افغانستان:پولنگ ختم،گیارہ ہلاک

افغانستان:پولنگ ختم،گیارہ ہلاک
karzai-election2كابل(بى بى سى) افغانستان میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے جبکہ اس دوران ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں چھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت گیارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان نے ان انتخابات کو ناکام بنانے اور ووٹروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور پولنگ کے دوران جلال آباد، بلخ اور بغلان سمیت متعدد صوبوں میں انہوں نے پولنگ مراکز کو نشانہ بنایا۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغان صدر کی عوام سے کی جانے والی اپیل کے باوجود ملک بھر خصوصاً جنوبی افغانستان میں ووٹنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا اور اس میں وہ جوش دکھائی نہیں دیا جو پانچ برس قبل انتخابات کے موقع پر سامنے آیا تھا۔
افغان صدر نے سنیچر کو کابل میں ووٹ ڈالنے کے بعد عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بے خوف و خطر ووٹنگ کے عمل میں شریک ہوں۔
انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے افغان حکومت نے ڈھائی لاکھ سے زیادہ پولیس اہل کاروں اور فوجیوں کو تعینات کیا تھا، جنہیں بین الاقوامی فورسز کی مدد حاصل تھی جبکہ انتخابی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنز سکیورٹی کی خراب صورت حال کے باعث نہیں کھولے گئے۔

طالبان کے حملے
سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ بغلان صوبے میں ایک پولنگ مرکز پر ہونے والے حملے میں ایک فوجی اور پانچ حکومتی حمایت یافتہ جنگجو مارے گئے جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بلخ میں ایک راکٹ حملے میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں جبکہ شمالی افغانستان میں ایک اور پولنگ مرکز پر طالبان کے حملے میں دو شہری ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
جلال آباد میں دو پولنگ مراکز پر حملے ہوئے ہیں اور شہر میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین تین مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ قندھار کے گورنر توریالائی ویسا کے مطابق ان کے قافلے پر اس وقت بم حملہ ہوا جب وہ انتخابی مراکز کا دورہ کر رہے تھے۔
انتخابی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان نے بلخ کے ضلع چمتل میں انتخابی عملے کے دو ارکان کو ہلاک کیا ہے اور اس علاقے میں تین پولنگ مراکز نہیں کھولے جائیں گے۔ اس کے علاوہ قندھار، بدخشاں، ہرات، خوست اور قندوز سے بھی پولنگ مراکز اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔
الیکشن کے موقع پر دارالحکومت کابل کی بڑی شاہراہوں پر پولیس کے اضافی ناکوں اور کاروں کی جانچ پڑتال کے باعث زیادہ تر خاموشی نظر آ رہی ہے تاہم پولنگ کے آغاز سے قبل ایک راکٹ افغانستان کے سرکاری ٹی وی سٹیشن کے باہرگرا ہے۔
ملک بھر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل طالبان عسکریت پسندوں نے کم از کم تین امیدواروں اور متعدد انتخابی کارکنوں کو ہلاک کیا تھا۔ طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اس موقع پر ملک بھر میں حملے کریں گے جیسا کہ انہوں نے گذشتہ سال صدارتی الیکشن ووٹروں میں خوف زدہ کرنے کے لیے کیے تھے۔
ان انتخابات میں افغان پارلیمان کے ایوان زیریں کی دو سو انچاس نشستوں کے لیے رائے شماری ہوگی جن کے لیے لگ بھگ ڈھائی ہزار امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں چار سو چھ خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔ افغان انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد دس اعشاریہ پانچ ملین ہے جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پانچ سے سات ملین کے درمیان ووٹ پڑنا کامیابی تصور کیا جائےگا۔
گزشتہ سال کے متنازع صدارتی انتخابات اور اس میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کے بعد اب حکومت اور افغانستان میں بین الاقوامی مشن کے لیے ان انتخابات کی کامیابی بہت اہم بن گئی ہے اور ان کی کامیابی افغانستان کے صدر کرزئی کی ساکھ اور ملک کے لیے امید کی ایک کرن بتائی جا رہی ہے۔

شفاف انتخابات ناممکن ہیں
جمعہ کو افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے ہالبروک نے اسلام آباد میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے پارلیمانی انتخابات کے شفاف انعقاد کا امکان کم ہے کیونکہ جنگ کے دوران ایسے الیکشن کرانا جو مکمل طور پر شفاف ہوں، بہت مشکل ہے۔
رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ انھیں اُمید ہے کہ افغانستان میں ہفتہ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوں گے لیکن وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ ایک نا قص عمل ہوگا کیوں کہ ایک ایسے وقت جب ملک حالت ِ جنگ میں ہے اور طالبان کے حملے بھی جاری ہیں ایک مکمل طور پر شفاف انتخابی عمل کا انعقاد ممکن نہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کے انتخابات ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے کیوں کہ ہر نشست کے لیے دس دس امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
ہالبروک نے کہا کہ امریکہ انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اتحادی فوجیوں کو ووٹروں اور پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا جا چکا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ انتخابات مکمل طور پر قابل اطمینان نہیں ہوں گے کیوں کہ ان میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں کے الزامات لگیں گے۔
ان کا کہنا تھا ’ لیکن کیا ان انتخابات کے نتیجے میں افغانستان میں استحکام آئے گا، میرے خیال میں اس کے لیے صرف انتخابات کافی نہیں بلکہ اس کا انحصار منتخب ہونے والی پارلیمان پر ہو گا اور یہ عمل آئندہ سال کے اوائل سے پہلے پورا نہیں ہوگا۔‘
تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کا عوام پر کچھ زیادہ اثر و رسوخ نہیں ہے اور انتخابات کے بعد نسلی دھڑے بندیاں ہی اہم کردار ادا کریں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں