’اخوان المسلمین الیکشن لڑے گی‘

’اخوان المسلمین الیکشن لڑے گی‘
mohammad-badiقاہرہ(بی بی سی) مصر کی حزب مخالف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اخوان المسلمین نے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات میں ایک سو انہتر امیدواروں کی حمایت کرے گی۔

اخوان المسلمین ایک کالعدم جماعت ہے لیکن پچھلے انتخابات میں اس کے حمایت یافتہ بیس فیصد آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
مصر کے حزب مخالف کے ایک رہنماء محمد البرادعی نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ وہ پانچ سو سیٹوں کے لیے ایک سو انہتر امیدوار کھڑے کرے گی۔
اخوان المسلمین نے دو ہزار پانچ میں انتخابی دھاندلی کے الزامات کے باوجود خاطر خواہ کامیابی حاصل کی تھی۔
پچھلے انتخابات میں کامیاب کے بعد اخوان المسلمین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور اس کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدای کا کہنا ہے کہ وہ سماجی ذمہ داری کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں اور ناانصافی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام مصری شہریوں کو کہتے ہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور انتخابات میں دھاندلی کے کوششوں کو ناکام بنا دیں۔ انہوں نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شفاف انتخابات کو یقینی بنائے۔
محمد بدای نے کہا کہ غیر شفاف پارلیمانی انتخابات 2011 میں ہونے والے صدارتی انتخابات پر اثر پڑے گا۔
مصر کے صدارتی انتخابات 2011 میں ہونے ہیں اور مصر کے بیاسی سالہ صدر حسنی مبارک نے ابھی تک واضح نہیں کہا ہے کہ کیا وہ چھٹی مدت کےلیے صدارتی امیدوار ہوں گےیا نہیں۔
حسنی مبارک پچھلے تیس سال سے مصر کے صدر چلے آ رہے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق صدر حسنی مبارک اپنے بیٹے جمال مبارک کو صدراتی امیدوار بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادعی بھی مصر کی سیاست میں متحرک ہو چکے ہیں اور وہ ممکنہ صدارتی امیدار ہو سکتے ہیں۔ محمد البرادعی اخوان المسلمین کے ساتھ مل کر کر ملک میں انتخابی اصلاحات کی کوشش کر رہے ہیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں