تذکرہ غازی

تذکرہ غازی
mahmoud_ghaziکبھی کوئی حادثہ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ زبان کو اس کے اظہار کا یارا نہیں ہوتا، زبان دانی کا فسوں دم توڑ دیتا ہے، کوئی لفظ، کوئی پیرایہ اظہار کفایت نہیں کرتا کہ ”اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے“ ایسے ہی ایک حادثے کی اطلاع 26 ستمبر کو موصول ہوئی کہ ”ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ انتقال کرگئے ہیں۔“ یہ سننا تھا کہ زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون کے بعد جو پہلا جملہ ادا ہوا وہ ”موت العالِم موت العالم“ تھا (عالِم کی موت عالَم کی موت ہی)۔

1953ءمیں جب سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا اور ان کی تدفین کا وقت آیا تو ایک عرب ملک کا سفیر زاروقطار رو رہا تھا،کہتا تھا کہ ”میں اس تنِ خاکی کے خاک میں ملنے پر نہیں روتا، میں تو اس بات پر رو رہا ہوں کہ یہ ایک علم کا سمندر ہے جو نذر ِگور ہوا چاہتا ہے“۔ یہی کچھ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کے سانحۂ ارتحال پر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
غازی صاحب رحمہ اللہ کا تعلق ہندوستان کے مردم خیز خطے یوپی کے ایک علمی خانوادے سے تھا۔ ایک موقع پر اسلامی دنیا کے علمی سرمائے کی یورپ منتقلی سے متعلق گفتگو میں گہرے رنج کے ساتھ فرمایا: ”میں نے وہاں اپنے خاندان کے بزرگوں کی کتب دیکھیں جن پر ان کی مہریں تک ثبت ہیں“۔ مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ نے روایتی دینی تعلیم جامعة العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاﺅن کراچی سے حاصل کی اور پھر اس تعلیمی سلسلے کو پی ایچ ڈی تک پہنچایا۔ آپ کو السنة الشرقیہ (یعنی عربی و فارسی) کے ساتھ ساتھ السنة الغربیہ یعنی انگریزی، جرمن اور ہسپانوی زبانوں میں درک حاصل تھا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ ربع صدی سے زیادہ عرصہ تک ادارہ تحقیقات اسلامی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے منسلک رہے۔ بلکہ مؤخر الذکر ادارے میں آپ نے رئیس الجامعہ کی حیثیت میں خدمات انجام دیں۔ جب آپ کا انتخاب بطور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کے طور پر ہوا تو وزارت کے مختصر عرصے میں آپ نے بلاسود معیشت کے حوالے سے اہم پیش رفت کی۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کے تبحر علمی کا اندازہ لگانے کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ جنوبی ہند کی ”اسلامی تعلیمی انجمن“ کی کوششوں سے 1925ءمیں مدراس سے خطبات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ (1882۔1953ئ)، محمد مارماڈیوک ولیم پکتھال (1936-1875)، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمہ اللہ (1938-1877) اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ (2002-1908) سے ہوتا ہوا جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کے خطبات بہاولپور (2) پر منتج ہوا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ ملکی اور گروہی تعصبات سے پاک، اسلاف کے علم و حلم کا نمونہ تھے۔ آپ طالبانہ جستجو اور عالمانہ شان لئے ہوئے تھے۔ آپ کے خطبات، محاضرات اور نگارشات میں علمی خوشہ چینی کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ آپ اسلاف کے علمی کارناموں کے اعتراف کے ساتھ ہم عصر صاحبانِ علم و عرفان کے کمال کا ذکر بھی نہایت عقیدت سے کرتے۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ رحمہ اللہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ: ”وہ بیسویں صدی میں مجدد علوم سیرت ہیں“ علاوہ ازیں ترک نژاد جرمن شہری ”فواد سیزگن“ کے متعلق آپ کا کہنا تھا کہ: ”اگر مجھ سے کہا جائے کہ اس دور کی تین فاضل ترین شخصیات کے نام بتاﺅ تو میں سب سے پہلے ان کا (فواد سیزگن) کا نام بتاﺅں گا۔“
آپ کی عالمانہ شانِِ جلالت کا اعتراف صرف اسلامی دنیا میں ہی نہیں کیا گیا بلکہ مغرب بھی آپ کی علمی بصیرت کا قائل تھا۔ چنانچہ آج سے آٹھ یا نو سال قبل جرمنی میں Is Islam a threat to Western Europe? (کیا اسلام مغربی یورپ کے لئے خطرہ ہے؟) کے عنوان سے ایک ہفت روزہ اجتماع منعقد ہوا تو اس موضوع پر پورے عالم اسلام کی نمائندگی اور اس کے مؤقف کے اظہار کے لئے ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کو چنا گیا۔
آپ پاکستان میں رہنے والے غیر معروف اور کم آمیز صاحبانِ علم سے بھی رابطے میں رہتے اور کسبِ فیض کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ اس ضمن میں آپ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد علی صدیقی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”وہ انتہائی عالم فاضل انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عجیب و غریب ملکہ زود نویسی بلکہ زود تحقیقی کا عطا فرمایا تھا۔“
جاری ہے…

(بہ شکریہ اداریہ جسارت)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں