دارالعلوم زاہدان: علامہ محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی یاد میں سیمینار منعقد

دارالعلوم زاہدان: علامہ محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی یاد میں سیمینار منعقد
ghazi_1اشارہ: علامہ محمود احمد غازی رحمہ اللہ کا شمار عالم اسلام کے ممتاز اور بے مثال مفکرین و مصنفین میں ہوتا تھا۔ آپ مختلف علمی اور اکیڈمک موضوعات میں ماہر اور صاحب رائے مانے جاتے تھے۔ مرحوم ۲۰۰۹ء کے موسم بہار میں حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی دعوت پر دارالعلوم زاہدان تشریف لائے جہاں ایک ہفتے کے قیام کے دوران آپ رحمہ اللہ نے طلبہ واساتذہ نیز زاہدان کی علمی شخصیات سے تفصیلی ملاقات کرکے مختلف موضوعات پر لیکچر دیے۔

ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ مختلف اہم مناصب پر فائز رہے۔ آپ کی تصانیف اردو، عربی اور انگریزی میں دستاب ہیں۔ عالم اسلام کے مایہ ناز مفکر ومصنف علامہ محمود احمد غازی رحمہ اللہ  ۲۶ ستمبر کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

دارالعلوم زاہدان نے علم وعلماء اور علامہ پروفیسر محمود احمد غازی کے مقام والا کے اعزاز میں ’’ندائے اسلام‘‘ میگزین اور شعبہ تخصصات کے اہتمام سے ایک سیمینار منعقد کیا۔ ’’مفکر عالم اسلام، علامہ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کی شخصیت، افکار و آثار اور خدمات کا تعارف‘‘ کے عنوان سے انعقاد پانے والا یہ سیمینار دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں منعقد ہوا۔ ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو علامہ ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ کی یاد میں منعقد ہونے والے سیمینار میں دارالعلوم زاہدان کے طلبہ واساتذہ، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ واساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیمینار کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد علامہ ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ کے محاضرات کا ایک کلپ حاضرین کے لیے پیش کیا گیا۔ مفید کلپ کے بعد شریک دورہ حدیث عبدالناصر امینی نے ’’مردی از جنس علامہ اقبال‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔ امینی نے ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ کے دارالعلوم زاہدان کے دورے کی یادوں اور طلبہ کے شور وجذبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے مختصراً آپ رحمہ اللہ  کی حیات پر روشنی ڈالی۔
مذکورہ طالب علم کے بعد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (پاکستان) کے طالبعلم مولوی محمد یارمحمدزہی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے علامہ محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی زندگی، افکار وآراء اور سانحہ ارتحال پر مختلف محافل کی ہمدردی وتعزیت کا تذکرہ کیا۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالبعلم کے بعد ’’ سیستان وبلوچستان یونیورسٹی‘‘ کے لیکچرار ڈاکٹر سپاہی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر سپاہی نے ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ  کی انفرادی زندگی پر روشنی ڈالٹے ہوئے آپ کے بعض افکار وخیالات خاص طور پر دینی مدارس کے نصاب کے بارے میں مرحوم کے قابل قدر تجاویز وخیالات کا تذکرہ کیا۔
ڈاکٹر سپاہی نے مزید کہا علامہ غازی کو کئی عالمی زبانوں پر عبور حاصل تھا، آپ رحمہ اللہ  انتہائی ذہین تھے اور عالم اسلام کے مسائل پر ان کی گہری نظر تھی۔ ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ  کا خیال تھا عالم اسلام کے مسائل کی تشخیص اور ان کے حل کے لیے منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سپاہی کے اظہار خیال کے بعد، علامہ غازی رحمہ اللہ کے برادر ارجمند ڈاکٹر محمد غزالی کا صوتی پیغام جو اسی حوالے سے تھا نشر کیا گیا۔ یہ ٹیلیفونک پیغام سیمینار کے انعقاد سے چند گھنٹے قبل ریکارڈ ہوا تھا۔
اس کے بعد ’’ندائے اسلام‘‘ کے سب ایڈیٹر مولوی ثناء اللہ شہنواز نے ’’غازیِ جبہہ ہائے علم ومعرفت‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر وجامع مضمون پیش کیا۔ مقالے میں ڈاکٹر غازی مرحوم کی علمی ومعنوی زندگی کے مختلف پہلووں پر گفتگو کے علاوہ علامہ ابوالحسن علی ندوی اور علامہ غازی رحمہما اللہ کے افکار وآراء اور شخصیت کے مشترکات پر روشنی ڈالی گئی۔

مولانا محمد قاسم قاسمی کا خطاب
مایہ ناز دانشور اور دارالعلوم زاہدان کے استاذ الحدیث مولانا مفتی محمد قاسم قاسمی دامت برکاتہم نے اپنے خطاب میں ان اسباب کا تذکرہ کیا جو علامہ غازی رحمہ اللہ کو ایسی عبقری شخصیت بناچکے تھے۔
انہوں نے کہا علامہ غازی رحمہ اللہ  نے اپنی الہی ذمہ داری پوری کرکے ۶۰سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت کر گئے۔
علامہ غازی رحمہ اللہ  کی شخصیت میں موثر اسباب کے تذکرے سے پہلے آپ نے مرحوم سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے کہا میری پہلی ملاقات اور تعارف ڈاکٹر غازی سے اسلام آباد ( پاکستان) میں ہوئی جہاں ہم علامہ ندوی رحمہ اللہ  کی یاد میں منعقد ایک سیمینار میں شرکت کرنے گئے تھے۔ میری دوسری ملاقات مرحوم سے لاہور میں ہوئی جہاں ’عصر حاضر کے مسائل اور ان سے نمٹنے کے طریقے‘ کے عنوان سے ایک علمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ مکہ مکرمہ میں منعقد ’مکالمہ ادیان کانفرنس‘ میں شرکت کے دوران ملاقات آپ رحمہ اللہ  سے تیسری ملاقات تھی۔ ’مکالمہ ادیان کانفرنس‘ میں بڑی بڑی علمی شخصیات موجود تھیں۔ ہر کسی کو خطاب کا موقع نہیں دیاگیا۔ لیکن جب ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ  کو خطاب کا موقع مل گیا تو ان کے جامع اور پر معنی خطاب سے تمام حاضرین بیحد متاثر ہوئے۔
رئیس دارالافتاء دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: ان ملاقاتوں کے علاوہ مرحوم کے مقالات اور تصانیف کے مطالعے سے مجھے معلوم ہوا آپ کے افکار وخیالات انتہائی عالمانہ اور تبحر پر مبنی ہیں۔ علامہ غازی رحمہ اللہ  عصر حاضر کے ممتاز مفکرین ودانشوروں میں تھے۔ مرحوم کے افکار میں سنجیدگی، بزرگی، قوت استدلال اور کشش پائی جاتی ہے۔ میں نے بہت سارے دیگر مفکرین وناقدین کی تحریروں میں ایسی چیزیں نہیں دیکھی ہیں۔
’’ندائے اسلام‘‘ کے مدیراعلی نے علامہ غازی رحمہ اللہ  کی شخصیت کی تکمیل میں موثر اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے آٹھ اہم اسباب کو شمار کیا:
۱۔ اعلی اور شریف خاندان سے تعلق،
۲۔ ہر میدان میں دعا وتضرع کا سہارا،
۳۔ علوم دینیہ میں مہارت،
۴۔ ایک مخصوص علمی موضوع پر اکتفا نہ کرنا،
۵۔ اساتذہ، علماء اور بزرگوں سے تعلق، ان کے نصائح کے محتاج ہونے کا احساس، حالانکہ وہ خود بہت اونچے درجے کے عالم تھے،
۶۔ تواضع وانکسار،
۷۔ زہد ا ور بود و باش میں سادگی،
۸۔ اصول شرعی ودینی پر پابندی سے عمل کرنا۔
آخر میں مفتی قاسمی نے تاکید کی ایسے سیمینارز کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ مدارس میں ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ جیسی شخصیات تربیت پاکر معاشرے کی خدمت کریں۔ طلبہ مٰیں یہ احساس پیدا ہو کہ وہ کس طرح بہتر انداز سے معاشرے کی خدمت اور مسلمانوں کی تربیت کرسکیں گے۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کا شرکائے سیمینار سے خطاب
علامہ غازی رحمہ اللہ  کی یاد میں منعقد سیمینار کے آخر میں حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ نے ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ  کے سانحہ ارتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا علامہ غازی جیسے اعلی پایہ کے علمائے کرام کے انتقال سے نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ علامہ غازی رحمہ اللہ  کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو اپنے خاندان، ملک اور حتی عالم اسلام کے ساتھ خاص نہیں تھے بلکہ وہ پوری انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ تھے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ورسالت ایک علاقے کیلیے خاص نہیں تھی اسی طرح وارثان نبوت بھی ایک مخصوص خطے یا معاشرے کے لیے مخصوص نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کا تعلق پوری انسانی سوسائٹی سے ہوتا ہے۔ مغربی دنیا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے اسلامی تہذیب کی تقلید کی ہے جو ان کی تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس لیے کہ رسول اکرم (ص) مسلمانوں کے لیے خاص نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہیں۔
مدیر دارالعلوم زاہدان نے آخر میں ایک بار پھر اپنی اور دارالعلوم زاہدان کے طلبہ واساتذہ کی جانب سے علامہ محمود احمد غازی رحمہ اللہ کے اہل خانہ، متعلقین اور تلامذہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرما کر انبیاء، شہداء وصدیقین اور صالحین کے ساتھ ان کی روح کو محشور فرمائے۔

رپورٹ: سنی آن لائن


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں