ایرانی اہل سنت پر دینی وسیاسی دباو میں شدت

ایرانی اہل سنت پر دینی وسیاسی دباو میں شدت
iran_map1گزشتہ چند ہفتوں میں ایران کی سنی برادری کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کا سرسری جائزہ لیاجائے تو صاف معلوم ہوتاہے حکومت میں گھسے ہوئے بعض تنگ نظر عناصر ایرانی اہل سنت کیخلاف پہلے سے کہیں زیادہ سرگرم ہوچکے ہیں۔ امتیازی سلوک اور سیاسی ومذہبی دباو میں شدت آگئی ہے اور ایران کی دوسری بڑی اکثریت پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہاہے۔

حالیہ جابرانہ واقعات کا سلسلہ تہران اورایران کے دیگر بڑے شہروں میں سنی کمیونٹی کی باجماعت نماز اور جمعہ وعیدین کی ادائیگی پر حکومتی پابندی سے شروع ہوا۔ پہلے تہران کے صوبائی گورنر نے اس واقعے کا انکار کرتے ہوئے ’’بعض مقامات‘‘ کا عجیب لسٹ شائع کیا کہ ان جگہوں پر اہل سنت نے عید الفطر کی نماز پڑھی ہے! مگر ان کا یہ دعویٰ اس وقت طشت از بام ہوا جب ’’قدس‘‘ کے گورنر نے بذات خود ’’شہرک دانش‘‘ کے سنی مسلمانوں کو جمعہ پڑھنے سے سختی کے ساتھ منع کیا اور حکومتی آرڈر پر صوبہ تہران کے ایک اور شہر ’’رباط کریم‘‘ میں اہل سنت کے جمعے کے اجتماع کو غیرقانونی قرار دیا۔ گویا اب نماز پڑھنے کیلیے بھی حکومت سے اجازت لینی چاہیے!
مزید برآں مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم کے داماد اور بھتیجے حاجی عبدالرحیم شہ بخش کو تہران کی ایک عدالت میں اس بہانے بلایا گیا کہ ان کے لیپ ٹاپ کو واپس کردیا جائے گا۔ ان کا لیپ ٹاپ و دیگر ذاتی اشیاء کو سیکورٹی حکام نے تہران انٹرنیشنل پر اس وقت ضبط کیا تھا جب وہ دورہ ترکی سے مولاناعبدالحمید کے ساتھ واپس ہوئے تھے۔ مگر انہیں لیپ ٹاپ دینے کے بجائے جیل کی راہ دکھائی گئی۔ایک ماہ تک گھروالوں سے بات کرنے اور ملاقات پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی۔
اس گرفتاری سے دو دن قبل ایک اور ناخوشگوار واقعے میں نامعلوم شرپسندوں نے دارالعلوم زاہدان کے ایک سینئر استاد حافظ محمد اسلام کو گھیرے میں لیکر چاقو کے وار سے زخمی کردیا۔ یہ بزدلانہ حملہ یقیناًزاہدان میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی کوشش تھی جسے سنی علمائے کرام اور باخبر شہریوں نے ناکام بنادیا۔
دوسری جانب سیکورٹی حکام نے اہل سنت ایران کو مزید تنہا کرنے اور دباو میں رکھنے کی ایک اور کوشش میں بعض سرکردہ بلوچ اور سنی علمائے کرام کو تہران ایئرپورٹ پر باہر ملک جانے سے روک دیا۔ ان علمائے کرام کے پاسپورٹ ضبط کرکے انہیں سرعام تذلیل کے بعد کہاگیا ایران سے نکلنے کی خواہش بھول جاو! اس سے چند مہینے قبل ممتاز سنی عالم دین اور بلوچستان کے شورائے مدارس اہل سنت کے سربراہ مولانا عبدالحمید کے پاسپورٹ کو حکومت نے اپنی تحویل میں لیکر ان کے غیرملکی اسفار پرپابندی لگائی تھی۔
گزشتہ ہفتے ہی میں خطیب اہل سنت زابل(سیستان کاصدر مقام) مولانا عبدالرشید شہ بخش کو مشہد کی ’’عدالت برائے علماء‘‘ میں بلایا گیا۔ یہ عدالت سنی علمائے کرام کو تنگ کرنے اور انہیں دباو میں رکھنے کیلیے کافی مشہور ہے۔
اس دوران حملوں اور سنی برادری کے قومی ومذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ (سنی آن لائن) کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ چنانچہ ایران میں اسے فلٹر کرنے کے بعد دو مرتبہ مجہول مگر معلوم المقصد عناصر نے ’’سنی آن لائن‘‘ کو ہیک کرنے کی ناکام کوشش کی جو بالاخر انہیں شکست اور رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔
حکومت کے امتیازی سلوک میں تیزی کو دیکھ کر بعض انتہاپسند عناصر نے موقع غنیمت سمجھ کر الزام تراشی اور کردار کشی کے مذموم سلسلے کو شدت دی۔ ان عناصر کے لب ولہجے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ ایران میں اہل سنت کو کچل دیاجائے، پھرانہیں کچھ کہنے حتی کہ واقعات کی رپورٹنگ کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے!
شیعہ انتہاپسندی کی ترویج کیلیے کوشاں یہ عناصر کو شکایت ہے کہ باہر کی دنیا کو ایرانی اہل سنت سے خبرگیری کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ غیرملکی میڈیا خاص کر عرب دنیا کے اخبارات ورسائل کیوں ان واقعات کی خبررسانی کرکے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں؟ وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ایسی حرکت کیوں کی جاتی ہے جس سے دوسروں کو موقع مل جاتاہے اور قومی امن اور اتحاد بھی داو پر لگ جاتاہے۔ ان متعصب عناصر کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج کی دنیا جو میڈیا کی بدولت چھوٹی سی بستی بن چکی ہے، معمولی خبریں بھی چند لمحوں میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں۔ اب باہر کی دنیا کو بے خبر رکھنے کی خواہش بالکل فضول ہے۔ نیز سنی برادری ہرگز خاموشی اختیار کرکے ہاتھ پرہاتھ نہیں رکھے گی تاکہ صرف نظارہ گر بن جائے کہ ان کاساتھ کیا کچھ ہورہاہے۔ اہل سنت اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی رہے گی۔
ہم اس ویب سائٹ کے ذریعے حکام پر واضح کرناچاہتے ہیں کہ ایسے جابرانہ اور انصاف سے کوسوں دور اقدامات سے صرف اور صرف قومی وحدت خطرے مین پڑجائے گی اور سنی عوام اور حکومت کے درمیاں بداعتمادی کی فضا قائم ہوجائے گی۔  حکام بتائیں کہ اہل سنت کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ علمائے اہل سنت کیوں محدود ہوں اور تذلیل کا سامنا کریں؟ ’’سنی آن لائن‘‘ کی فلٹرنگ اور ہیکنگ سے کس مرض کی دوا ہوگی؟ اہل سنت والجماعت ایران جو ہمیشہ پرامن طریقے سے اپنے حقوق اور مطالبات کیلیے آواز اٹھاتی چلی آرہی ہے کو کیوں دبانے کی سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں؟ کیا ایسے اقدامات سے خدا راضی ہوگا اور یہ کوئی معقول کام ہے؟
اگرچہ ایرانی آئین میں بعض ایسی قابل اعتراض شقیں موجود ہیں جو اہل سنت کو ان کے قومی حقوق سے محروم رکھتی ہیں، اس کے باوجود سنی برادری نے قومی اتحاد و یکجہتی اور امن وامان کی بقا کی خاطر اس قانون کو تسلیم کیا ہے اور اسی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔
اعلی حکام سے ہمارا سوال ہے کہ بڑے شہروں میں مسجد تعمیر کرنے کا مطالبہ، ملازمتوں اور مناصب کی تقسیم میں امتیازی رویہ کے خاتمے کا مطالبہ ایران کے آئین یا بین الاقوامی قوانین کی کن شقوں سے متصادم ہے؟ نیز جو شخصیات یہ مطالبات پیش کرتی ہیں ان کی باتوں کو نظرانداز کرنا اور بعض اوقات اسی ’’جرم‘‘ میں انہیں عدالت طلب کرنا اور مختلف طریقوں سے تنگ کرنا کس قانون کے تحت عمل میں لایاجارہاہے؟ ایرانی آئین یا عالمی حقوق انسانی کے منشور کی رو سے ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جاتاہے؟
سابق صدر آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کیا ہی اچھا کہا ہے کہ آج کل عوام سے طاقت کی زبان میں بات کرنا الٹا نتیجہ دیتاہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جبر و زبردستی سے کوئی کمیونٹی، قوم یا معاشرہ دباو میں آنے کے بجائے مزید قوت کے ساتھ ردعمل کا اظہار کرکے ابھرے گا۔

SunniOnline.us


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں