عید مبارک

عید مبارک
eidهر قوم و ملت میں سال کے کچهـ دن جشن مسرت منانے کے لئے مقرر کۓ جاتے ہیں جنہیں عرف عام میں تہوار کہا جاتا ہے، تہوار منانے کے لۓ ہر قوم کا مزاج و مزاق جدا ہوسکتا ہے، لیکن ان سب کی قدر مشترک «خوشی منانا» ہے.

چونکہ انسان کی طبیعت ہے کہ وہ معمولات کی یکسانی سے کبهی کبهی گهبرا اٹهتا ہے، اس لۓ وہ ایسے شب و روز کا خواہش مند ہوتا ہے جن میں وہ اپنے روز مرہ کے معمولات سے ذرا ہٹ کر اپنے ذہن و دل کو فارغ کرے، اور کچهـ وقت بےفکری کے ساتهـ ہنس بول کر گذارے. انسان کی یہی طبیعت تہواروں کو جنم دیتی ہے جو بالآخر کسی قوم کا اجتماعی شعار بن جاتے ہیں.
جب آنحضرت صلی الله علیه وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گۓ تو آپ صلی الله علیه وسلم نے دیکها کہ وہاں کے لوگ نیروز اور مہرجان کے نام سے دو خوشی کے تہوار مناتے ہیں، صحابہ کرام رضی الله عنه نے آپ صلی الله علیه وسلم سے پوچها کہ کیا ہم ان تہواروں میں شرکت کریں؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ “الله تعالی نے تمہیں ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرماۓ ہیں، ایک عید الفطر کا دن، دوسرا عید الاضحی کا”.
چنانچہ امت مسلمہ کے لۓ سال میں یہ دو دن خوشی منانے کے لۓ مقرر کردۓ گۓ جن میں ایک طرف انسانی نفسیات کے مذکورہ بالا تقاضے کی رعایت بهی ہے، اور ساتهـ ساتهـ ان دنوں کے تعین اور ان کو منانے کے انداز میں بہت سے عملی سبق بهی.
کوئی تہوار مقرر کرنے کے لۓ عام طور سے اکثر قومیں کسی ایسے دن کا انتخاب کرتی ہیں جس میں ان کی تاریخ کا کوئی اہم واقعہ پیش آیا ہو. مثلا عیسائیوں کی کرسمس حضرت عیسی علیه السلام کے یوم پیدائش کی یادگار کے طور پر منائی جاتی ہے (اگر چہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عیسی علیه السلام کی پیدائش کی یقینی تاریخ کسی کو معلوم نہیں ہے) یہودیوں کی عید فسح اس دن کی یادگار سمجهی جاتی ہے جس میں بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی. اسی طرح ہندووں کے بہت سے تہوار بهی ان کے کسی خاص واقعے کی یادگار کے طورپر مناۓ جاتے ہیں.
اسلامی تاریخ میں ایسے دنوں کی کوئی کمی نہیں تهی، جن کی خوشی ہر سال اجتماعی طور پر منائی جاسکے، دنیا ہی کا نہیں، اس پوری کائنات کا سعید ترین دن وه تها جس میں سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وسلم اس دنیا میں تشریف لاۓ، یا وه دن تها جس میں آپ صلی الله علیه وسلم کو نبوت کا عظیم منصب عطا فرمایا گیا، اور دنیا کے لۓ آخری پیغام ہدایت قرآن کریم کی شکل میں نازل ہونا شروع ہوا. اس دن کی عظمت بهی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے، جس میں آپ صلی الله علیه وسلم نے مدینہ منوره کو اپنا مستقر بناکر پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکهی. اسی طرح اس دن کی شان و شوکت کا کیا ٹهکانا جس میں آپ صلی الله علیه وسلم کے تین سو تیره نہتے جاں نثاروں نے بدر کے میدان میں باطل کے مسلح لشکر کو شکست فاش دی، اور جسے خود قرآن نے “یوم الفرقان” (یعنی حقو باطل کے درمیان امتیاز کا دن) قرار دیا. اس دن بهی مسلمانوں کی فرحت و مسرت کا اندازه لگایا جاسکتا ہے، جب مکہ مکرمہ فتح ہوا، اور کعبے کی چهت سے پہلی بار حضرت بلال رضی الله عنه کی اذان گونجی.
غرض آنحضرت صلی الله علیه وسلم کی سیرت طیبہ میں ایسے جگمگاتے ہوۓ دن بیشمار ہیں جنہیں مسلمانوں کے لۓ جشن مسرت کی بنیاد بنایا جاسکتا تها، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ حضور سرور دو عالم صلی الله علیه وسلم کی حیات طیبہ کا ہر دن عظیم تها جس میں مسلمانوں کو کوئی نہ کوئی دینی یا دنیوی دولت نصیب ہوئی.
لیکن اسلام کی یہ شان نرالی ہے کہ پوری امت کے لۓ سالانہ عید مقرر کرنے کے لۓ ان میں سے کسی دن کا انتخاب نہیں کیاگیا، اور دینی طور پر مسلمانوں کے لۓ لازمی سالانہ عید مقرر کرنے کے لۓ یکم شوال اور 10 ذی الحجہ کی تاریخیں منتخب کی گئیں جن سے بظاہر تاریخ کا کوئی امتیازی واقعہ وابستہ نہیں تها، بلکہ یہ دو دن ایسے مواقع پر مقرر کۓ گۓ جن پر پوری امت ایک ایسی اجتماعی عبادت کی تکمیل سے فارغ ہوتی ہے جو سال میں ایک بار ہی انجام دی جاتی ہے، عید الفطر اس وقت منائی جاتی ہے جب مسلمان رمضان المبارک میں نہ صرف فرض روزوں کی تکمیل کرتے ہیں، بلکہ اس مقدس مہینے کے ایک تربیتی دور سے گذر کر اپنی روحانیت کو جلا بخشتے ہیں. اور عید الاضحی اس وقت منائی جاتی ہیں جب ایک دوسری سالانہ عبادت یعنی حج کی تکمیل ہوتی ہے، اور لاکهوں مسلمان عرفات کے میدان میں اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعائیں کرکے ایک نئی زندگی کا آغاز کرچکے ہوتے ہیں، اور جو لوگ براه راست حج میں شریک نہیں ہوسکے، وه قربانی کی عبادت انجام دیتے ہیں.
اس طرح اسلام نے اپنے پیرووں کے لۓ سالانہ عید منانے کے لۓ کسی ایسے دن کا انتخاب نہیں کیا جو ماضی کے کسی یادگار واقعے سے وابستہ ہو. اس کے بجاۓ مسلمانوں کی عید ایسے واقعات سے وابستہ کی گئی ہے جو مسلمانوں کے حال سے متعلق ہیں، اور جنکی ہر سال تجدید ہوتی ہے.
وجہ یہ ہے کہ پچهلی تاریخ میں جو کوئی یادگار یا مقدس واقعہ پیش آیا، وه ماضی کا ایک حصہ بن گیا، اس کو یاد رکهنا اس لحاظ سے بلاشبہ مفید اور ضروری ہے کہ اسے اپنے حال اور مستقبل کی تعمیر کے لۓ نمونہ اور اپنی قوت جہد و عمل کے لۓ مہمیز بنایا جاۓ، لیکن ہر وقت ماضی میں گم ره کر حال اور مستقبل سے بےفکر ہوجانا بعض اوقات قوموں کو اپنے کرنے کے کاموں سے غافل بهی بنادیتا ہے، اور انہیں یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ:
تهے تو آباد وه تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟
ہاتهـ پر ہاتهـ دهرے منتظر فردا ہو!
لہذا عیدین کو کسی ماضی کے واقعے سے وابستہ نہ کرکے ہمیں سبق یہ دیا گیا ہے کہ تمہیں اصل خوشی منانے کا حق ان کاموں پر پهنچتا ہے جو خود تم نے حال میں انجام دیۓ ہوں، محض ان کارناموں پر نہیں جو تمہارے آباء و اجداد کر گذرے تهے.
لہذا عید کا ہر دن ہم سب سے یہ سوچنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے حال اور اپنے اعمال کے پیش نظر کیا واقعی ہمیں خوشی منانے کا حق پہنچتا ہے؟ عید الفطر در حقیقت رمضان کے تربیتی کورس میں کامیابی کا ایک انعام ہے، اسی لۓ حدیث میں اسکو “یوم الجائزه” یعنی انعام کا دن قرار دیا گیا ہے، لہذا یہ دن ہم سے یہ جائزه لینے کا تقاضا کرتا ہے کہ کیا ہم نے اعمال و اخلاق کے اس تربیتی کورس میں واقعی کامیابی حاصل کی ہے؟ کیا واقعی الله تعالی کے ساتهـ ہمارے تعلق میں کچهـ اضافہ ہوا ہے؟ کیا ہم نے بندوں کے حقوق کو پہچاننا شروع کردیا ہے؟ کیا ہمارے دل میں امانت، دیانت، ضبط نفس اور جہد و عمل کے جذبات پیدا ہوے ہیں؟ کیا ہم نے چار سو پهیلی ہوئی معاشرتی برائیوں کو مٹانے اور ان سے خود اجتناب کرنے کا کوئی عہد تازه کیا ہے؟ کیا ہمارے سینے میں ملک و ملت کی فلاح و بہبود کا کوئی ولولہ پیدا ہوا ہے؟ کیا ہم نے آپس کے جهگڑوں کو مٹاکر اس طرح متحد ہونے کا کوئی اراده کیا ہے جس طرح ہم عیدگاه میں یکجان نظر آتے ہیں؟ اگر اپنے گریبان میں منہ ڈالنے اور انصاف کے ساتهـ اپنا جائزه لینے کے بعد کسی کو ان سوالات کا، یا کم از کم ان میں سے کچهـ سوالات کا جواب اثبات میں ملتا ہے تو اسے واقعی عید مبارک ہو.

30 رمضان 1414 هـ
(مفتی) محمد تقی عثمانی (حفظه الله)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں