آج : 8 December , 2010

کوئٹہ پر ڈرون حملوں کے خطرناک مضمرات

کوئٹہ پر ڈرون حملوں کے خطرناک مضمرات
droneخان آف قلات کے اعلان آزادی کے جواز و عدم جواز اور بعد میں پیش آنے والے حالات و واقعات کی تفصیل میں جانے سے پہلے ایک فوری معاملے پر ارباب اقتدار اور اہل فکر و نظر کی توجہ دلانا ضروری ہو گیا ہے جو ملک و قوم خصوصاً بلوچستان میں امن و سکون کیلئے خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہ امریکی ڈرون حملوں کا دائر کار کوئٹہ تک بڑھانے کا معاملہ ہے جس نے بلوچستان کے پشتون علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ نے وزیرستان سمیت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون طیاروں کی بمباری کے مطلوبہ نتائج اپنی مرضی کے مطابق حاصل نہ ہونے کے بعد کوئٹہ اور اردگرد کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی حکام کو شبہ ہے کہ ان علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجو چھپے ہوئے ہیں جو خفیہ اڈوں سے نکل کر حفاظتی حصار توڑتے ہوئے افغانستان میں داخل ہو جاتے ہیں اور امریکی اور نیٹو فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ اس سے اتحادیوں کی فوجی کارروائیاں ناکام ہو رہی ہیں اور حامد کرزئی کی امریکہ نواز حکومت کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں۔
امریکا پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ کوئٹہ اور گردونواح کے علاقوں پر ڈرون حملوں کی اجازت دے۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سینئر قیادت ان علاقوں میں روپوش ہے اور امریکا کے خلاف جنگی کارروائیوں کو منظم کر رہی ہے۔ پاکستان نے اس کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے انسداد میں مدد دینے کی بجائے اس میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اس لئے اس طرح کے حملوں کا دائرہ کار بڑھانا پاکستان کو کسی صورت قبول نہیں۔ پاک فوج دہشت گردی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی پاکستان خود کارروائی کرے گا۔
کوئٹہ پر ڈرون حملوں کی اجازت طلب کرنا اور ہماری حکومت کی جانب سے اسے مسترد کرنا محض لفظوں کی صنعت گری ہے ورنہ سب لوگ جانتے ہیں کہ امریکا جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہے تو اس پر عملدرآمد کیلئے کسی کی اجازت کا محتاج نہیں ہوتا اپنی اس روش کا مظاہرہ وہ وزیرستان، اورکزئی، باجوڑ سمیت خیبرپختونخوا سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کر چکا ہے اور پاکستان کی طرف سے بار بار احتجاج کے باوجود اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ خبریں تو یہ بھی شائع ہوئی ہیں کہ ان کاموں میں ہمارے حکمرانوں کی غیر اعلانیہ رضا مندی شامل ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر ڈرون حملے میں اگر ایک عسکریت پسند مارا جاتا ہے تو دس بیگناہ شہری شہید ہوتے ہیں اب تک قبائلی علاقوں میں اس طرح کے سو سے زائد حملے کئے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں اکثریت بے قصور، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اس قتل و غارت کے خلاف قبائل کا ردعمل فطری تھا۔ ایک طرف وہ پاکستان سے بدظن ہوئے تو دوسری طرف اپنے پیاروں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کیلئے طالبان کی طرف دیکھنے لگے یوں طالبان جو کام شاید خود نہ کرسکتے اس کیلئے نیٹو افواج نے راہ ہموار کردی۔ امریکا نے قبائلی علاقوں میں پاکستان کے مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جوکسر رہ گئی تھی اسے اب وہ کوئٹہ میں پوری کرنا چاہتا ہے۔ کوئٹہ ایک گنجان آباد شہر ہے چھبیس ستائیس لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں اکثریت پشتونوں کی ہے ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ان پناہ گزینوں میں نہ صرف افغان بلکہ ازبک‘ تاجک اور دوسری نسلوں کے لوگ بھی ہیں۔وہ سرچھپانے کیلئے یہاں کچی آبادیاں بنا رہے ہیں اور محنت مزدوری کے علاوہ چھوٹے موٹے کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ ان مہاجرین کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔ اکثر نے تو شناختی کارڈ بھی بنوالئے ہیں۔ نادرا نے ایسے 25ہزار جعلی شناختی کارڈوں کا پتہ چلا کر انہیں منسوخ کردیا ہے جن لوگوں کی رجسٹریشن ہوئی ہے انہیں بھی 2012 تک واپس چلے جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی خفیہ ایجنسیوں اور نیٹو کے سراغرساں اداروں کا خیال ہے کہ افغانستان میں سب سے زیادہ شورش والے صوبوں زابل، غزنی، قندھار اور ہلمند میں کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں کا مرکز کوئٹہ ہے۔ ان علاقوں میں نیٹو فورسز پر حملے کیلئے آنے والے طالبان کوئٹہ سے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ طالبان کی کوئٹہ شوریٰ کروا رہی ہے۔ نیٹو کا دعویٰ تو یہ بھی ہے کہ ملاعمر بھی یہیں کیں چھپے ہوئے ہیں پاکستان ان الزامات کی بار بار تردید کر چکا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ امریکا نے گزشتہ سال مارچ میں حکومت پاکستان کو خبردار کئے بغیر کوئٹہ شہر اور نواحی آبادیوں کچلاک‘ پشتون آباد‘ خروٹ آباد اور نواکلی وغیرہ کے علاوہ پشتون آبادی کے بڑے شہروں پشین، چمن، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ اور ژوب کے بعض علاقوں پر بھی ڈرون حملوں کا منصوبہ بنا لیا تھا مگر باخبر حلقوں کے بقول کوئٹہ قلعہ عبداللہ اور چمن کے راستے نیٹو افواج کو ایندھن‘ سامان حرب اور خوردونوش کی اشیاء لے جانے والے دیوہیکل کنٹینروں کو لاحق خطرات کے پیش نظر عارضی طور پر یہ ارادہ موخر کر دیا۔ اس میں حکومت پاکستان کی دفاعی کمیٹی کے سخت موقف اور اسلام آباد میں امریکی سفیر سے بااثر پشتون رہنماؤں کی ملاقات کا عمل دخل بھی کارفرما تھا۔ تاہم امریکاکے عزائم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اس نے صوبے میں مخبری کا بڑا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ خصوصاً دارالحکومت کوئٹہ میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی خفیہ ایجنسیاں کافی عرصہ سے سرگرم ہیں۔ کوئٹہ میں سی آئی اے کے اہلکار ایک عرصہ سے کام کر رہے ہیں۔ انہیں تقریباً تمام مقامی زبانوں خصوصاً پشتو بلوچی اور فارسی پر عبور حاصل ہے۔ امریکی کارندے پشتو روانی سے بولتے ہیں۔
عید سے قبل اعلیٰ امریکی حکام کے دورے‘ کوئٹہ میں امریکی قونصل خانے کے قیام کی خواہش کا اظہار اور قندھار سے نیٹو حکام کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کوئٹہ آنا جانا بھی امریکی عزائم کی تکمیل کا حصہ ہیں۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ نہ صرف طالبان کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے بلکہ یہ افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کو پیسے‘ افرادی قوت اور دھماکہ خیزمواد بھیجنے کا بھی ذریعہ ہے۔ طالبان نے مبینہ طور پر اسی طرح کے مراکز بعض دوسرے شہروں میں بھی قائم کر رکھے ہیں جو افغانستان کی سرحد کے قریب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے کوئٹہ پر ڈرون حملوں کی مخالفت کی ہے مگر یہاں سی آئی اے کی موجودگی بڑھانے سے اتفاق کیا ہے تاکہ وہ پاکستان کے خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر طالبان شدت پسندوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کرسکیں۔ امریکہ صوبے کے شمالی علاقوں میں طالبان اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف پاکستان سے باقاعدہ فوجی آپریشن کا مطالبہ کررہا ہے۔ سی آئی اے اور آئی ایس آئی مبینہ طور پر پہلے ہی روز مرہ بنیاد پرمشترکہ کارروائیاں کر رہے ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران طالبان کمانڈر ملا برادر سمیت کئی اہم عہدیداروں کو گرفتارکرچکے ہیں۔ کسی کو پکڑنے کیلئے آپریشن کی قیادت آئی ایس آئی کرتی ہے جبکہ انٹیلی جنس معلومات امریکہ کے جدید جاسوسی آلات کی مدد سے حاصل کی جاتی ہے۔
کوئٹہ میں محدود امریکی فوج اور جنگی و جاسوس طیاروں کی موجودگی کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئی ہیں جنکی حکومت پاکستان نے تردید کی ہے لیکن شہر اور حساس حلقوں میں امریکی اور یورپی باشندے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جو بلامقصد یہاں نہیں آئے ہوں گے۔
امریکہ نے کوئٹہ پر پائلٹ کے بغیر چلنے والے ڈرون طیاروں سے حملے شروع کئے تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے اس لئے حکومت پاکستان کو سختی سے انہیں روکنا ہوگا۔ شمالی و جنوبی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں میں کم جانی نقصان ہوتا ہے کیونکہ وہاں آبادی بکھری ہوئی ہے۔ کوئٹہ جیسے گنجان آباد شہر اور نواحی بستیوں پر حملے ہوئے تو نقصان ہزاروں میں ہوگا اور یہ زیادہ تر بے گناہ پشتون ہوں گے۔
بلوچستان کے پشتون علاقے بنیادی طور پر افغانستان ہی کا حصہ تھے اس لئے یہاں افغانستان کے افغانوں اور دوسری نسلوں کے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ان کے آپس میں گہرے مذہبی نسلی لسانی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اکثر کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں اس لئے جب پشتونوں اور ان کے قرابت داروں کا خون بہنے لگا تو پشتون خاموش نہیں بیٹھے رہیں گے۔ اس سے صوبے اور ملک میں شورش اور بدامنی کو ہوا ملے گی۔

مجید اصغر
(بہ شکریہ اداریہ روزنامہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں