آج : 22 December , 2010

افغانستان میں شکست کا بدلہ پاکستان سے

افغانستان میں شکست کا بدلہ پاکستان سے
afghanistan-american-army-attackامریکا نے 2014ءتک افغانستان سے فوجیں نکالنے کا اعلان کردیا ہے لیکن افغانستان کا پیچھا نہیں چھوڑا جائے گا، صرف فوجیں نکلیں گی، امریکا نہیں۔ امریکا کے نائب صدر جوبائیڈن نے چند ہفتے پہلے لزبن کی ناٹو کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ امریکا اور افغانستان میں لڑنے والی تمام ناٹو افواج اس پر متفق ہیں کہ 2014ءتک وہاں سے لڑاکا افواج نکال لی جائیں گی۔

گزشتہ پیر کو وائٹ ہاﺅس کے ترجمان رابرٹ گبس نے بائیڈن کے اس اعلان کی توثیق کی اور کہا کہ خواہ کچھ ہوجائی، لڑاکا افواج افغانستان سے نکل جائیں گی۔ مسٹر گبس نے عراق کی مثال بھی دی کہ جس طرح وہاں ہم نے سیکورٹی کے معاملات عراقیوں کو منتقل کردیے اسی طرح افغانستان میں کیا جائے گا۔
ایک صحافی کے اس سوال پر کہ 2014ءتک زمینی حقائق کا ادراک کیے بغیر یہ وعدہ کیسے کرلیا گیا، ترجمان نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال دیکھ کر فوج کی تعداد میں کمی بیشی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یعنی یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں اور اگر چار سال بعد بھی افغانستان میں حالات امریکا اور ناٹو افواج کے قابو سے باہر رہے تو انخلا نہیں ہوگا، ممکن ہے کہ لڑاکا فوج میں کچھ کمی کردی جائے۔ تاہم امریکی صدر کے اعلان کے مطابق جولائی 2011ءسے امریکی فوج کے انخلا کا آغاز ہوجائے گا۔
جوبائیڈن اور وائٹ ہاﺅس کے بیانات سے لگتا ہے کہ یہ عمل 2014ءتک جاری رہے گا اور اگر یہ محسوس ہوا کہ افغانستان میں امریکا کے مقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہوئے تو امریکی فوج کا ایک حصہ افغانستان ہی میں رہے گا۔ ترجمان نے عراق کی مثال دی ہے کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ ہم نے عراق سے انخلا کی جو تاریخ دی ہے اس پر عمل نہیں کرسکیں گے لیکن ہم نے یہ کر دکھایا۔
اب یہ کون نہیں جانتا کہ عراق اور افغانستان کے حالات میں بڑا واضح فرق ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ عراق پر فوج کشی کا امریکا کے پاس کوئی اخلاقی جواز ہی نہیں تھا گوکہ امریکا کو اخلاقیات سے کوئی علاقہ نہیں تاہم وہاں اس کی اور اس کے صلیبی حواریوں کی موجودگی سراسر مجرمانہ تھی جس پر خود امریکا و برطانیہ میں تنقید ہورہی تھی۔
دوسرے یہ کہ عراقیوں کی طرف سے اس مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا جو افغانستان میں نظر آرہی ہے۔
تیسرے یہ کہ امریکا عراقیوں اور عراق کو تقسیم کرنے میں زیادہ آسانی سے کامیاب ہوگیا۔ اس نے شمالی عراق میں کردوں کو داخلی خود مختاری دلوادی اور وسطی و جنوبی عراق کو عملاً سنی اور شیعہ حلقوں میں تقسیم کردیا۔ اس طرح عراق کی رہی سہی طاقت اور یکجہتی کو پارہ پارہ کردیا گیا جو ایک عرصہ تک بحال نہیں ہوسکے گی۔
امریکا کو اپنے اس دعوے پر شرم آنی چاہیے کہ وہ عراق کے معاملات عراقیوں کے سپرد کرنے میں کامیاب ہوگیا اور وہاں اس نے اپنے معیار کے مطابق جمہوریت نافذ کردی۔ اس کے پاس اب تک اس بات کا جواز نہیں ہے کہ اس نے عراق پر حملہ کیوں کیا اور لاکھوں عراقیوں کو قتل کس لیے کیا۔ اب وہ اپنی کامیابی پر فخر کررہا ہے۔
امریکا کو عراق میں جس بڑی تعداد میں اپنے ہم نوا مل گئے تھی، افغانستان میں یہ ممکن نہیں ہوسکا اور افغان اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے عراقیوں سے زیادہ جرات مند اور غیرت مند ثابت ہوئے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افغان ہمیشہ سے آزاد رہے ہیں اور وہ اپنی آزادی کے لیے گزشتہ 31 برس سے مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔ ان مجاہدین کی دوسری اور تیسری نسل میدان میں آچکی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ افغانستان میں بھی امریکا اور اس کے صلیبی حواریوں کو شمالی اتحاد اور پختونوں میں سے بھی ایجنٹ دستیاب ہوگئے ہیں لیکن عام افغان کو غیر ملکی تسلط کسی طرح بھی قبول نہیں۔ افغانستان پر امریکی حملہ بھی بلا جواز تھا کیونکہ نائن الیون کے واقعہ میں کوئی افغان ملوث نہیں تھا۔ اگر امریکا کا مقصد تمام ناٹو ممالک کی افواج جمع کرکے اسامہ بن لادن کو پکڑنا تھا تو اس میں اسے شدید ناکامی ہوئی ہے جس کی قیمت اربوں ڈالر کے علاوہ اپنے فوجیوں کی لاشوں کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
گزشتہ 9 سال میں امریکا اچھی طرح جان چکا ہے کہ آئندہ 9 سال بھی یہی صورتحال رہے گی اور اس کے فوجی ذبح ہوتے رہیں گے۔ مسٹر اوباما کو اپنا اقتدار بھی بچانا ہے جو امریکا میں خطرے میں ہے۔ اس کے پاس افغانستان سے جان بچا کر نکل جانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ لیکن وہ یہاں سے پوری طرح نہیں نکلے گا اور اس نے اپنی نیابت کے لیے بھارت کو بھی تیار کر رکھا ہے لیکن بھارت کو خوف ہے کہ امریکا کے نکل جانے کے بعد اس کی بری طرح درگت بنے گی۔ لیکن اس سے بڑا خطرہ پاکستان کے لیے ہے۔
امریکا سے جو بیانات آرہے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ امریکا افغانستان سے فارغ ہو کر اب پاکستان پر توجہ دینے کی ٹھان رہا ہے۔ یہ بات تواتر سے کہی جارہی ہے کہ القاعدہ اور افغان طالبان کی قیادت پاکستان کے قبائلی علاقوں اور کوئٹہ میں روپوش ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور اطلاعات ہیں کہ آئندہ 6 ماہ میں یہ آپریشن شروع ہوسکتا ہے۔ خیبر ایجنسی پر ڈرون حملے بڑھ گئے ہیں۔ پاک فوج کی قربانیوں کے باوجود اس پر دباﺅ بڑھ رہا ہے اور دھمکی دی جارہی ہے کہ پاکستان نے خود کچھ نہ کیا تو امریکا کارروائی کرے گا۔ ہماری طرف سے صرف یہ حرف تسلی کہ ہم اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

(بہ شکریہ اداریہ جسارت)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں