مظاہروں کے بعد مستعفی ہونے والے صدر زین العابدین اپنے اہلخانہ کے ساتھ ملک چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے ہیں۔
تیونس میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ملک میں غیر معمولی مظاہروں کے بعد صدر زین العابدین بن علی کو مستعفی ہونا پڑا۔

وزیرِاعظم محمد گھن ناؤچی نے اقتدار سنبھال لیا ہے، ملک میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب سے کرفیو نافذ کردیا ہے۔
سعودی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سنیچر کو زین العابدین سعودی عرب پہنچے ہیں۔‘
فرانسیسی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق صدر نکولس سرکوزی نے مستعفی صدر کی جانب سے اُن کے جہاز کو فرانس میں لینڈ کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔‘
اُدھر وزیرِاعظم محمد گھن ناؤچی نے کہا ہے کہ وہ سنیچر کو حکومت سازی کے لیے مختلف سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔
اس سے پہلے جمعہ کو تیونس میں ہزاروں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ گزشتہ تئیس سال سے اقتدار میں رہنے والے صدر زین العابدین فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
واضح رہے کہ تیونس میں بیروزگاری اور کر پشن کے خلاف گزشتہ تین ہفتوں سے مظاہرے جاری تھے جن میں صدر زین العابدین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
مظاہروں میں کم از کم تئیس افراد مارے گئے ہیں تاہم غیر سرکاری تعداد پچاس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔
دارالحکومت تیونس میں جمعے کو ہزاروں مظاہرین نے صدر زین العابدین کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرہ ابتدا میں پرامن تھا، تاہم بعد میں سکیورٹی فورسسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور شرکا کو مارا پیٹا۔
واضح رہے کہ زین العابدین بن علی سنہ انیس سو ستاسی سے اقتدار میں تھے۔ انھوں نے مظا ہرے شروع ہونے کے بعد جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ سال دو ہزار چودہ میں اقتدار چھوڑ دیں گے۔
تاہم مظاہرین، جن میں زیادہ نوجوان تھے، کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اور تبدیلی کے لیے صدر عابدین کا جانا ضروری ہے۔
گزشتہ تئیس برس میں جب سے زین العابدین بن علی نے صدرات سنبھالی تھی، ملک میں اس طرح کا کوئی احتجاج نہیں ہوا۔
وزیرِاعظم محمد گھن ناؤچی نے تیونس میں ٹیلی ویژن پر کہا ہے کہ صدر زین العابدین وقتی طور پر اپنے فرائض ادا نہیں کرسکتے۔ اُن کی عدم موجودگی میں ملکی نظم و نسق عارضی طور پر وزیرِاعظم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد تین سے زیادہ افراد ایک جگہ جمع نہیں ہوسکیں گے۔ رات کا کرفیو نافذ کرکے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے کو دیکھتے ہی گولی مار دیا جائے۔
ملک میں فوج تعینات کردی گئی ہے اور ہوائی اڈے کو سکیورٹی فورسز نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں