آج : 15 December , 2010

جے یو آئی کی علیحدگی‘ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ

جے یو آئی کی علیحدگی‘ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ
molana-fazlurrahmanپاکستان کی سیاست میں اچانک ہی گرماگرمی آگئی ہے اور کسی بڑی تبدیلی کے خدشات سامنے آگئے ہیں۔ کیا یہ ان حاجیوں کی بددعا ہے جن کو اس سال بری طرح لوٹا گیا اور تنگ کیا گیا؟

حج کے معاملات میں بدعنوانی اور نااہلی کی تحقیقات ابھی جاری ہے اور عدالت عظمیٰ از خود کارروائی کے تحت مقدمہ کی سماعت کررہی ہے لیکن منگل کو اچانک ہی دو وفاقی وزرائ‘ وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کو برطرف کردیا گیا۔ معاملہ یہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ جمعیت علماءاسلام نے بغیر کسی اطلاع اور مشورے کے اپنے سینیٹر اعظم سواتی کی برطرفی پر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔
جے یو آئی اور متحدہ قومی موومنٹ پیپلزپارٹی کی حکومت کے ان اتحادیوں میں سے ہیں جو حکومتی رویے پر بار بار احتجاج تو کرتے رہے ہیں لیکن اقتدار سے الگ ہونے کا عملی قدم کبھی نہیں اٹھایا۔ جے یو آئی یہ قدم اٹھاچکی ہے تاہم ایم کیو ایم عشرہ محرم کے بعد صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کوئی فیصلہ کرے گی اور ممکن ہے کہ اس عرصہ میں ایک بار پھر جناب رحمن ملک کو کراچی آنے کی زحمت اٹھانا پڑے۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کے حامد سعید کاظمی اور جے یو آئی کے اعظم سواتی کی برطرفی کا معاملہ ہے تو اس میں حیران کن امر یہ ہے کہ حامدسعید تو بدعنوانی کے الزامات کی زد میں تھے لیکن اعظم سواتی پر ایسا کوئی الزام نہیں ہے۔ چنانچہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی وزیر کو بدعنوان نہ ہونے پر فارغ کیا گیا ہو۔
حامد سعید کاظمی کا دعویٰ ہے کہ ا ن پر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں جس کا وہ دفاع کریں لیکن وہ عدالت میں اعتراف کرچکے ہیں کہ حج کے انتظامات میں بدعنوانی ہوئی ہے۔ کسی بھی ادارے میں بدعنوانی ہو تو اس کا سربراہ ذمہ دارقرار پاتا ہے۔ الاّ یہ کہ اس نے بدعنوانی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہو‘ اس کی روک تھام کی کوشش کی ہو یا ذمہ داران کی پکڑ کی ہو۔ چنانچہ حامد سعید کاظمی سے پوچھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس ضمن میں کیا کیا؟ جب کہ یہ حقیقت بھی ریکارڈ پر ہے کہ حج کا موسم شروع ہونے سے پہلے ہی انتظامی خرابیاں ان کے علم میں لائی جاچکی تھیں۔ارکان پارلیمان پر مشتمل حج کمیٹی نے واپسی پر اپنی رپورٹ میں ان خرابیوں کی نشاندہی کردی تھی لیکن ایک ٹی وی پروگرام میں وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی ہر بات سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے۔ پھر انہوں نے حکومت سعودی عرب پر الزام عائد کرتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کردیا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ کیا اس کی وجہ مسلکی اختلاف تھا؟
حامدسعید کاظمی نے برطرفی کے فوراً بعد بھی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے اعظم سواتی کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ مجھ پر الزام لگانے والوں کا نہ عقیدہ درست ہے‘ نہ کردار۔ الزامات اگر غلط ہیں تو ان کا دفاع کیا جائے جبکہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں ہے اس میں عقیدہ کہاں سے آگیا؟ ایسا لگتا ہے کہ حامد سعید کاظمی دیوبندی ‘ بریلوی اختلافات کا سہارا لے کر مسلک کی چادرمیں خود کو چھپانا چاہ رہے ہیں۔
برطرفی سے ایک دن پہلے گزشتہ پیر کو اعظم خان سواتی نے عدالت عظمیٰ میں بیان جمع کروایا کہ کابینہ میں ان کے رفیق احمد سعید کاظمی اس سال کے حج آپریشن میں بدعنوانی اور بدانتظامی میں ملوث ہیں۔ اس موقع پر کاظمی صاحب کے وکیل صفائی سردار عبداللطیف کھوسہ نے عجیب مطالبہ کیا کہ اعظم سواتی کو الزام تراشی سے پہلے وزارت سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا جس پر فاضل جج مسٹر جسٹس رمدے نے کہا کہ الزامات کے باوجود کسی وزیر کا کابینہ میں بیٹھے رہنا حیرت انگیز ہے ۔ یعنی استعفیٰ تو حامد سعید کو دینا چاہیے تھا۔ بہرحال اب دونوں ہی فارغ ہوگئے ہیں۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایک ہی دن پہلے تو جناب صدر ایوان صدر میں حامد سعید کاظمی سے ملاقات کے دوران ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کررہے تھے اور ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کررہے تھے۔ کیا وہی قابل قدر خدمات جن کے بارے میں عدالت عظمیٰ میں مقدمہ چل رہا ہے اور ایف آئی اے کاظمی صاحب کو طلب کرکے گھنٹوں پوچھ گچھ کرتی رہی ہی؟
کہا جارہا ہے کہ دونوں وزراءکی برطرفی کا اصل سبب یہ ہے کہ جب وزیراعظم نے ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور بیان بازی کرنے سے منع کردیا تھا تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوا اور معاملہ عدالت میں کیسے پہنچا۔ وزیراعظم دونوں وزراءکونظم و ضبط کا پابند کرنے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے چلتاکردیا۔
حکومت نے سیکرٹری مذہبی امور کوبھی تبدیل کردیا۔ بدعنوانی کی تحقیقات ابھی جاری ہے لیکن ایک اور اہم پہلو تحقیق طلب ہے۔ سابق ڈائرکٹرجنرل حج مشن راﺅ شکیل حراست میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ان پر بدعنوانی کے مقدمات چل رہے تھے اوران کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل تھا تو انہیں ڈی جی حج مشن بنا کر کس نے سعودی عرب بھیجا ۔ کیا یہ وزیراعظم کے حکم پر نہیں ہوا اور کیا ای سی ایل سے ان کا نام وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی ہدایت پر نہیں نکالا گیا؟ شفاف تحقیقات ہوئی تو بات بہت دور تک جائے گی۔
عدالت عظمیٰ کا عزم ہے کہ حج اسکینڈل میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرکے رہین گے‘ جسے جو کرنا ہے کرلے۔ تاہم اس پس منظر میں حکومت سے جے یو آئی کی علیحدگی کسی بڑی تبدیلی کا پیشہ خیمہ ہے۔

(بہ شکریہ اداریہ جسارت)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں