زاہدان میں زیرتعلیم سنی طلباء کا تعارفی اجتماع

زاہدان میں زیرتعلیم سنی طلباء کا تعارفی اجتماع
students-officeرپورٹ (سنی آن لائن) زاہدان شہر کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز میں نئے آنے والے سنی طلباء کی تعارفی میٹنگ جمعہ بائیس اکتوبر کو دارالعلوم زاہدان میں منعقد ہوئی۔

دارالعلوم زاہدان کے ذیلی دفتر جو یونیورسٹی طلباء کے امور کے لیے خاص ہے، کی کاوشوں اور سینئر سنی طلباء کی معاونت سے یہ اجتماع ایران کے مختلف علاقوں سے آنے والے اہل سنت طلباء کے باہمی تعارف اور علمائے کرام سے ان کے تعلق کی غرض سے منعقد ہوا۔
اس روحانی محفل میں ’’دفتر برائے امور طلبہ‘‘ کے سرپرست مولوی مرجانی، سیستان وبلوچستان یونیورسٹی کے لیکچرار ڈاکٹر سپاہی اور خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے خطاب کیا۔

ترقی یافتہ قوم وہ ہے جس کے نوجوان ہر فن میں مہارت وتخصص حاصل کریں
جلسے کی ابتداء دفتر برائے امور طلبہ، کے نگران مولوی حبیب اللہ مرجانی نے کی۔ انہوں نے زاہدان کی یونیورسٹیز کے نئے اہل سنت طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا طلبہ، ثقافتی کارکن اور دانشور حضرات اسلامی معاشرے کی امیدیں ہیں اور جس قوم نے اپنے نوجوانوں کو علوم و فنون اور مہارت سے مزین کیا ان کا مستقبل روشن اور امید افزا ہوگا۔
انہوں نے دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے طلباء کی جد وجہد اور علم وہدایت کو یکجا حاصل کرنے کو معاشرے کی کامیابی وخوشحالی کا راز قرار دیا۔
مولوی مرجانی نے متعلقہ دفتر کی بعض خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید کہا ہماری طرف سے اہل سنت کے طلبہ وطالبات کے لیے قیام گاہ (ہاسٹلز) کا انتظام کیا گیا ہے تا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوجائیں، نیز بعض مخصوص کلاسز، شارٹ کورسز، سمر کیمپس، سنی طلباء کی آفیشل ویب سائٹ کا اجرا اور سالانہ اجتماع برائے طلبائے اہل سنت ایران مذکورہ دفتر کی خدمات میں شامل ہیں۔

قوم کی بقا کا تعلق علوم اور نافذ اخلاقیات سے ہے
سیستان وبلوچستان یونیورسٹی کے سینئر لیکچرار ڈاکٹر سپاہی نے ’’طلباء‘‘ اور ’’اسٹیوڈنٹس‘‘ کو دو مقدس الفاظ قرار دیتے ہوئے ان کی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو معاشرے کی ترقی کا راز قرار دیا۔
طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا آپ چونکہ ایک نئے ماحول میں آچکے ہیں شاید آپ کو بعض مسائل کا سامنا کرنا پڑے، اس لیے اپنے استاذہ اور اچھے دوستوں سے مدد لیکر مشکلات حل کریں۔ دوست بنانے میں از حد محتاط رہیے، برے لڑکوں سے دور رہ کر ایسے طلباء سے دوستی لگائیے جو اسباق اور دینی امور میں آپ کے معاون اور دوست بن سکیں۔
آخر میں ڈاکٹر سپاہی نے تاکید کی: آپ طلبہ کی تمام تر توجہ نصابی اسباق اور مفید مطالعہ پر ہو، مختلف افکار، سیاسی ومذہبی رجحانات کو چھوڑ کر لائبریروں اور علمائے ربانی سے اپنا تعلق جوڑ دیں۔

موجودہ دنیا میں سب سے بڑا مقابلہ علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہے
ڈاکٹر سپاہی کے بعد دارالعلوم زاہدان کے رئیس الجامعہ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں آنے والے نئے سنی طلبہ سے خطاب کرکے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا دنیا میں سب سے بڑی دوڑ علم وفن کے میدان میں جاری ہے۔ یہ مقابلہ بہت اچھا ہے چونکہ جب تک انسان میں مقابلے کا احساس وجذبہ نہ ہو تو کوشش ومحنت کا جذبہ بھی اس کے وجود میں نہیں آئے گا۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا آج کل ہر ملک اور برادری اس تلاش میں ہے کہ سپر پاور بن جائے اور مزید طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرے۔ اس مقابلاتی دنیا میں اگر کوئی قوم یا ملک دوسروں کا محتاج ہو تو اس کی مدد کرنا دور کی بات ہے بلکہ سب اس قوم کو معیشتی، سیاسی اور ثقافتی طور پر غلام بنانے کے در پے ہوتے ہیں۔ ماضی میں تیسری دنیا کے ممالک میں اور اسلامی ملکوں میں ’’سیاسی وفکری مقابلے‘‘ کا شعور وجذبہ نہیں تھا لیکن اب یہ احساس وجود میں آیا ہے کہ ہمیشہ دوسروں کی اشیاء استعمال کرنے کی بجائے اپنی پیداوار کی صلاحیت کو ترقی دی جائے۔
مختلف یونیورسٹیز کے طلبہ کو مخاطب کرکے مولانا عبدالحمید نے کہا طلب علم ودانش میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کریں، دانش اور سائنس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔
طلب علم وفن کے مقصد کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا آپ کو سوچنا چاہیے کہ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے؟ طلب معاش اور مادی فوائد یا ملک وقوم کی خدمت؟ یقین کیجیے اگر حصول تعلیم کا مقصد وغرض ذاتی نفع تک محدود نہ ہو اور کوئی اسلامی معاشرے اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے تعلیم حاصل کرے تو ضرور اللہ تعالی کی مدد ونصرت اس کے ساتھ ہوگی اور اس کی دنیوی زندگی بھی بدل جائے گی۔
حاضرین کو نصیحت کرتے ہوئے ممتاز عالم دین نے کہا آپ کو ہر حال میں یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ آپ مسلمان ہیں اور پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرچکے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں احکام دینیہ خاص کر نماز کی پابندی کریں، ممنوعہ کاموں سے اجتناب کرکے حلال وحرام کی تمیز کریں۔
آخر میں طالبات کو بطور خاص مخاطب کرکے مولانا عبدالحمید نے کہا اسلام کے دستورات و اوامر کا خیال رکھیں، پوشاک میں اسلامی احکام کو نظر انداز مت کریں۔ تعلقات کے حوالے سے آگاہ وہوشیار رہیں۔ اگر علم اور ہدایت تمہیں مل گئے تو یقین کیجئے دنیا وآخرت میں عزت وسربلندی تمہارا مقدر ہے۔
اس تعارفی نشست کے آخر میں یادگار کے طور پر ’’دفتر امور طلبہ‘‘ کی طرف سے طلبہ کو شیلڈ پیش کیے گئے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں