بابری مسجد کا فیصلہ، انتہا پسند ہندؤوں کی فتح

بابری مسجد کا فیصلہ، انتہا پسند ہندؤوں کی فتح
babri18سال کے بعد الہ آباد ہائیکورٹ نے بابری مسجد سے متعلق فیصلہ دے دیا ہے۔ تین رکنی ججوں کے بنچ نے بابری مسجد کی جگہ کو تین حصوں میں تقسیم کر کے صرف ایک حصہ مسلمانوں کو دیا ہے جبکہ دو حصے ہندوؤں کو ملیں گے۔ بی جے پی نے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسکو ہندوؤں کی فتح سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ بہت جلد رام مندر کی تعمیر کا آغاز کر دیا جائے گا ۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق تین ماہ تک بابری مسجد کی جگہ کسی بھی قسم کی تعمیر نہیں ہو گی۔ اور کوئی بھی فریق اس جگہ کو استعمال نہیں کر سکے گا ۔ شاہی مسجد دہلی کے امام بخاری نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تعصب کی بو آ رہی ہے۔ تاہم کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے بھارت کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خوشدلی سے اس فیصلے کو قبول کر لیں اور کسی بھی قسم کے ہنگامے سے اجتناب کریں ۔

واضح رہے کہ بابری مسجد کو انتہا پسند ہندوؤں نے1992ء کو شہید کر دیا تھا۔ اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور نرسیما راؤ بھارت کے وزیر اعظم تھے۔ بابری مسجد کو شہید کرنے میں بی جے پی کے کارکنوں کے علاوہ ہندؤوں کی تمام انتہا پسند تنظیمیں (تقریباً 20)شامل تھیں۔ یہ مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے 1528میں تعمیر کی تھی اس جگہ سے متعلق انتہا پسند ہندؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ رام کی پیدائش کی جگہ ہے۔ اور بابر بادشاہ نے اپنی طاقت اور اقتدار کے بل بوتے پر اس مندر کو گرا کر مسجد تعمیر کی تھی۔ ایودھیا (یو پی) میں جہاں یہ مسجد واقع تھی (دہلی سے350میل کا فاصلہ ہے) اسکی شہادت کے دوران ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے، جس میں2000مسلمان عورتوں اور مردوں کو شہید کیا گیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد یہ سب سے زیادہ ہولناک فسادات تھے اس کے بعد اسی طرح کے دوسرے فسادات گجرات میں2005میں ہوئے تھے جس میں 3000ہزار مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا تھا۔
سنی وقف املاک بورڈ نے بابری مسجد کو اس تاریخ سے متعلق جو نقشے جج صاحبان کی خدمت میں پیش کئے تھے، اس میں کسی بھی جگہ مندر کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ نیز غیر جانبدار آکیٹٹیکٹوں نے بھی نقشوں کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بابری مسجد کی جگہ کوئی بھی مندر موجود نہیں تھا۔ لیکن ان تمام شواہد دینے کے باوجود ایک ایسا فیصلہ صادر کیا گیا ہے جو سراسر انتہا پسند ہندوؤں کے حق میں جاتا ہے۔ جس سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ بھارتی سیکولر ازم محض ایک ڈھونگ ہے۔بابری مسجد کے حوالے سے جہاں یہ لکھنا بہت ضروری ہے کہ بابر بادشاہ نے اپنے بیٹے ہمایوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ ”ہندوستان میں کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے ہندوؤں کی دل آزادی ہو، یہاں تک کہ گائے بھی ذبح نہ کی جائے اور ہندؤں کی عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے“ ۔ چنانچہ بابر بادشاہ کے ان خیالات کے پس منظر میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انہوں نے مندر کو مسمار کر کے مسجد کی تعمیر کی تھی۔ دراصل رام کی جنم بھومی کا شوشہ انتہا پسندوں نے 1949میں چھوڑا تھا جہاں انہوں نے خفیہ طور پر مسجد کے ایک کونے میں رام کے بت کو چھپا دیا تھا۔ بعد میں اس ہی کی بنیاد پر بابری مسجد کو متنازعہ بنا دیا گیا جس کے بعد ہی بی جے پی نے انتہا پسند ہندوؤں سے ووٹ لینے کی خاطر اس مسئلہ کو خوب اچھالا تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن انتہا پسندوں نے بابری مسجد پر حملہ کر کے اسکو شہید کر دیا بلکہ ہزاروں مسلمان عورتوں اور مردوں کو بھی قتل کر دیا اور ان کی املاک کو لوٹ لیا گیا۔ دراصل بی جے پی کو جو اقتدار ملا تھا اس میں بابری مسجد کے واقع کو بڑی چالاکی اور عیاری سے استعمال کیا گیا۔تاہم بابری مسجد سے متعلق الہ آباد ہائیکورٹ اس فیصلے سے بھارت میں مقیم مسلمانوں کی فکری اور نظریاتی حیات مزید تنگ سے تنگ ہوتی جائے گی۔ اور آئندہ سالوں میں بھارت کے اندر مذہبی انتہا پسندی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور عداوت کی صورت میں ظاہر ہو گی اور مزید فروغ پائے گی۔ جس طرح 1992میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا۔ وہ دراصل پہلا واقع نہیں تھا، بلکہ تقسیم ہندو کے بعد بھارت کے طول و عرض میں واقع سینکڑوں مساجد کو مسمار کر کے ہندوؤں نے وہاں یا تو مندر بنائے ہیں یا پھر رہائشی گھر! یہ محض اس لئے ہو رہا ہے کہ اب مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا ہے اور بھارت کی تمام سیاسی پارٹیاں جس طرح کانگریس میں شامل ہے، مسلمانوں سے بغض رکھتی ہیں اور کوشش کر رہی ہیں کہ مسلمانوں کو معاشی و سیاسی طور پر کمزور کر کے ان میں ترقی کرنے کے حوصلے کو پست کر دیا جائے۔
بابری مسجد سے متعلق اس فیصلے سے جہاں مسلمانوں کے جائز موقف کو مسترد کیا گیا ہے، وہیں انتہا پسند ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کام کرنے کا ایک نیا حوصلہ ملا ہے اور کچھ سال بعد بھارت میں انتخابی عمل شروع ہو گا تو بابری مسجد کے خلاف فیصلے کو بی جے پی اور دیگر انتہا پسند ہندو جماعتیں اپنے حق میں ووٹ حاصل کر کے اقتدار پر براجمان ہونے کی کوششیں کریں گی مزید برآں بابری مسجد سے متعلق اس فیصلے سے بھارت کا معاشرہ ایک بار پھر تقسیم ہو گیا ہے اور اب مسلمانوں کو بھارت میں رہتے ہوئے انہیں اپنے سیاسی حقوق کے لئے اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہو گا ورنہ آئندہ سالوں میں انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے خلاف محاذ بنا کر ان کا عرصہ حیات مزید تنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔ بھارت کے مسلمانوں کو اب زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ ایسی دیگر کمیونٹی کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑیں جو خود بھی بھارتی معاشرے میں اپنے آپکو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ اس اعتماد سے بھارت کے انتہا پسندوؤں کے حوصلے پست ہوں گے اور اقلیتوں کو بہت فوائد حاصل ہو ں گے۔

آغا مسعود حسین
(بہ شکریہ اداریہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں