افغانستان:مال بردارطیارہ گرکرتباہ،8افرادکی ہلاکت کاخدشہ

افغانستان:مال بردارطیارہ گرکرتباہ،8افرادکی ہلاکت کاخدشہ
enfejar-helicopterکابل(ایجنسیاں) افغان دارالحکومت کابل کے مشرق میں ایک امریکی کمپنی کامال بردارطیارہ کرتباہ ہوگیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوارعملے کے تمام آٹھ ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔

کابل ائیرپورٹ کے ڈائریکٹر محمد یعقوب رسولی نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ ”طیارے نے باگرام ائیربیس سے اڑان بھری تھی اور یہ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے کے قریب گرکرتباہ ہواہے۔رسولی کا کہنا ہے کہ طیارےمیں سوار تمام آٹھ افرادکے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہوگئے ہیں۔
حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں نیٹوفوجیوں کے لیے سامان لے جایا جارہا تھا۔نیٹو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طیارہ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تیس کلومیٹر مشرق میں گرکرتباہ ہواہے۔فوری طورپر حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور نہ کسی گروپ نے اسے مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
نیٹو کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایل 100ہرکولیس مال بردارطیارہ ایک امریکی کمپنی کاملکیتی تھا اور یہ نیٹوفوج کے استعمال میں تھا۔یہ طیارہ حجم میں سی 130فوجی طیارے جتنا بڑاہوتاہے۔جائے حادثہ پرافغان اور نیٹوفوجی امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
طیارے کے حادثے سے پہلے افغانستان میں نیٹوفوج کا ایک ہیلی کاپٹرایک چوکی پراترنے کے فوری بعددھماکے سے تباہ ہوگیاتھا جس کے نتیجے میں اس میں سوارایک فوجی ہلاک اورسات زخمی ہوگئے۔
نیٹوکے تحت انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس(ایساف) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ”امریکی ساختہ شینوک ہیلی کاپٹرمیں افغان سکیورٹی فورسز اور ایساف کے فوجی سوار تھے”۔تاہم ترجمان نے ہلاک ہونے والے فوجی کی شہریت بتانے سے گریزکیا۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام افرادایساف فوجی بتائے گئے ہیں اورانہیں علاج کے لیے ایساف کے ایک طبی مرکز میں منتقل کردیا گیا ہے۔ایساف کی جانب سے اس سے پہلے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ واقعے میں دوافرادہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔
ایساف کے بیان کے مطابق ہیلی کاپٹر میں چھبیس فوجی سوار تھے اوراس میں دھماکا پاکستانی سرحد کے قریب واقع ایک چوکی پراترنے کے بعد ہواہے۔فوری طورپردھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے بارے میں آگاہ نہیں،اس لیےاس نے اس خبرپرکوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جنگ زدہ افغانستان میں حالیہ مہینوں میں تشدد کے واقعات اورطالبان مزاحمت کاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہواہے جبکہ اس وقت وہاں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ غیرملکی فوجی موجود ہیں۔افغانستان میں مسافروںسے بھرے ہیلی کاپٹروں میں بم دھماکوں کے واقعات شاذونادرہی رونما ہوئے ہیں جبکہ طالبان مزاحمت کار بھی اب تک متعددہیلی کاپٹرمارگراچکے ہیں۔اکتوبر2009ء میں دوفوجی ہیلی کاپٹروں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں امریکا کے گیارہ فوجی اورتین شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں