آج : 17 October , 2010

’مسلمانوں کو جارح طاقتوں سے لڑناچاہیے، ڈرنانہیں‘

’مسلمانوں کو جارح طاقتوں سے لڑناچاہیے، ڈرنانہیں‘
molana25خطیب اہل سنت زاہدان اور سرپرست دارالعلوم زاہدان نے جمعہ رفتہ میں جامع مسجد مکی کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے دشمن سے خوف اور ڈر کو ہلاکت خیز بیماری قرار دیکر فرمایا: مسلمانوں کو جارح طاقتوں اور اسلام دشمن عناصر کے مقابلے کیلیے دلیری و بہادری سے کام لینا چاہیے، خوف کاشکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی ان کاحامی وناصر ہے اور ہر اس گروہ کی حمایت کرتاہے جو اپنے حقوق سے محروم ہو۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بعض مسلم ملکوں میں امریکی واسرائیلی افواج کی جارحیت کے تسلسل کو مسلمانوں کے غلط اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے ہمارے دشمنوں کو مہلت دی ہے اور انہیں ابھی تک تباہی سے دوچار نہیں کیا ہے تاکہ ہم آگاہ ہوجائیں اور غلط راہوں پر جانے سے بازآئیں۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا اللہ تعالی نے ظلم کو حرام قرار دیاہے۔ حدیث قدسی میں آتاہے: ”انی حرمت الظلم علی نفسی“ میں نے اپنے اوپر ظلم کرنے کو حرام قرار دیاہے۔ آگے فرماتاہے تو تم بھی ظلم مت کرو۔ جب اللہ ظلم سے منع کرتاہے، خود پر ظلم کو حرام قراردیتا ہے تو بندوں کو بھی ظلم سے اجتناب کرناچاہیے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ´:”و ماربک بظلام للعبید“ خالق کائنات ہرگز ظلم نہیں کرتا اور عادل ومحسن ہے۔
جامع مسجد مکی میں حاضر ہزاروں فرزندانِ اسلام کو مخاطب کرکے مولانا عبدالحمید نے تاکید کی اپنے زیردست افراد جن کی کفالت آپ پر ہے رحم وانصاف سے کام لیں۔ ان کے حقوق ادا کریں۔ بیوی بچوں کے ساتھ عادلانہ سلوک کرکے ان کے درمیان امتیازی رویہ اختیار کریں۔ والدین، پڑوسی، پارٹنرز اور تمام وہ اشخاص جن کے حقوق آپ کے ذمے میں ہیں کے ساتھ عدل وانصاف پر مبنی رویہ اختیار کیجیے۔
انہوں نے مزید کہا جو ظلم کرتا ہے ضرور اس کا بدلہ وسزا بھگت لے گا۔ ہم نے ایک سے زائد ظالموں کے عبرت آموز انجام کو دیکھا ہے۔ جو ظلم کرتا ہے دراصل اپنے نفس کے ساتھ برا کرتا ہے اور اپنا مستقبل تباہ کرتا ہے۔ جانوروں پر ظلم سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ایک مرتبہ ایک اونٹ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مالک سے شکایت کی کہ اس سے بہت کام کرواتا ہے مگر کہلاتا کم! جانوروں کو سخت سردی میں رکھنا، حد سے زیادہ کام کروانا اور خوراک کم دینا ظلم و تعدی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا اگر آدمی ایک طرف حج وعمرہ کرے، قرآن کی تلاوت کرے اور نماز پڑھے مگر لوگوں کے حقوق ضائع کرے اور ان کے ساتھ ظلم کرے بلاشبہ اس کا انجام جہنم ہے۔ ظلم کی وجہ سے اس کے سارے اعمال برباد ہوجائیں گے۔ جو لوگوں کی راہ بند کرکے انہیں اغوا کرتا ہے دراصل اپنی زندگی کو آگ لگاتاہے۔ اغوا شدہ فرد یہودی ہو یا عیسائی، مسلم ہو یا غیرمسلم بہر حال انسان ہے اور اس کے مال وجائیداد ہر ناجائز قبضہ اور اسے تکلیف پہنچانا حرام فعل ہے۔
انہوں نے مزید کہا بہت سارے حکام اور ظالم حکمرانوں کو اللہ تعالی نے اسی دنیا میں سزا دیکر ان کے عبرتناک انجام کو ہمیں دکھایا۔ عراق کے سابق حکمران کا انجام سب نے دیکھا۔ سابق سوویت یونین نے افغانستان میں ظلم و سربریت کی کیاکیا داستانیں رقم کیں، اس کا انجام کیا ہوا؟ یہ آپ کے سامنے ہوا۔ ایک سپر پاور برباد ہوگیا، ریڈ آرمی خوار وذلیل ہوگئی اور دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوئی۔ نہ صرف افغانستان بلکہ وہ تمام ممالک جو ان کی جارحیت کانشانہ بنے ہوئے تھے آزاد ہوئے۔
آج امریکا بھی ظلم وجارحیت کا علمبردار ہے اور رصد خداوندی سے غافل ہے۔ حالانکہ اللہ تعالی پر ان کا کردار مخفی نہیں اور بہت جلد امریکیوں کا عبرتناک انجام سب کے سامنے ہوگا۔
اسرائیلیوں کے مظالم ہمارے سامنے ہیں، فلسطین میں ’حقوق انسانی‘ ایک بے معنا اصطلاح ہے اور مغرب کی بھر پور حمایت سے صہیونی جنونی جو کچھ کررہے ہیں وہ ضرور اس کی سزا بھگت کرجائیں گے۔ نہ صرف اسرائیل بلکہ سارے جابر وظالم حکمرانوں کو اپنے اعمال کی سزا جلد یا بدیر بھگتنا ہوگا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا اللہ تعالی کا کسی کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ اللہ تعالی ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ ہے اور عادل ومنصف کی حمایت کرتاہے، ظالم کو [میں ہوں یا آپ] کسی نہ کسی دن ضرور عذاب سے دوچار کریگا۔
اپنے بیان کے آخر میں آپ نے ’مکی مسجد‘ کی تعمیرِنو پروجیکٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حاضرین سے درخواست کی کہ نیک دعاوں اور مالی تعاون کے ساتھ اس پلان میں اپنا حصہ ڈالیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں