امریکا شکست خوردہ پارٹی ہے، طالبان کا مذاکرات سے انکار

امریکا شکست خوردہ پارٹی ہے، طالبان کا مذاکرات سے انکار
taliban-musaqalaاسلام آباد (جنگ نیوز) اس دعوے کے ساتھ کہ اب امریکا اسلامی امارات افغانستان (طالبان تحریک کی طرف سے رکھا گیا افغانستان کا نام) سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے اور ہم ایک شکست خوردہ پارٹی سے مذاکرات کیوں کریں.

طالبان نے افغانستان میں امریکی ونیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرس کو کہا ہے کہ جتنی جلد اپنی فورسز سمیت افغانستان چھوڑ دیں اتنا ہی بہتر ہے۔ امریکی حملے کے 9 سال مکمل ہونے کے بعد جنگ زدہ ملک کی صورتحال کے جائزے کیلئے ہونے والے طالبان شوریٰ کے اجلاس میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ ”غیر ملکی افواج کا حوصلہ پہلے ہی انتہائی پست سطح پر ہے اور اگر جنرل پیٹرس اب افغانستان سے اپنی افواج کو نکالنے میں ناکام رہے تو وہ جلد ہی برطانوی ڈاکٹر ولیم برائیڈن کی طرح اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہے ہوں گے“۔
ولیم برائیڈن پہلی اینگلو افغان جنگ کے دوران برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی آرمی میں اسسٹنٹ سرجن تھے اور جنوری 1842 میں کابل سے پسپائی کے دوران 4500 فوجیوں کے دستے میں سے جلال آباد پہنچنے والے واحد زندہ شخص تھے۔
قاری یوسف جو طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کے ترجمان ہونے کے دعویدار ہیں نے افغانستان میں کسی نامعلوم مقام سے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اجلاس میں اس بات پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا گیا کہ امریکا نے 35 فیصد افغان علاقے پر طالبان کے کنٹرول کو تسلیم کرلیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ باگرام‘ قندھار اور ننگرہار ہوائی اڈوں پر کامیاب حملوں کے علاوہ طالبان نے افغانستان میں مواصلاتی نظام پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ قاری یوسف نے کہا کہ ”اجلاس کے شرکاء کا خیال تھا کہ طالبان کی غیر ملکی قبضے کیخلاف کامیاب مزاحمت کی وجہ سے دنیا کو اب مجاہدین کی اخلاقی حمایت کرنی چاہئے“۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اجلاس میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ وائٹ ہاؤس اب بھی افغانستان پر قبضے کو طول دینے کا خواہاں ہے لیکن امریکیوں کو اپنے سپاہیوں کومروانے کے سوا کچھ نہیں ملے گا“۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں قابض افواج کی افغانستان سے انخلا تک جہاد جاری رکھنے کے عزم کا ابھی اظہار کیا گیا اور امریکا پر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے اور بے سکون عوام پر رحم کرتے ہوئے اپنی افواج کی واپسی کا اعلان کرنے پر زور دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 9 سال کے طویل عرصے تک مجاہدین انتہائی کامیابی کے ساتھ قابض افواج کا مقابلہ کرنے کی ہمت دینے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کمانڈرز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جہاد کو اس کے منطقی انجام (قابض افواج کے انخلا یا حملہ آوروں کے مکمل خاتمے) تک جاری رکھا جائے گا۔
قاری یوسف نے کہا کہ اجلاس کے شرکاء نے یاد دہانی کرائی کہ افغانستان پر حملے کے وقت جارج ڈبلیو بش نے اسے صلیبی جنگ کہا تھا اور یہ امریکیوں کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ طالبان دنیا کی سپر پاور کے سامنے مزاحمت کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے حملے کے 6 ماہ بعد بڑے فخر کے ساتھ کہا تھا کہ طالبان تحریک مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے لیکن مجاہدین کی مزاحمت 9 سال گزرنے کے بعد بھی زندہ ہے اور روزانہ دسیوں غیر ملکی فوجی ہلاک ہورہے ہیں۔
قاری یوسف نے کہا کہ ”کمانڈرز نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو 9 سالہ جنگ کے دوران اربوں ڈالرز سے محروم ہونے‘ ہزاروں فوجیوں کو مروانے اور زخمی کروانے کے سوا کچھ نہیں ملا اوران نقصانات کے باعث ہی جارحین 2010ء کو خونیں سال قرار دینے پر مجبور ہوئے“۔
طالبان کے ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں جنگی حکمت عملی کے حوالے سے مختلف فیصلے کئے گئے اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ غیر ملکی افواج کو جلد از جلد ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کیلئے حملے بڑھائے جائیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں