ڈنمارک نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر عالم اسلام سے معافی مانگ لی

ڈنمارک نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر عالم اسلام سے معافی مانگ لی
rosoum-mohammadقاہرہ (العربيہ) ڈنمارک نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور اسلام کے خلاف توہین آمیز خاکوں اور متنازعہ کارٹونز کی اشاعت پر باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کی وزیر خارجہ لین اسپرسن نے مصر کی معروف درسگاہ جامعہ ازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب سے ملاقات میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر معافی مانگی۔
ڈنمارک وزیر خارجہ کاکہنا تھا کہ “ایک ڈینش اخبار میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور اسلام کی توہین کیے جانے پر دکھ ہے۔ مجھے پوری طرح احساس ہے کہ ڈنمارک کے اخبارکے اس اقدام سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، جس پر وہ خلوص نیت سے معافی کی خواستگارہیں”۔
مسز اسپرسن کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کسی شخص کے قتل کی دھمکیوں کا موجب نہیں بننا چاہیے۔ ڈنمارک کو گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر شدید تشویش ہے تاہم اس اقدام میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ خاکوں کی اشاعت پر براہ راست ڈنمارک کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔
ڈینش وزیر نے شیخ الازھر کو یقین دلایا کہ ان کا مُلک گُستاخانہ خاکوں کی اشاعت یا اسلام اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی اقدامات کا اعادہ نہیں ہونے دے گا۔اسپرسن کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکے ایک شخص کا انفرادی فعل ہے۔ اس کا ڈینش عوام یا حکومت سے قطعا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی حکومت اور پوری قوم ہر دور میں اسلامی تہذیب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے۔
العربیہ کے مطابق ڈینش وزیر خارجہ نے بدھ کو قاہرہ میں شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ڈاکٹرالطیب کا شیخ الازھر کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈینش وزیر کی یہ ان سے پہلی ملاقات ہے۔ اس موقع پر وزیر موصوفہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک عالم اسلام کے ساتھ مضبوط تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے۔ ڈنمارک نے ماضی میں بھی باہمی احترام کی بنیاد پر اسلامی دنیاسے تعلقات قائم کئے اور آئندہ بھی ایک دوسرے کے مذاہب کے احترام کے ساتھ اس سفر کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
ڈینش وزیر نے اعتراف کیا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے ان کے ملک اور عالم اسلام کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے، جس پر انہیں دکھ ہے۔ تاہم پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت جیسے اقدام کا اعادہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اس موقع پر شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب نے ڈینش وزیر کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر معافی کو سراہا۔ ان کا کہناتھا کہ ڈنمارک کی طرف سے مسلمانوں کی دلآزادی کا سبب بننے والے متنازعہ خاکوں کی اشاعت پر معافی سے کوپن ہیگن اور اسلامی دنیا میں فاصلے کم ہونے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر احمد الطیب نے ڈینش خاتون وزیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ” مغرب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلام کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکا۔ اسلام اعتدال پسندی کا مذہب ہے اور ہر قسم کی شرپسندی اور تشدد کی مذمت کرتا ہے۔ تمام اقوام کے مابین امن بقائے باہمی، رواداری اور اعتدال پسندی اسلام کی بنیادی اور اہم ترین خصوصیات ہیں۔
شیخ الازھر نے ڈینش حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاہب کے احترام سے متعلق اپنے آئین کے آرٹیکل 140 اور 266 پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ دستور کی یہ دفعات نہ صرف تمام مذاہب کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں بلکہ ان میں کسی مذہب کی توہین کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ڈنمارک کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر باضابطہ طور پر پہلی مرتبہ معافی مانگی گئی ہے۔ سنہ 2004ء کے بعد سے اب تک ڈنمارک کے متعدد اخبارات نبی اکرم کے گستاخانہ خاکے کئی بار شائع کر چکے ہیں۔ عالم اسلام کے شدید احتجاج کے باوجود ڈینش حکومت اب تک اسے انفرادی فعل قرار دے کر نظر انداز کرتی رہی ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں