آج : 12 December , 2010

سازش، سازش اور سازش

سازش، سازش اور سازش
sazesh-noسازش، سازش اور سازش۔ کان پک گئے اس لفظ کو سنتے سنتے۔ اپنی حماقتوں کی سزا دہشت گردی کی صورت میں ملے تو آواز بلند ہوتی ہے کہ سازش ، سازش۔ حقیقی علمائے دین بیان کرتے ہیں کہ خود احتسابی کی بجائے اپنی غلطیوں کیلئے دوسروں کو ذمہ دار قرار دینا قرآنی اصولوں کے منافی عمل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کفارمکہ اور یہود ونصاریٰ حضور صلى الله عليہ وسلم کے خلاف ہمہ وقت ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے تھے لیکن جواب میں حضور صلى الله عليہ وسلم نے خوداحتسابی اور تزکیہ نفس پر زور دیا۔ جنگ احد میں مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا توقرآن نے مخالفین کی سازشوں کے تذکرے کے بجائے اصحاب رسول صلى الله عليہ وسلم کو متنبہ کیا۔

سازش دنیا کی ہر غالب قوت کرتی رہتی ہے اوریقینا امریکہ اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ یہود وہنود کا سازشی ہونا تو ایک تاریخی حقیقت ہے ۔اس وقت مسلمانوں اور بالخصوص جہادیوں کو امریکہ اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے اورلاریب پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی یہود وہنود کو گوارا نہیں۔بلاشبہ مسلمان امت اور پاکستان کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی وہ ہر حربہ استعمال کررہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چین کا موجودہ یا متوقع مقام و مرتبہ انہیں گوارا ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ سازش ان کے خلاف کارگر کیوں نہیں؟
ملائیشیاء کے خلاف اس طرح کی سازشیں کیوں کامیاب نہیں ہوئیں اور ترکی کیوں مغربی اثر سے آزاد ہوتا جارہا ہے؟ شیکسپئر نے کہا تھا کہ اگر آپ کی کمر ٹیڑھی نہ ہو تو اس پر دوسرا سواری نہیں کرسکتا (A man can not ride your back unless it is bent) ۔ جو فرد یا قوم اپنی کمزوری یا نااہلی سے مخالف کے لئے جگہ نہیں چھوڑتی،اس کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اچھا ہی بہانہ ہے جو ہم نے تراش رکھا ہے اپنی ہر بے وقوفی، نااہلی اور دوغلے پن پر پردہ ڈالنے کے لئے ۔
کشمیر اگر آج ہندوستان کے زیرتسلط ہے تو اس میں خود اس وقت کی مسلم لیگی قیادت اور بعد کی ہماری پالیسیوں کا بھی بڑا دخل ہے لیکن ہم اپنے احتساب کی بجائے صرف یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ بس ہندوستان نے سازش کی، اس لئے کشمیر غلام رہ گیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا راستہ ہماری حماقتوں، زیادتیوں اور بلنڈرز نے ہموار کیا لیکن آج بھی اپنی غلطیوں کے اعتراف کے بجائے ہم نئی نسلوں کو بتارہے ہیں کہ ہم نے تو کوئی غلطی نہیں کی لیکن ہندوستان اور امریکہ نے سازش کے ذریعے اسے الگ کیا۔
آنکھیں بند کرکے ہم نے سوویت یونین کے خلاف امریکہ کے منصوبے میں اپنے معاشرتی اسٹرکچر کو تباہ کرکے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا۔ یہ نہیں سوچا کہ اس جنگ کا فائدہ کس کو ہوگا اور خود ہمیں کیا بھیانک نتائج بھگتنے ہوں گے اور پھر جب غلط نتیجہ نکلا تو خوداحتسابی کی بجائے ہم بڑی آسانی کے ساتھ کہتے پھررہے ہیں کہ ہماری قربانیوں سے تو افغانستان کو جنت بن جانا تھا لیکن امریکہ نے سازش کرکے مجاہدین کو آپس میں لڑوایا۔
اس وقت وزیرستان سے لے اسلام آباد تک اور باجوڑ سے لے کر کراچی تک آگ و خون کا جو کھیل جاری ہے اس کی نظریاتی بنیادیں ہم نے خود استوار کیں، اس کے لئے ماحول خود بنایا اور دونوں طرف اسی دھرتی کے اپنے ہی بچے ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں لیکن ہم سازش، سازش اور سازش کی ورد کرتے ہوئے بڑی آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو مبرا کرنا چاہتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ہم اگر آپس میں نہ لڑتے تو یہود وہنود کی سازش کیسے کامیاب ہوتی ؟
آج اگر مغربی اقوام دنیا پر حکمرانی کررہی ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنا احتساب کرتی ہیں اور ہم پاکستانی اگر ذلیل و خوار ہورہے ہیں تو ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کے اعتراف کی بجائے ان کے لئے عذر تلاش کرتے اور ناکامی کو بھی کامیابی باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میں جب پہلی مرتبہ امریکہ گیا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جو جنگیں (سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ یا عراق کی پہلی جنگ) انہوں نے جیتی ہیں، ان کی کوئی یادگار موجود نہیں لیکن ہاری ہوئی جنگ ویتنام کی یادگاریں ہر جگہ نظرآتی ہیں۔ ایک امریکی گائیڈ سے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ جنگ ویتنام کی یادگاریں اس لئے بنائی ہیں تاکہ وہ ہمیں اپنی غلطی کی یاد دلاتی رہیں اور ہم مستقبل میں اس غلطی کو نہ دہرائیں۔ اس کے برعکس ہم ہیں کہ ہندوستان کے مقابلے میں ہاری ہوئی جنگوں کا تذکرہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔
سازش، سازش اور سازش کے نعرے لگا لگا کر ہماری مذہبی اور سیاسی قیادت نے پاکستانی قوم کی ایسی عجیب وغریب نفسیات بنادی ہیں کہ اب اسے ہر کام سازش نظر آتی ہے اور اس کی اکثریت کے لئے سچ اور جھوٹ، کھرے اور کھوٹے یا پھر دوست اور دشمن میں تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
وکی لیکس کی ابتدائی انکشافات سامنے آئیں تو جماعت اسلامی کے سید منور حسن میدان میں آئے اور اسے اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش سے تعبیر کیا۔ پھر جس کا نام آتا رہا وہ اسے یہود وہنود کی سازش باور کرانے کی کوشش کرتا رہالیکن حقیقت یہ ہے کہ جولین اسانج نے امریکہ کو جو نقصان پہنچایا وہ لاکھوں دھرنوں، ہزاروں مخالفانہ کتابوں بلکہ مسلمان انتہاپسند تنظیموں کی کارروائیوں سے بھی اسے نہیں پہنچا۔ ان لوگوں کی حرکتوں سے تو بعض اوقات امریکہ کو فائدہ پہنچتااور اسلام یا پاکستان کے خلاف اس کا کیس مضبوط ہوتا ہے لیکن جولین اسانج نے اس کے مکروہ چہرے پر سے نقاب اتار کے رکھ دیا اور مستقبل میں امریکیوں کی سفارت کاری اور جاسوسی کے کام کو نہایت مشکل بنا دیا۔
جولین اسانج کی اس کاوش کا مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی بہت فائدہ پہنچا۔ہمارے مقتدر طبقات کے وہ کرتوت جو ہم جیسے اخبار نویس ہزار سالوں میں بھی سامنے نہیں لاسکتے تھے، وکی لیکس کی رپورٹس سے سامنے آگئے۔
مسلمان حکمران اب مستقبل میں قوم فروشی کرتے ہوئے کم از کم ذرا احتیاط سے کام لیں گے۔ تماشہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے وکی لیکس کو امریکہ کی سازش سے تعبیر کیا ، وہ بھی اب وکی لیکس کے مواد کواپنے مخالفین کے خلاف استعمال کررہے ہیں ۔سازشی تھیوریز پھیلانے والوں پرکئی صفحات لکھے جاسکتے ہیں لیکن یوں بھی ختم کرنا ضروری ہے کہ کہیں اس کالم کو بھی امریکی سازشوں کی فہرست میں شمار نہ کردیا جائے ۔

سلیم صافی
(بہ شکریہ اداریہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں