علمائے اہل سنت ایران: سپریم لیڈر کافتویٰ خوش آینداقدام ہے

علمائے اہل سنت ایران: سپریم لیڈر کافتویٰ خوش آینداقدام ہے
bayanyehزاہدان(سنی آن لائن) چند ہفتے قبل لندن میں مقیم ایک غیرمعروف صہیونی ایجنٹ جو بظاہر شیعہ عالم دین لگتاہے نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے پوری دنیا میں خود کو رسوا کیا۔

مذکورہ گستاخ شخص کے اس احمقانہ اقدام سے فرزندانِ توحید میں تشویش کی لہر دوڑگئی اور متعدد سرکردہ مسلم شخصیات نے اس قبیح عمل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔
بعض سعودی اسکالرز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے فتویٰ جاری کرکے امہات المومنین اور اہل سنت والجماعت کی مقدسات کی توہین اور تہمت زنی کو حرام قرار دیاہے۔
علمائے اہل سنت ایران نے بیان جاری کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای کے اس فتوے کو سراہا ہے۔ سنی علمائے کرام مذکورہ فتوے کو گستاخان صحابہ رضی اللہ عنہم و دیگر منہ پھٹ بدزبانوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیاہے۔
جاری بیان کے ایک حصے میں آتاہے:
’’آیت اللہ خامنہ ای اور حوزہ علمیہ قم کے مدرسین کے موقف ان سب کیلیے انتباہ ہے جو ملک کے اندر دانستہ یا نادانستہ طور اہل سنت والجماعت کی مقدسات کی توہین کرکے صحابہ کرام اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں جو اسلام دشمن عناصر کی عین خواہش ہے۔
شیعہ برادری سمیت دیگر مسلم فرقوں کی مقدسات کی توہین کو حرام سمجھتے ہوئے ملک کے سارے صحافیوں، ذاکروں اور خطیبوں، فلم میکرز اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ داروں خاص طور صدا وسیما (سرکاری میڈیا) نیز بلاگرز اور ویب سائٹ چلانے والوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ رہبر اعلیٰ کے موقف اور فتوے کو اپنی ثقافتی و تبلیغی سرگرمیوں کے دوران مدنظر رکھیں اور ہر اس بات یا عمل سے گریز کریں جس سے فرقہ واریت اور انتشار کی بو آتی ہے۔‘‘
ممتاز سنی علمائے کرام کا یہ بیان معروف نشریاتی اداروں کو بھیجا جاچکاہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں