‘عبادت عاجزی کی انتہاہے جوصرف اللہ کاحق ہے’

‘عبادت عاجزی کی انتہاہے جوصرف اللہ کاحق ہے’

molana_17جمعہ رفتہ میں خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید نے قرآنی آیت: «وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُواْ لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلاَّ قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مِّعْرِضُونَ» کی تلاوت کے بعد مذکورہ آیت کی تشریح فرمائی۔ انہوں نے کہا اس آیت میں اللہ تعالی نے بہت احکام کاتذکرہ فرمایاہے۔ بنی اسرائیل سے وعدہ لینے کا تذکرہ کرکے اللہ تعالی نے وعدہ پورے کرنے کی اہمیت واضح کردی۔

سب سے اہم مسئلہ توحید اورخالص عبادت ہے جو تلاوت شدہ آیت میں موجود ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے۔ رکوع وسجدہ غیراللہ کیلیے ناجائز ہے اگرچہ تعظیم کی نیت سے ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ساری عبادات مثلا نذر، مدد مانگنا ودیگر عبادات اللہ کے ساتھ خاص ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا اس کائنات کو جسے ہم خاموش سمجھتے ہیں سب چیزیں یہاں اللہ کی تسبیح مشغول ہیں۔ ہرشئے اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے۔ حقیقت میں یہ چیزیں زندہ ہیں اور ذکر اللہ میں لگی ہوئی ہیں۔ چنانچہ ارشادخداوندی ہے: ’’وللہ یسجد من فی السمٰوات والارض طوعا وکرها۔‘‘
انہوں نے مزید کہا اس دنیامیں ہر مخلوق فرمانبردار و طاعت گذار ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ صرف انسان اور جن معصیت ونافرمانی کرتے ہیں۔ حالانکہ انسان کیلیے عصیان، کفر اور شرک بالکل ناجائز اور نامناسب ہے جسے اللہ تعالی نے عزت دی ہے اور اسے اشرف المخلوقات قرار دیاہے۔
اوپر تلاوت کی گئی آیت میں شامل بعض دیگر احکام کاذکر کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا والدین کے ساتھ اچھائی کرنا اور ان کے حقوق کاخیال رکھنا دوسرا حکم ہے جو بنی اسرائیل کو اس کی تعمیل کاحکم دیاگیا۔ توحید کے بعد اس مسئلے کاتذکرہ والدین کے حقوق کی اہمیت کو ظاہر کرتاہے۔ والدین پر احسان کرنا اورخرچ کرنا جہاد ہے۔ جب والدین کو اولاد کی خدمت کی ضرورت ہو تو اس وقت ان کی خدمت حج اور جہاد سے بھی افضل بن جاتی ہے۔ والدین کے علاوہ دیگر نادار رشتہ داروں سے بھی اچھا سلوک رکھنا چاہیے۔ صلہ رحمی باقیات صالحات سے ہے۔ یتیموں اور مستحق لوگوں سے تعاون کرناوقت کی ضرورت ہے۔
اپنے خطبے کے آخر میں دیگراحکام کو بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالحمیدنے مزید کہا اپنے مخاطب سے اچھے انداز میں بات کرنا اور حسن کلام سے کام لینا مطلوب ہے جسے بعض لوگ نظرانداز کرتے ہیں۔ اسی طرح خطیبوں، مدرسوں اور مبلغوں کو خطاب میں افراط سے بچنا چاہیے، بری باتوں اور سخت کلامی سے اجتناب ضروری ہے۔ چونکہ اکثر فتنوں اور لڑائیوں کی ابتدا بدزبانی، گالی گلوچ اور گستاخی سے ہوتی ہے۔

بد امنی کے اصل اسباب کی تشخیص وخاتمہ ضروری ہے


اپنے خطبے کے دوسرے حصے میں خطیب اہل سنت نے تاکید کی  صوبہ سیستان وبلوچستان میں بدامنی کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تمام قومیتوں اور مسالک کے سرکردہ افراد اکٹھے ہوکر بدامنی کے اصل اسباب و وجوہات کا مطالعہ کرکے ان کے خاتمے کا عزم کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے خطبہ جمعہ کے دوران بعض عناصر کی جانب بدامنی کے واقعات میں اہل سنت کے دینی مدارس کو ملوث قرار دینے اور شدت پسندی کارجحان پیدا کرنے کے دعوے کو سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا: تشدد اور مسلح کارروائی کسی بھی فریق کی جانب سے ہو اور کسی بھی دعوے اور لباس میں، ہماری نظر میں مردود اور ناقابل قبول ہے۔ ہمارے مدارس ہرگز تشدد وبدامنی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، نہ ہی ایسے عناصر کو داخلہ دیا جاتاہے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے سرپرست ’’شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان‘‘ مولانا عبدالحمید نے مزید کہا جب بھی یہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو کچھ لوگوں کو ’’اصلاح مدارس اہل سنت ایکٹ‘‘ یاد آتا ہے۔ یہ عناصر در اصل شدت پسندوں کی کارروائیوں سے سیاسی فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں تا کہ ہمارے مدارس کو ’’اصلاح‘‘ کے خوش نما عنوان سے اپنے کنٹرول میں لے لیں۔
انہوں نے مزید کہا ہمارے مدارس اصلاح شدہ ہیں اور ہمیں حکومتی اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نیز اہل سنت کے مدارس کی سرگرمیاں علمی وثقافتی شعبوں تک محدود ہیں۔ اینٹی شیعہ یا حکومت مخالف عناصر کے لیے ہمارے مدارس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے تاکید کی سیستان وبلوچستان ایک انتہائی اہم اور حساس دور سے گزر رہا ہے۔ ہماری راہ اتحاد وبھائی چارہ کی تقویت تھی اور رہے گی۔ بدامنی بلوچ وغیربلوچ، شیعہ اور سنی سمیت سب کے لیے باعث تشویش ہے۔ حکام کو اس ناسور کے خاتمے کے لیے تدبیر ومشورے سے کام لینا چاہیے۔ مزید کشت وخون کا سد باب کرنا ہے تو سارے دانشور، شیعہ وسنی کی سرکردہ شخصیات اور حکام مل بیٹھ کر بدامنی کے واقعات کے پیچھے کار فرما اسباب وعوامل کا مطالعہ کریں۔ تدبیر ودوراندیشی ہی سے صوبے کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔

تصاویر: زیر تعمیر جامع مسجد مکی اورآس پاس کی روڈوں پر فرزندانِ توحید خطبہ جمعہ سن رہے ہیں۔

j-1

j-2

j-3

j-4

j-5

j-7


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں