طالبان قیادت مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں‘ ہالبروک۔ طالبان نے نئی شرائط پیش کردیں

طالبان قیادت مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں‘ ہالبروک۔ طالبان نے نئی شرائط پیش کردیں
halbrookکابل(خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ طالبان قیادت اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی،ادھر برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے بھی مذاکرات مشروط کر تے ہوئے امریکا سے دہشت گردوں کی بلیک لسٹ سے رہنماوں کے نام خارج کرنے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ،دوسری جانب افغان صوبہ پکتیکا میں ناٹو فوج نے اپنی ایک چیک پوسٹ پر حملے کے بعد جوابی کارروائی میں 80 طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکا کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ مفاہمت کی بات چیت کیلئے طالبان قیادت اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ طالبان کے کچھ گروہ بات چیت کے عمل میں آگے بڑھ رہے ہیں لیکن طالبان کے رہنما اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ ان کے موقف میں لچک کے کوئی اشارے نہیں مل رہے ہیں۔امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے بیشتر گروہ طالبان کی طرح غیر لچکدار موقف نہیں رکھتے۔
رچرڈ ہالبروک نے طالبان سے مذاکرات کیلئے بنائی گئی کونسل کے رکن محسوم استانکزئی سے کابل میں ملاقات کی۔ محسوم استانکزئی کا کہنا تھا کہ طالبان کی بڑی تعداد ان سے رابطے میں ہے لیکن ہالبروک اس سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ طالبان ہیں جو ملا عمر کی پالیسی سے اتفاق نہیں رکھتے۔
ادھرافغان طالبان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے سینئر رہنماوں کے نام دہشت گردوں کی بلیک لسٹ سے خارج کرنے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کے داماد غیرت بہیر نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ طالبان نے پیشگی شرائط عائد کی ہیں کہ مذاکرات کیلئے خیرسگالی کے طور پر ان کے رہنماوں کے نام مطلوب افراد کی فہرست سے نکالے جائیں،انہوں نے کہا کہ غیرملکی فوجوں کی واپسی بھی اہم مسئلہ ہے جس کے بعد ایک مشترکہ حکومت کے قیام پر بات کی جا سکتی ہے۔غیرت بہیر نے کہا کہ جب تک طالبان کے رہنما ملا عمر کو مذاکرات میں شامل نہیں کیا جا تا، بات چیت کی کامیابی یا نتیجہ خیز ہونے کے امکانات نہیں۔اخبار کے مطابق کراچی سے گرفتار ہونے والے طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر افغان حکام سے خفیہ مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
علاوہ ازیں صوبے پکتیکا میں ناٹو نے جھڑپوں اور فضائی حملوں میں 80 طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ پکتیکا کے گورنر کے ترجمان فرید مخلص نے امریکی ٹی وی کو بتایا کہ ناٹو فوج اور طالبان میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب رات گئے جنگجووں نے ناٹو کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ لڑائی کے دوران ناٹو کی فضائی مدد طلب کرنے پر طیاروں نے طالبان کو نشانہ بنایا۔
ادھر ناٹو نے تصدیق کی ہے کہ طالبان نے ضلع برمل میں اتحادی فورسز کی چیک پوسٹ پر چاروں طرف سے بھاری گولا بارود اور چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔حملہ اس قدر شدید تھا کہ اتحادی فورسز کو فضائیہ کی مدد لینا پڑی۔ناٹو ترجمان نے کہا کہ حملے میں5 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ایساف کی جانب سے جاری ایک اور بیان میں کہا گیا کہ جنوبی افغانستان میںطالبان کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک ناٹو فوجی ہلاک ہوگیا۔
صوبہ ہرات میں طالبان نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کرکی 10پولیس اہلکاروںکو ہلاک جبکہ2 کوزخمی کردیا۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں