آج : 31 October , 2010

‘میرے بھتیجے نے ایران کیخلاف کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا ہے’

‘میرے بھتیجے نے ایران کیخلاف کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا ہے’
molana9اس جمعے کے خطبے میں بعض اہم مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا میرے غیرملکی اسفار سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ایسے دوروں میں ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ ملک وقوم کی عزت میں اضافہ ہو۔ ہم نے ہرگز کسی کیخلاف بات کی ہے نہ ہی غیبت کی عادت ہے۔ واضح کرکے کہتا ہوں ہرگز سسٹم کے مخالف عناصر سے میری ملاقات اندرون یا بیرون ملک سے نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ایسے عناصر کو میں نے ملنے دیا ہے۔

انہوں نے تاکید کی ہم نہ چاپلوس اور مداح ہیں کہ حکمرانوں کی تعریف کرتے ہی رہیں نہ تشدد پسند۔ ہماری سرگرمیاں ثقافتی ہیں اور ہمارا طریقہ میانہ روی اور افراط وتفریط سے دوری ہے۔ مستقبل میں بھی ہماری راہ یہی ہوگی۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا ہمارا خیال ہے اگر کوئی ہماری باتوں کو مانے وہ ہرگز ناکام نہیں ہوگا۔ اگر ہمارے نکتہ نظر پر کسی نے عمل کرکے نقصان اٹھایا تو اسے پورا حق ہے کہ ہمیں جو چاہے کہے۔
دارالعلوم زاہدان اور جامع مسجد مکی کے تعمیراتی امور کے نگران حاجی عبدالرحیم شہ بخش کی بلا جواز گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا بعض جرائد اور خبر رساں اداروں نے حاجی عبدالرحیم کی گرفتاری کی وجوہات کے حوالے سے بے بنیاد الزامات اور قیاس آرائیوں کا سہارا لیا ہے۔ سب کو معلوم ہونا چاہیے حاجی عبدالرحیم کے وجود سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ بات میں یقین سے کہتا ہوں چونکہ وہ میرے داماد، بھتیجے اور فرزند ہیں۔ میں ان کو اچھی طرح جانتاہوں۔
حاجی عبدالرحیم کا سارا دن اینٹوں اور سیمنٹ جیسی چیزوں سے گزرتا تھا، انہوں نے کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا ہے۔ میرے داماد نے کسی مدرسے میں پڑھا ہے نہ یونیورسٹی میں، بلکہ وہ عام لوگوں کی طرح مسجد مکی کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کی گرفتاری کا مسجد کی تعمیر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اللہ اپنے گھر کی تعمیر کیلیے افراد کا محتاج نہیں ہے۔ ان کے اسفار کے بارے میں بعض ویب سائٹس اور نیوز ایجنسیوں کی قیاس آرائیوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے وہ صرف میرے ساتھ باہر ملک جاتے تھے تا کہ ہماری ضروریات پوری کرکے خدمت کرے۔
اپنے ضبط شدہ پاسپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا امید ہے متعلقہ حکام جلد از جلد میرا پاسپورٹ واپس کردیں تا کہ اس سال حج کے سفر کا شرف حاصل کرسکوں۔

اس جمعے کے خطبے کا آغاز سورۃ البقرۃ کی بعض آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے موسم حج کی جانب اشارہ کرکے فرمایا حج اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ہے۔ تلاوت شدہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کعبہ دنیا کا قدیم ترین مکان ہے اور تاریخ کی عظیم ترین عمارت ہے۔ اس کی تعمیر بھی دو بے مثال معماروں کے دست مبارک سے ہوئی ہے۔
کعبہ کی بنیاد اور پہلی مرتبہ تعمیر تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے ملائکہ نے کیا جو خلق آدم سے بھی قبل تھا۔ اس عمل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ دنیا کی خلقت کا مقصد اللہ تعالی کی عبادت ہے۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تا کہ یہاں خالق کی عبادت کی جاسکے۔ طوفان نوح کے بعد اللہ تعالی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس علاقے کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ آپ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور جب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوگئے تو اللہ تعالی نے انہیں کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا بیت اللہ کا حج اسلام سے قبل اور اس کے بعد ہوتا چلا آرہاہے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو حج کرنے کے لیے اعلان کا حکم دیا اور رب نے اعلان سب تک پہنچا دیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس مقام کے لیے دعائیں کیں اور رب العالمین نے ساری دعائیں قبول فرمالیں۔
کعبہ کا بہترین حج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جو پوری تاریخ کا بے مثال ترین حج تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا اور آخری حج تھا۔
بیان کے آخر میں جامع مسجد مکی کے تعمیر نو منصوبے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے حاضرین سے کہا یہ مسجد بھی اللہ تعالی کا گھر ہے۔ اس کی تعمیر بھی دعا اور تواضع کے ساتھ ہونی چاہیے۔
اہل خیر حضرات اس عظیم مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ یہ میری یا بعض علماء کی مسجد نہیں یہ آپ سب کی ہے۔ یہ مسجد تمام مسلمانوں کی ہے، اس لیے سب اپنا حصہ اس کی تعمیر میں ڈالیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں