صوبہ تہران: اہل سنت کو جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں!

صوبہ تہران: اہل سنت کو جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں!
tehranتہران(سنی آن لائن/اصلاح ویب) تہران شہر میں سنیوں کے جمعہ وعیدین کے اجتماعات پر پابندی کے بعد اب صوبے کے بعض دیگر شہروں میں بھی اہل سنت کو جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

“اصلاح ویب” کی رپورٹ کے مطابق تہران کے بعد اب ایرانی حکام نے آس پاس کے سنیوں کی عبادات کیخلاف کریک ڈاون کا آغاز کرتے ہوئے اہل سنت برادری کے نماز جمعہ پر پابندی لگائی ہے۔ یہ مجرمانہ پابندی “دانش” سٹی اور رباط کریم کے “نسیم شہر” نامی شہروں میں عائد ہوچکی ہے۔
“جماعت دعوت واصلاح” کے سرگرم رہنما مسٹر ستودہ نے مذکورہ خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے اس معاملے میں متعلقہ حکام کے رویہ اور باتوں میں کھلا تضاد پایا جاتاہے جس سے وہ ہرگز انکاری نہیں ہوسکتے۔ وزیرداخلہ نے سنی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کے دوران کہا تھا اہل سنت برادری پر اس طرح کی کوئی پابندی نہیں اور صوبہ تہران کے گورنر نے بھی عیدالفطر کے اجتماع ونماز پر پابندی کی تردید کی تھی، دوسری جانب “قدس” سٹی کے گورنر بذات خود 15 اکتوبر بروز جمعہ کو بلدیہ “دانش” میں حاضر ہوکر نمازیوں کو جمعہ نہ پڑھنے کا سرکاری حکمنامہ سناتے ہیں۔
تہران کو مکہ ومدینہ سے تشبیہ دیکر سنی برادری کو شیعہ ائمہ کے اقتدا مین نماز پڑھنے کے مشورے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر ستودہ نے کہا معلوم نہیں یہ حضرات کیوں بھول جاتے ہیں کہ حرمین میں جمعہ کے اجتماعات مسجدالحرام اور مسجد النبی تک محدود نہیں بلکہ عالم اسلام کی عظیم ترین مساجد سے چند قدم کے فاصلے پر نماز جمعے کے متعدد اجتماعات قائم ہوتے ہیں جو فقہ اہل سنت کے موافق ہے۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 12 نے شیعہ مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیکر اہل سنت کے چاروں فقہی مسالک کو تسلیم کیا ہے اور ان کے پیروی کرنے والوں کو “مکمل آزادی و احترام” دیا ہے۔ یقینا اس طرح کے واقعات جو صوبہ تہران میں رونما ہوئے سوفیصد آئین سے متصادم اقدامات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا میدان عمل میں بھی یہ سوال کیاجاسکتا ہے کہ کیا ملک کے سنی اکثریت شہروں میں شیعہ برادری سنیوں کے اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں؟ ان شہروں حتی کہ سنیوں کی دیہات اور بستیوں میں بڑی بڑی شاندار شیعہ مساجد وامام بارگاہوں کی تعمیر اس سوال کا منفی ترین ممکن جواب ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں