دارالعلوم زاہدان: نئے تعلیمی سال کاآغاز اور افتتاح صحیح بخاری

دارالعلوم زاہدان: نئے تعلیمی سال کاآغاز اور افتتاح صحیح بخاری
eftetah-bokhariزاہدان(سنی آن لائن) ایرانی اہل سنت کے سب سے بڑے دینی وعلمی مرکز دارالعلوم زاہدان، بلوچستان میں صحیح بخاری شریف کی پہلی حدیث کی قرائت سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا۔

”سنی آن لائن“ کی رپورٹ کے مطابق افتتاح بخاری شریف وتعلیمی سال 1431-32ھ کی تقریب کا انعقاد سوموار 25شوال المکرم بمطابق 4 اکتوبر2010ء کو احاطہ دارالعلوم زاہدان میں جامع مسجد مکی میں ہوا۔
شیخ الحدیث وسرپرست دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے صحیح بخاری کی پہلی حدیث کی قرائت کرتے ہوئے اس کی مکمل تشریح کی۔
تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پہلے قرآنی آیات:«هل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون» اور«یرفع الله الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات» ، کی تلاوت کرتے ہوئے احادیث کی کتب مین صحیح بخاری کے مقام کے بارے میں گفتگو کی۔ بہ اجماع علماءکتاب صحیح بخاری قرآن پاک کے بعد اصح الکتب ہے۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب مین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح ترین احادیث کو جمع فرمایا۔
صحیح بخاری کی پہلی حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے ”اخلاص“ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا طالب علم اور استاذ دونوں کا مقصد حصول رضائے الہی ہونا چاہیے۔ چونکہ اخلاص اعمال اور دین کے جسم کے لیے روح کی حیثیت رکھتا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا بعض علماءومحدثین نے حدیث ” انما الاعمال بالنیات“ کو ”ام السنة“ قرار دیا ہے جس طرح سورہ فاتحہ ”ام الکتاب“ ہے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا آدمی کا ہر فعل وقول اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے ہونا چاہیے، ہجرت، جہاد، سخاوت، طلب علم وغیرہ سب خالص اللہ کی رضا کے لیے ہوں ورنہ اگر شہرت اور دنیوی مقاصد کے لیے ہوں تو اللہ تعالی کے نزدیک ان اعمال کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
علم کے فضائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا جس چیز نے آدم علیہ السلام کو مسجود ملائکہ قرار دیا وہ علم ہے۔ چونکہ اللہ تعالی نے پہلے آدمی علیہ السلام کو اشیاءکا علم عطا فرمایا پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کریں۔ اس تعظیمی سجدے سے معلوم ہوا کہ خلافت فی الارض کے لیے جو آدم علیہ السلام کو ملی، علم بہت ضروری ہے۔
طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا حالات جیسے بھی ہوں آپ مایوسی وناامیدی کا شکار مت ہوجائیں۔ ہمیشہ طلب علم میں مصروف ہوجائیں۔ یاد رکھیے پوری دنیا اپنی خوبصورتیوں اور خزانوں سمیت ایک حدیث یا علم کے ایک باب جسے آپ حاصل کریں کے مقابلے میں انتہائی ناچیز ہے۔ اس لیے کہ دنیا فانی اور علم باقی ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے تاکید کی جو علم آپ کسب کررہے ہیں اس پر عمل کریں۔ علم عمل کے بغیر صاحب علم کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ مزید برآں طلبہ، اساتذہ اور جامعہ کے ملازمین ظاہری وباطنی سنتوںکو اپنانے کی کوشش کریں۔ نماز با جماعت اور جامعہ کے قوانین کی پاسداری سب پر لازم ہے۔
آخر میں عالم اسلام کو در پیش مسائل کی جانب اشارہ کرکے مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے درخواست کی افغانستان، فلسطین، عراق اور غزہ سمیت پورے عالم اسلام کی فلاح وکامیابی کے لیے عاجزانہ دعا کریں اور مشکلات سے نجات کے لیے خالق سے دعا مانگیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں