عراق: دو بم دھماکوں میں 30 افراد جاں بحق، 64 زخمی

عراق: دو بم دھماکوں میں 30 افراد جاں بحق، 64 زخمی
baghdad-enfejarبغداد(العربیہ) عراق میں سیکیورٹی حکام کے مطابق ملک کے شمال اور جنوب میں اتوار کے روز دو الگ الگ کار بم دھماکوں میں کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 64 زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک کار بم دھماکہ بغداد کے مغرب میں المنصور کالونی میں ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ شمال میں عدن شہر میں ہوا۔

المنصور کے علاقے میں کار بم دھماکے میں ایک نجی موبائل کمپنی “ایشیا سیل” کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا جس سے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ موبائل کمپنی کا دفتر تباہ ہو گیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جائے وقوعہ کے قریب دسیوں عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ بیس گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ حکام کے مطابق دونوں دھماکے مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر دس منٹ پر ہوئے۔
دوسری جانب ملک میں پچھلے چھ ماہ سے جاری سیاسی تعطل کے خاتمے اور حکومت سازی پر غور کے لیے صدر جلال طالبانی کی ہدایت عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس آج ہو رہا ہے۔
العربیہ کے مطابق صدر طالبانی نے العراقیہ پارلیمانی اتحاد کے وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد امیدوار عادل عبدالمھدی کی مطالبے پر آج پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا تھا۔
عراقی صدر نے تمام پارلیمنٹ کے منتخب دھڑوں کے تمام اراکین پارلیمنٹ پرزور دیا تھا کہ وہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک پارلیمنٹ تین اہم عہدوں کے لیے ناموں پراتفاق نہیں کرلیتی محض اجلاس کی طلبی مفید ثابت نہیں ہوسکتی۔
ادھر دوسری جانب عراقی نیشنل الائنس کے وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد امیدوارعادل عبدالمھدی نے العربیہ کے پروگرام” عراق کا حاکم کون” میں دعویٰ کیا ہے سربراہ حکومت کے لیے انہیں عراقی نیشنل الائنس کے علاوہ کرد اتحاد کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ ریاست کا قانون بھی محدود سطح پران کی حمایت کرتا ہے۔
عادل عبدالمھدی کا کہناتھا کہ ملک میں موجود سیاسی بحران کا خاتمہ تمام سیاسی جماعتوں کی ترجیح ہےتاہم سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے ریاستی قانون کے مطابق آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی نیشنل الائنس اور کردستان پارلیمانی اتحاد کی جانب سے بھی انہیں حمایت حاصل ہے۔
قبل ازیں عراقی صدر جلال طالبانی نے اسی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصب صدارت کردوں کا حق ہے تاہم ممکن ہے کہ یہ کردوں کو نہ ملے۔ اس بات پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا عراقی دستور کی 140 شق کی روشنی میں کرکوک کی صورتحال ایک دستوری بات ہے اور اس پر کسی قسم کی بات نہیں کی جا سکتی۔
جلال طالبانی نے کہا کہ کرکوک شہر کے بارے میں دستوری شق عراق کے اندر اور باہر 12 ملین عراقیوں کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی ہے، اس کی خلاف ورزی کو ملکی دستور کی خلاف ورزی پر محمول کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی فریق کے کردوں کے ساتھ پیش آئند اتحاد کا دار و مدار اسی دستوری شق پر عمل درآمد سے منحصر ہے۔ کردوں کا مطالبہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک شہر کو کردستان میں ضم کیا جائے۔ ان کا دعوی ہے کہ عربوں، ترکمان اور دوسری نسلوں کے افراد پر مشتمل اس علاقے میں ان کی اکثریت ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں