آج : 20 December , 2010

امربالمعروف ونہی عن المنکر

امربالمعروف ونہی عن المنکر
amr-nahi22 نومبر 2010ء کو جنگ میں چھپنے والے میرے کالم بعنوان ”اگر حیاء نہ رہے…….“ پر مجھے قارئین کی طرف سے بے پناہ ردعمل ملا۔ مجھے یہ جان کر انتہائی خوشی اور دلی اطمینان محسوس ہوا کہ پاکستان کے مسلمان اپنے مذہبی اقدار اور اسلامی شعائر کے بارے میں اسی انداز میں جذباتی وابستگی رکھتے ہیں جیسے ایک کلمہ گو سے توقع کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے علاوہ امریکا، یورپ، مشرق وسطیٰ، جاپان اور دوسرے کئی ممالک سے بھی جنگ کے قارئین نے مجھے اپنی آراء سے آگاہ کیا۔

شاید آپ یقین نہ کریں ماسوائے ایک صاحب کے تمام کے تمام لوگ اِس بات پرمتفق تھے کہ ہم مسلمانوں کو اپنے بنیادی دینی شعار ”حیاء“ کا تحفظ یقینی بنانا چاہئے اور فیشن شوز، کیٹ واکس، بیہودہ اشتہارات اور آرٹ اور کلچر کے نام پر پھیلائی جانے والی بے حیائی پر آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔
ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ فحاشی اور عریانی کو پھیلانے میں مجموعی طور پر میڈیا کا بہت اہم کردار ہے۔ بعض حضرات کا کہنا تھا کہ فحاشی و عریانی کو پھیلانے والے میڈیا کا حصہ ہونے کی وجہ سے میرے لئے یہ مناسب نہیں کہ میں اِس برائی کے متعلق لکھوں۔ اِس سلسلے میں ایک قاری کا کہنا تھا کہ کالم تو بڑا اچھا لکھا ہے لیکن بہتر ہوتا کہ میں یہ سب لکھنے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانک لیتا۔ ان صاحب کے مطابق میں نے جو کچھ بھی لکھا وہ اِس سے سو فیصد اتفاق تو کرتے ہیں مگر اُن کا پوچھنا تھا کہ آیا میں مناسب سمجھوں گا کہ میں اپنی رائے کا اظہارمیڈیا اور خصوصی طور پر ٹی وی چینلز کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی پر کروں۔ اِن صاحب کا کہنا تھا کہ بیہودہ فیشن شوز اور کیٹ واکس کو دکھانے اور پرموٹ کرنے والے بھی تو میڈیاکے لوگ ہیں۔ آخر میں اِس قاری نے بجا طور پر کہا ”اللہ اور رسول کے احکامات سب کیلئے ہیں نہ کہ صرف فیشن شوز (منعقد) کرنے والوں کیلئے۔ جب آپ کے چینلز پرانڈین گانے چلتے ہیں تب آپ کو اللہ اور رسول کے احکامات یاد نہیں آتے؟ برائے مہربانی ذرا یہ بھی بتائیں کہ دن میں پانچ نمازیں ہوتی ہیں اور آپ کے چینل پرکتنی بار اذان نشر ہوتی ہے اور کتنی بار گانے چلتے ہیں…؟؟”
مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے لوگ بے حیائی کو بُرا جانتے ہیں۔میری ذاتی رائے میں بھی پاکستان میں فیشن شو، کیٹ واکس، اشتہارات اور فلمی گانوں کے ذریعے فحاشی کو پھیلانے پر میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجھے اِس برائی کے متعلق محض اس لیے نہیں لکھنا چاہیے کیوں کہ میرا تعلق خود میڈیا سے ہے؟، کیا میڈیا سے تعلق رکھنے والا ہر شخص میڈیا کے اِس کردار کو اچھی نظر سے دیکھتا ہے؟ میرا یہ ایمان ہے کہ ہر انسان کو اسکے کئے کا جواب دینا ہے جیسا کہ حضرت محمد صلى اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے“۔ یقیناً مجھ سے یہ سوال ہو گا کہ میں نے اپنی صحافت کس اندازمیں کی؟
مجھے اِس بات کا مکمل احساس ہے کہ مجھے اپنے لکھے جانے والے ایک ایک لفظ کا اپنے اللہ کو جواب دینا ہے۔ مجھ سے میری رعیت کے بارے میں بھی پوچھا جائیگا، مگر میں کیسے کسی دوسرے کے اعمال کا جواب دہ ہو سکتا ہوں یا مجھے کیوں کسی دوسرے کے کیے پرذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، اگر میرا کوئی بھائی غلط کام کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے ”امر بالمعروف“ اور ”نہی عن المنکر“ کی اپنی ذمہ داری کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ کیسی منطق ہے!!
بے حیائی اور عریانی کو پھیلتا دیکھ کر اگر صدر ، وزیراعظم ، وزراء ، سیاسی رہنما اور پارٹیاں ، سپریم کورٹ ، ایم این ایز ، سینیٹرز ، پارلیمنٹ ، میڈیا اور مجموعی طور پر معاشرہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے تو کیا اِس پر میرے یا کسی دوسرے کے لیے بھی زبان بندی لازم ہے؟ یاد رکھیں قرآن پاک نے بنی اسرائیل کی تنزلی کے جو اسباب بیان کیے اُن میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ برائیوں سے ایک دوسرے کو باز نہ رکھتے تھے…!!
اگرہمارے راعی (صدر ، وزیراعظم ، پارلیمنٹ ، سپریم کورٹ ، سیاسی قائدین وغیرہ) اس مسئلہ پر اپنی اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ اپنی اپنی رعیت کے بارے میں وہ اللہ تعالی کو ہر صورت جوابدہ ہوں گے تو میں پاکستان کے ہر گھرانے کے سربراہ (راعی) سے پوچھنا چاہوں گا کہ وہ اپنے بچوں اور خاندان (رعیت) کو بے راہ روی اور بے حیائی سے روکنے کیلئے کیا کر رہے ہیں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ بچوں کیلئے کیبل اور ڈِش کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور اُمید کی جا رہی ہے کہ حکومت یا میڈیا کچھ کریں تو کریں ہماری تو کوئی ذمہ داری نہیں۔کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اپنے بچوں کو کم عمری میں موبائل تھما کر ان کے ساتھ کیسی” ہمدردی” کی جا رہی ہے؟ کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے بچے موبائل کمپنیوں کے واہیات اشتہارات سے مرعوب ہو کر کس بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں؟ کیا پمرا چیئرمین اور حکومت و عدالت ہمیں بتا سکتے ہیں کہ اِس وقت غیرقانونی طور پر
درجنوں انڈین اور مغربی ٹی وی چینلز کو کس قانون کے تحت ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے؟ اِن غیرقانونی ٹی وی چینلز کو بند کیوں نہیں کیا جاتا۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے غیرقانونی انڈین اور مغربی چینلز کو بند کرانے اور ملکی میڈیا میں بے حیائی کیخلاف احتجاج کیا یا عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے۔ کتنے لوگ فحش فیشن شوز اور گٹھیا کیٹ واکس کے خلاف روڈ پر نکلے، اگر ہم بولیں گے نہیں اور برائی کو برائی کہنے سے عار محسوس کریں گے تو پھر برائی کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟۔
مجھے معلوم ہے کہ میرے لکھے جانے سے یہاں کوئی انقلاب آنے والا ہے اور نہ ہی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ اپنی تمام تر کمزوریوں ، گناہوں اور کوتاہیوں کے باوجود میں اگر یہ کوشش کر رہا ہوں کہ معاشرتی برائیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے اور ذمہ داروں کے ضمیر کو جھنجھوڑا جائے تو ہو سکتا ہے کہ کسی پر اِس کا اچھا اثر پڑ جائے۔
ہو سکتا ہے کہ کوئی بڑا ”راعی“ اِن کمزوریوں کو دور کرنے کے بارے میں سوچے جس سے اُن کی رعیت میں خرابیوں کے پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔ میں یہاں اپنے قارئین کو یہ خوشخبری سنانا چاہوں گا کہ میرے 22نومبر کے کالم پڑھنے کے بعد ہمارے ملک کی ایک اہم میڈیا کی شخصیت نے اپنے میگزینز میں فحاشی و عریانی کے زمرے میں آنے والی تصویریں شائع نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ اُس شخصیت کو اپنے فیصلہ پر عمل درآمد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اُنکے اِس عمل کو اُنکی بخشش کا ذریعہ بنائے۔آمین۔
یہاں میں یہ بھی اپنے قارئین کو بتانا چاہوں گا کہ میری ، میرے ادارے کی ایک اہم شخصیت سے بھی اِس موضوع پر بات ہوئی ہے جس پر مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اِس معاملہ کا مکمل جائزہ لیکر اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور کسی بھی قسم کی بے ہودگی کو دکھانے سے گریز کیا جائے۔ اللہ یہ کام کرنے کی اُن کو توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔
میری پاکستان کے تمام میڈیا مالکان سے درخواست ہے کہ وہ اپنے اخبارات اور ٹی وی چینلز کی عریانی و بے حیائی کے تناظر میں پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ اِسلامی اقدار اور شعائر کو پھیلایا جائے نہ کہ اُن کو نشانہ بنایا جائے۔ میڈیا کی یقیناً بہت اہم ذمہ داریاں ہیں اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ مجموعی طور پر میڈیا کرپشن ، ظلم و زیادتی ، ناانصافی ، نااہل حکمرانی اور دوسرے مسائل کو اُجاگر کرنے میں اہم کردار اداکر رہا ہے، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہم نے فحاشی و عریانی کو پھیلانے میں کسی طرح بھی کوئی کردار ادا کیا تو ہم سے اِسکی سخت پوچھ گچھ ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ سورة النور میں فرماتے ہیں ”بے شک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیل جائے ان کے لیے دُنیا و آخرت میں درد انگیز عذاب ہے اور اللہ تعالی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے “(النور19)۔
میڈیا مالکان اور صحافی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے تعمیری اور صحیح استعمال کو یقینی بنا کرمیڈیا کو اپنے لئے صدقہٴ جاریہ بنا سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہی میڈیا اُن کیلئے ”گناہِ جاریہ“ نہ بن جائے۔

انصار عباسی
(بہ شکریہ اداریہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں