مقبوضہ بیت المقدس(ایجنسیاں) اسرائیلی فوج نے ایک ویب سائٹ پر دو سو اسرائیلی فوجیوں کے نام اور تصاویر پوسٹ کرنے کی مذمت کی ہے۔ سائٹ میں ان فوجیوں کو جنگی مجرم قرار دیا گیا ہے۔
ویب سائٹ پر جاری کردہ فہرست میں بیشتر اسرائیلی فوجیوں کی تصاویر کے علاوہ ان کے قومی شناختی نمبر اور گھروں کے پتے بھی دیے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ ان فوجیوں نے دسمبر 2008ء اور جنوری 2009ء کے دوران غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ تین ہفتے کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور یہ سب جنگی مجرم ہیں۔
ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیل کی اعتباریت کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسرائیل کی دفاعی فورسز نے جمعہ کو ایک بیان میں فوجیوں کی ذاتی تفصیل منظر عام پر آنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن فوجیوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں، انہیں اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔
اسرائیلی روزنامے ہارٹز کے مطابق یہ معلومات برطانیہ سےتعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنان نے اسی ہفتے پوسٹ کی تھیں اور یہ ویب سائٹ امریکا میں قائم تھی جس نے جمعہ کو اس فہرست کو ہٹا دیا ہے اور یہ اس کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ ویب سائٹ نے شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔
ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ یہ معلومات ایک نامعلوم ذرائع سے حاصل ہوئی تھیں جو ممکنہ طور پر اس وقت اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسرائیلی روزنامے معاریف میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فوج ایک فوجی کی جانب سے ممکنہ طور پر ان معلومات کے افشاء کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ویب سائٹ نے اسرائیلی فوجیوں کی تصاویر کے ساتھ لکھا ہے کہ”انہوں نے غزہ پر حملے کے وقت کمانڈر اور عام فوجی کی حیثیت سے حصہ لیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف ایک ہلاکت آفرین ریاستی میکانزم کی جانب سے جنگ لڑی تھی، بلکہ دوسروں کی بھی ایسی سرگرمی کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی”۔
اسرائیلی فوج نے دسمبر 2008 کے آخری ہفتے میں غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور 18جنوری 2009ء کو یک طرفہ جنگ بندی کی تھی۔ تین ہفتے تک جاری رہی اس جنگ میں چودہ سو فلسطینی شہید اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھےجبکہ صرف تیرہ اسرائیلی فوجی مارے گئےتھے۔
واضح رہے کہ اسرائیل مخالف کارکنان برطانیہ اور بعض دوسرے یورپی ممالک کے عالمی عدالتی دائرہ کار کے تحت غزہ جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور اسرائیلی حکومت کے عہدے داروں کے خلاف مقدمے دائر کرتے رہتے ہیں۔ البتہ ان کے خلاف ابھی تک کسی کیس کی سماعت مکمل نہیں ہوئی۔ تاہم بعض سابق اور موجودہ اسرائیلی عہدے دار برطانیہ اور اسپین میں گرفتاری کے خوف سے اپنے دورے منسوخ کر چکے ہیں۔
ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیل کی اعتباریت کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسرائیل کی دفاعی فورسز نے جمعہ کو ایک بیان میں فوجیوں کی ذاتی تفصیل منظر عام پر آنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن فوجیوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں، انہیں اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔
اسرائیلی روزنامے ہارٹز کے مطابق یہ معلومات برطانیہ سےتعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنان نے اسی ہفتے پوسٹ کی تھیں اور یہ ویب سائٹ امریکا میں قائم تھی جس نے جمعہ کو اس فہرست کو ہٹا دیا ہے اور یہ اس کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ ویب سائٹ نے شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔
ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ یہ معلومات ایک نامعلوم ذرائع سے حاصل ہوئی تھیں جو ممکنہ طور پر اس وقت اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسرائیلی روزنامے معاریف میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فوج ایک فوجی کی جانب سے ممکنہ طور پر ان معلومات کے افشاء کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ویب سائٹ نے اسرائیلی فوجیوں کی تصاویر کے ساتھ لکھا ہے کہ”انہوں نے غزہ پر حملے کے وقت کمانڈر اور عام فوجی کی حیثیت سے حصہ لیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف ایک ہلاکت آفرین ریاستی میکانزم کی جانب سے جنگ لڑی تھی، بلکہ دوسروں کی بھی ایسی سرگرمی کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی”۔
اسرائیلی فوج نے دسمبر 2008 کے آخری ہفتے میں غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور 18جنوری 2009ء کو یک طرفہ جنگ بندی کی تھی۔ تین ہفتے تک جاری رہی اس جنگ میں چودہ سو فلسطینی شہید اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھےجبکہ صرف تیرہ اسرائیلی فوجی مارے گئےتھے۔
واضح رہے کہ اسرائیل مخالف کارکنان برطانیہ اور بعض دوسرے یورپی ممالک کے عالمی عدالتی دائرہ کار کے تحت غزہ جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور اسرائیلی حکومت کے عہدے داروں کے خلاف مقدمے دائر کرتے رہتے ہیں۔ البتہ ان کے خلاف ابھی تک کسی کیس کی سماعت مکمل نہیں ہوئی۔ تاہم بعض سابق اور موجودہ اسرائیلی عہدے دار برطانیہ اور اسپین میں گرفتاری کے خوف سے اپنے دورے منسوخ کر چکے ہیں۔

آپ کی رائے