آج : 6 December , 2010

واللہ یہ گزرے لوگوں کی داستانیں نہیں

واللہ یہ گزرے لوگوں کی داستانیں نہیں
pak-us-flagگزشتہ بدھ کی شام وکی لیکس کے پاکستانی سول و فوجی قیادت اور سیاستدانوں کے بارے میں انکشافات سن اور پڑھ کر انتہائی مایوسی کی حالت اور بوجھل دل کے ساتھ گھر پہنچا۔ کسی سے بات کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا اور اپنے پاکستانی ہونے پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا امریکا کی غلامی میں ہم اس حد تک گر چکے ہیں۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہماری اعلیٰ قیادت امریکیوں سے اس حد تک آس لگا بیٹھے کہ اللہ کو بھلا دیا۔ ا مریکہ کو اپنا آقا سمجھ بیٹھے اور ٹکے ٹکے کے امریکی اہلکاروں کو اپنا رازداں بنا لیا۔سب کچھ غیر محفوظ دکھائی دیا۔ صدر، وزیراعظم، بڑے بڑے سیاسی قائدین، فوجی قیادت سب کے سب مشکوک ہو کر رہ گئے۔

بستر پرلیٹ کر رات گئے سوچتا رہا کہ اب اس قوم اور ملک کا کیا بنے گا۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ آخر ہمارے سب بڑوں کو ایک دوسرے کی شکایت کیلئے آخر امریکی ہی کیوں ملے۔ گھر کی بات دشمنوں اور شریکوں کے ساتھ کرنے کی منطق سمجھ میں نہ آئی۔ جمعرات کی صبح نماز کیلئے اٹھا۔ نماز پڑھنے کے بعد معمول کے فیملی درس میں شامل ہوا ۔ سورہٴ اٰل عمران کی تلاوت و تفسیر کو وہیں سے شروع کیا جہاں ایک روز قبل ختم کیا گیا تھا۔ میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب اس درس کے دوران ہم نے سورہٴ اٰل عمران کی آیت نمبر118 اور 119 پڑھنا شروع کیاکیوں کہ ان آیات میں اللہ نے مسلمانوں کو تنبیہہ کی کہ وہ غیرمسلموں کو اپنا رازداں نہ بنائیں۔ میری زبان سے ایک دم اللہ اکبر کے الفاظ نکلے۔ یہ قرآن پاک کا وہ معجزہ ہے جس کا بارہا میں نے مشاہدہ کیا۔ جب بھی میرے ذہن میں کوئی خلش پیدا ہوئی، سوال اُٹھا اسی انداز میں ہمیشہ قرآن پاک کھولنے پراللہ نے میری رہنمائی کی ۔
قارئین کی دلچسپی کیلئے ذیل میں سورہٴ اٰل عمران کی آیت نمبر118 کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ پڑھنے سے قبل قارئین سے گزارش ہے کہ وہ صدر،وزیراعظم، آرمی چیف، مولانا فضل الرحمن، عبدالرحمن ملک، اسفندیار ولی وغیرہ کی امریکی اہلکاروں کے ساتھ مبینہ رازونیاز کی باتوں کو اپنے ذہن میں رکھیں جن کا انکشاف وکی لیکس نے کیا۔ سورہٴ اٰل عمران کی آیت 118 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
”اے ایمان والو تم اپنے سوا غیر لوگوں (غیرمسلموں) کو اپنے ہاں کی رازدارانہ باتیں کبھی نہ بتانا وہ لوگ(غیرمسلم)تمہیں (مسلمانوں کو) نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ ان کی دلی خواہش یہی ہوتی ہے کہ تمہیں نقصان اور تکلیف پہنچے۔ تم سے بغض اور دشمنی ان کی زبانوں سے ظاہر ہو چکی ہے لیکن ان کے سینوں میں جس قدر تمہاری دشمنی پوشیدہ ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے(جو ان کی زبانوں پر ہے) ۔اگر تم عقل سے کام لو تو ہم نے اپنی آیات تمہارے لئے کھول کر بیان کر دی ہیں“۔
آیت 119 میں ان مسلمانوں کیلئے پیغام ہے جو غیرمسلمانوں کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ ہمارے وہ سول و عسکری رہنما جنہوں نے امریکیوں کو اپنا دوست سمجھ کر اپنے دل کے راز بتائے اور میاں نواز شریف صاحب جن کو ویکی لیکس نے امریکی اہلکاروں سے اپنا امریکی حمایتی ہونے کا یقین دلاتے ہوئے دکھایا ذرا غور فرمائیں اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ پر ”یہ تم ہی ہو جو ان سے سچی محبت کا دم بھرتے ہو لیکن وہ تمہیں ہرگز دوست نہیں رکھتے……“
وکی لیکس نے اللہ رب العزت کی ایک ایک بات کو سچ کر دکھایا۔ امریکہ نے کس طرح صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، وزیر داخلہ، مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی، ایم کیو ایم اور کئی دوسروں کے ان تمام رازوں کو فاش کر دیا جو ان تمام حضرات نے انتہائی رازداری میں امریکی اہلکاروں کو بتائے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لبرل فاشسٹ اوراسلام سے شرمندہ شرمندہ رہنے والے مغرب زدہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد اوپر دی گئی قرآنی آیات کے ترجمہ پر غور کرنے کے خلاف کوئی توجیح پیش کریں مگر یاد رکھیں سورة المطفّفین کی آیت 113 میں اللہ تعالیٰ جھٹلانے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتا ہے، ”جب اسے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو گئے لوگوں کی داستانیں ہیں“۔
اگرچہ امریکا صدرزرداری سے ان کی لبرل سوچ اور وزیراعظم گیلانی سے ان کی بے بسی کی وجہ سے کسی حد تک مطمئن دکھائی دیئے مگراس کے باوجود وہ کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ اس بات کی بھی قرآن گواہی دیتا ہے کہ یہودونصاریٰ اور مشرکین اس وقت تک مسلمانوں سے خوش نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر ان کے مذہب کونہ اپنا لیں۔ وکی لیکس نے ابھی نجانے اور کتنے اور کس کس کے راز افشا کرنے ہیں مگر یہاں ہماری قوم کے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کس پر اعتبار کیا جائے اور کس طرح امریکہ کی غلامی سے باہر نکلا جائے تا کہ بحیثیت قوم ہم اپنی تقدیر کے فیصلے خود کر سکیں۔ دوسروں کے مقابلے میں نواز شریف امریکیوں کے ساتھ اپنے رابطے میں بہتر اور محتاط نظر آئے مگر ایک بات صاف لگ رہی ہے کہ وہ امریکا کے سامنے اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی کوشش میں ہیں
، اگر ایسا ہو گیا تو پھر صدر زرداری اور میاں نواز شریف میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ پہلے ہی ڈرون حملوں اور امریکا کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ پر مسلم لیگ ن کافی حد تک خاموش ہو چکی ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ان تمام تر انکشافات کے باوجود متعلقہ حلقوں میں عجیب سی خاموشی طاری ہے اور اگر کوئی وضاحت سامنے آ بھی رہی ہے تو وہ بلکل غیر موثر۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ سب ایک سازش ہے مگر کسی صاحب اقتدار، اعلیٰ سول و فوجی قیادت، سیاستدان نے ابھی تک یہ نہیں کہا کہ آخر یہ امریکی کر کیا رہے ہیں۔ کسی نے نہ تو امریکی قیادت پر تنقید کی اور نہ ہی امریکی سفارتکاروں کی اس جاسوسی کردار پر مذمت کی جس کے ذریعے وہ یہاں ایک دوسرے کو لڑانے کا کھیل خوب انداز میں کھیل رہے ہیں۔
وکی لیکس نے ثابت کر دیا کہ امریکاکا پاکستان کے حالات کو خراب کرنے میں اہم کردار ہے۔ اس راز پر سے بھی پردہ چاک ہو گیا کہ ہمیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف لڑا کر ہالبروک انڈین لیڈرشپ کو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ امریکا افغانستان میں بھارتی منصوبوں کی حمایت کرتا ہے اور یہ کہ امریکا حقیقت میں پاکستان کے موقف پر کان نہیں دھرتا۔ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ امریکا نہیں چاہتا یہاں آزاد عدلیہ ہو، وہ کرپٹ حکمرانوں کی پشت پناہی کر رہا ہے تا کہ ڈرون حملے ہوتے رہیں۔ وہ ہماری عسکری قیادت کو مزید آرمی آپریشن کرنے پر اُکسا رہا ہے تاکہ فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جا سکے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی، خودکش دھماکے یہاں ہوتے ہیں اور پاکستان تباہ و برباد ہوکر رہ جائے۔ یہ وقت ہے ہمارے قائدین کااپنا محاسبہ خود کرنے کا اور اس عمل پر غور کرنے کا کہ آیا وہ امریکا کے ہاتھوں میں کھیل کر کہیں پاکستان کی تباہی میں کردار تو ادا نہیں کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے اپنی خوداحتسابی کرنے کا ۔ایسا ہوتا ہے یا نہیں اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا مگر حالات ابھی کچھ بہتری کی طرف جاتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
وکی لیکس کے ان انکشافات پر جناب صدر اور وزیراعظم گیلانی کے درمیان گزشتہ بدھ کو ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کی جو تصویر اخبارات کو حکومت کی طرف سے ریلیز کی گئی اس میں دونوں لیڈران مسکراتے ہوئے دکھائی دیئے جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہ موقع تو شرم سے ڈوب مرنے کا تھا مگر میں سوچتا رہا کہ صدر اور وزیراعظم آخر کس بات پر اتنے مسکرا رہے ہیں۔ ابھی اس مسکراہٹ کا میں جواب تلاش کرنے میں لگا تھا کہ جمعہ کے روز امریکی سفیر کیمرون منٹر کی پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ جنرل اور کئی دوسرے اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ غازی ایئربیس پر دورے کی تصویر چھپی۔ دی نیوز میں چھپنے والی اس تصویر میں کیمرون منٹر کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ امریکی سفیر کو پاکستان کی فوج کے افسران کے جھرمٹ میں اس انداز میں مسکراتے ہوئے دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسا کہ کیمرون منٹر پاکستانیوں کو چڑانے کی کوشش کررہا ہو۔

انصار عباسی
(بہ شکریہ اداریہ روزنامہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں