آج : 14 November , 2010

’عشرہ ذوالحجہ میں عبادت کے سنہری مواقع سے فائدہ اٹھائیے‘

’عشرہ ذوالحجہ میں عبادت کے سنہری مواقع سے فائدہ اٹھائیے‘
molana_12جمعہ رفتہ میں جامع مسجدمکی میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے سورت الفجر کی ابتدائی آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا: ان آیات میں اللہ تعالی نے ’’صبح‘‘، ’’دس راتوں‘‘ اور ’’شفع و وتر‘‘ (فرد و زوج)کی قسم کھائی ہے۔ اکثر مفسرین کاخیال ہے اس سورت میں ’فجر‘ سے مراد عیدالاضحی کی صبح ہے اور دس راتوں (لیالی عشر) سے غرض عشرہ ذوالحجہ ہے۔ بعض علما نے لکھاہے کہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے کی راتوں کی فضیلت رمضان المبارک کی آخری راتوں کی فضیلت سے زیادہ ہے چونکہ اللہ تعالی نے ان راتوں کی قسم کھائی ہے جو ان کی انتہائی عظمت کو ظاہر کرتاہے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا حدیث شریف میں آیاہے عشرہ ذوالحجہ کی راتوں میں عبادت افضل ترین ہوگی اور دنوں میں روزہ رکھنا ہر دن ایک سال روزہ رکھنے کے برابر ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص یوم عرفہ کو روزہ رکھے مجھے امید ہے اللہ تعالی اس کے ایک سال قبل اور بعد کے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ عیدالفطر اور بڑی عید اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں۔ عیدالفطر ایک دن ہے مگر بڑی عید تین دنوں تک جاری رہتی ہے، ان تین دنوں میں کسی بھی وقت قربانی ذبح کی جاسکتی ہے۔ مگر افضل یہی ہے کہ پہلے دن (دس ذوالحجہ) کو قربانی کی جائے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے مدیر دارالعلوم زاہدان نے حاضرین کو بکثرت تلاوت، نوافل اور دیگر عبادات کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا یہ غلط بات ہے کہ کوئی کہے میں حج کیلیے جاکر خوب عبادت کروں گا۔ اللہ تعالی کی عبادت حرمین کے ساتھ خاص نہیں۔ کہیں بھی اس ذات پاک سے مانگ سکتے ہیں۔ اب اس سنہری موقع سے اچھی طرح فائدہ اٹھاکر خالق کی خالصانہ عبادت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی ہماری حرکتوں کو دیکھتا ہے، ہمیں اس کی جانب بڑھنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا یوم عرفہ کی صبح سے لیکر تیرہ ذوالحجہ کے عصر تک ہرنماز کے بعد مرد حضرات زور سے تکبیرات تشریق(اللہ اکبر اللہ اکبر، لااِالہ الااللہ اللہ اکبر وللہ الحمد) کہیں اور خواتین آرام سے یہ الفاظ زبان پر لائیں۔ عیدکے دن عیدگاہ کی جانب جاتے ہوئے بھی تکبیرات تشریق کہنی چاہیے۔ عید کے دن نمازفجر کے بعد سونا مکروہ ہے۔ جلدی عیدگاہ کا رخ کرناچاہیے۔
قربانی ذبح کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا جو حضرات مالدار ہیں وہ کو شش کریں کہ مہنگا اور بڑا جانور قربانی کیلیے خریدلیں۔ اپنے والدین اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے بھی قربانی ذبح کی جاسکتی ہے۔ البتہ ہرحالت میں اللہ تعالی کی رضامندی مقصد وغرض ہو۔ قربانی خود ذبح کریں۔ خواتین جن پر قربانی کرنا واجب ہے وہ بھی اس عمل خیر سے غافل نہ ہوں۔ بعض لوگوں کے پاس پیسے نہیں مگر قرض لیکر قربانی کرتے ہیں پھر لوگوں کا پیسہ واپس نہیں کرتے، یہ صحیح کام نہیں ہے۔ قربانی ایک عبادت ہے نہ کہ لوگوں کو تکلیف میں ڈالنے کاذریعہ۔ بہرحال اخلاص اور نیت بہت اہم ہے۔ اس کے علاوہ جانور کے گوشت سے نادار اور مستحق لوگوں کو بھی دینا چاہیے۔ تین حصوں میں سے ایک حصہ غریبوں کا ہے۔
آخرمیں جامع مسجدمکی کے تعمیرِنو منصوبہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا یہ توسیعی پروگرام ضرورت کے بنا پر ہورہاہے، ہم مسجد کی توسیع پر مجبور ہیں۔ اب بھی لوگ چھت پر نماز پڑھتے ہیں اور ہمارا ارادہ ہے خواتین کیلیے بھی ایک جگہ مختص کردیں۔ اس لیے یہ توسیعی منصوبہ جلدازجلد مکمل ہونا چاہیے۔ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے آخری خطبے میں فرمایاتھا کہ لوگوں کی جائے عبادت اور سہولیات کو وسعت دینی چاہیے۔ کسی کو خدا کی عبادت کیلیے مشکل کاسامنا نہیں کرناچاہیے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں