2010 میں 124 ڈرون حملوں میں 1184 افراد جاں بحق ہوئے

2010 میں 124 ڈرون حملوں میں 1184 افراد جاں بحق ہوئے
drone-attackرپورٹ(جنگ نیوز) سال 2010ء کے12مہینوں میں پاکستان کے قبائل علاقوں میں امریکی ڈرونز کے ریکارڈ 124حملے ہوئے جو کہ 2009ء کے مقابلے میں دوگنا تھے ان میں1184افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2009ء میں اس طرح کے53حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد780تھی۔

پاکستانی حکام کی جانب سے جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈرونز نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے ہائیٹ آؤٹس پر حملوں میں2010ء میں ماہانہ 98، ہر ہفتہ 23جبکہ روزانہ 3افراد کو جاں بحق کیا۔
سال 2010ء میں ان حملوں میں 2009ء کے مقابلہ میں 134فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح 2009ء کے مقابلے میں2010ء میں ڈرونز حملوں سے 56فیصد زیادہ لوگ جاں بحق ہو گئے۔
ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی ماہانہ شرح2009ء کے مقابلے میں55فیصد زیادہ جبکہ حملوں میں150فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہلاکتوں میں ہفتہ وار اضافہ 53فیصد جبکہ حملوں میں ہفتہ وار اضافہ 130فیصد ہوا۔
زیادہ ترڈرون حملے انسانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کئے گئے جو پاکستان اور افغان قبائلیوں نے فراہم کی جو افغانستان میں مورچہ بند امریکی اتحادی فورسز کیلئے جاسوسی کرتے تھے۔
ا عداد و شمار کے مطابق 2009ء کے مقابلے میں 2010ء میں ڈرونز سے ماہانہ 10زیادہ افراد جاں بحق ، ہفتہ وار2سے زیادہ جاں بحق ہوئے۔ 2009ء میں 53کے برعکس 2010ء میں71زیادہ ڈرون حملے ہوئے۔2009ء میں 760کے مقابلے میں 2010ء میں424افراد جاں بحق ہو گئے۔ہمیشہ کی طرح امریکی ڈرونز حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی زیادہ تعداد معصوم شہریوں کی تھی۔
2010ء میں امریکی حملوں کا مرکزی نشانہ دس گروپ بنے رہے جن میں القاعدہ کی مفرور قیادت ، پاکستانی اور افغان طالبان کمانڈوز ، اسلامک جہاد گروپ کے کمانڈرز ، ازبکستان اسلامک موومنٹ ، اسلامک آرمی آف گریٹ برٹن ، بریگیڈ 313 ،حقانی نیٹ ورک ، لشکر اسلامی اور لشکر جھنگوی شامل ہیں۔
پاک افغان سرحد پر ڈرون حملوں میں اضافہ جنوری 2009ء سے ہوا جب جارج بش کی جگہ بارک اوباما امریکہ کے صدر بنے جنوری 2010ء میں11ڈرون حملوں میں132 افراد ، ضروری میں 10حملوں میں82 ،مارچ میں10حملوں میں 98 ، اپریل میں6حملوں میں47 ،مئی میں8حملوں میں84 ، جون میں7حملوں میں69 اور جولائی میں6حملوں میں66افراد جاں بحق ہو گئے۔
ستمبر2010ء سی آئی اے کی جانب سے پاکستان میں سرگرم ہونے کے بعد سے حملوں میں تیزی آگئی۔ اس ماہ21ڈرون حملوں میں145افراد جاں بحق ہوئے۔ اکتوبر میں16حملوں میں136 ، نومبر میں14 حملوں میں 124اور دسمبر2010ء میں10ڈرون حملوں میں138 افراد جاں بحق ہو گئے۔
2010ء میں امریکی ڈرون حملوں کا پسندیدہ نشانہ شمالی وزیرستان رہا جسے عمومی طور پر افغان اور پاکستان طالبان ، حقانی نیٹ ورک ، القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ اور اسے پاکستانی وسط اور جنوبی ایشیائی دہشت گرد گروپوں کا ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں