نیٹو سپلائی آئل ٹینکرز پر حملہ، چھ ہلاک

نیٹو سپلائی آئل ٹینکرز پر حملہ، چھ ہلاک
nato-arsonاسلام آباد(بى بى سى) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے سہالہ کے قریب حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی کے آئل ٹینکرز پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پیش کو آیا ہے۔

ایس پی رورل ایریا عمر حیات نے بی بی سی کو بتایا کے پچیس کے قریب آئل ٹینکرز جو پشاور سے آئے تھے، راولپنڈی میں واقع اٹک آئل ریفائنری پر تیل بھروانے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ اس دوران چند نامعلوم مسلح افراد نے ان آئل ٹینکرز پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں چھ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد زخمی بھی ہوئے۔
ایس پی عمر حیات نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں دس آئل ٹینکرز مکمل طور پر تباہ ہوگئے جب کہ باقی ماندہ ٹینکروں میں لگنی والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کی کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقع میں ہلاک ہونے والے افراد آگ سے ہلاک نہیں ہوئے بلکہ اُن کے جسموں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔
ایس پی رورل ایریا کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکرز رات کے وقت سفر کرتے ہیں کیونکہ دن کی روشنی میں ان ٹینکروں پر حملہ ہونے کے خطرات بدستور موجود رہتے ہیں۔
اسلام آباد کے قائم مقام ایس ایس پی میر وعظ نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد آٹھ سے دس کے قریب تھی جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ علاقے کی ناکہ بندی کی دی گئی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کا کام جاری ہے۔
ایس ایس پی میر واعظ کے مطابق جس وقت نیٹو سپلائی کے آئل ٹینکرز پر حملہ کیا گیا اس وقت وہ روانگی کے لیے تیار تھے۔
جائے حادثہ پر موجود ایک شخص راجہ رشید کا کہنا تھا کہ بیس کے قریب آئل ٹینکرز روزانہ رات کے وقت پیٹرول بھروانے کے لیے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس جگہ یہ واقعہ ہوا ہے وہاں پر سیکورٹی کے کوئی انتظامات نہیں دیکھائی دیے اور نہ ہی متعلقہ تھانے کی پولیس کے اہلکار اس علاقے میں گشت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
متعلقہ تھانے کے انچارج محمد ارشد کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس کی اطلاع نہیں دی جاتی کہ آئل ٹینکرز تیل بھروانے کے لیے یہاں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان آئل ٹینکروں کے ساتھ نجی سیکورٹی کے اہلکار موجود ہوتے ہیں جو ان کی سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں اسلام آباد کے ہی نواحی علاقے سنگ جانی کے قریب ناملعوم مسلح افراد نے افغانستان میں نیٹو افواج کو تیل اور دوسری اشیاء فراہم کرنے والے آئل ٹینکروں اور کنٹینروں کو آگ لگادی۔ اس واقعے میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس واقعہ کے تحقیقات کرنے والی ٹیم نے متعلقہ تھانے کے اُس وقت کے انچارج سمیت دو افراد کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اُنہیں نوکریوں سے برطرف کردیا تھا۔
گزشتہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو صوبہ سندھ کے شہر شکارپور کے نزدیک مسلح افراد نے حملہ کر کے نیٹو سپلائی کے ستائیس آئل ٹینکرز کو تباہ کر دیا تھا۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے اس حملے کے ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا تھا کہ نیٹو آئل ٹینکرز پر حملہ عوامی ردعمل تھا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر تین بار پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کارروائی کی ہے۔
پاکستانی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ نیٹو کی ایک کارروائی میں پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر شیلنگ کی گئی جس میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے کے بعد سے پاکستان کے راستے نیٹو کے لیے سامان کی ترسیل کا سلسلہ رکا ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ سپلائی پر پابندی قافلوں کی حفاظت کے پیش نظر لگائی گئی ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں