کابل:امریکی چرچ کی قرآن نذرآتش کرنے کی مذموم جسارت کے خلاف مظاہرہ

کابل:امریکی چرچ کی قرآن نذرآتش کرنے کی مذموم جسارت کے خلاف مظاہرہ
afghanistan-tazahoratکابل(ایجنسیاں) افغان دارالحکومت کابل میں سیکڑوں طلبہ نے ایک امریکی چرچ کی جانب سے 11ستمبر کے حملوں کی برسی کے موقع پر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کانسخہ نذرآتش کرنے کے ناپاک منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور امریکا مردہ باد کے نعرے لگائے ہیں۔

مظاہرے میں زیادہ تردینی مدارس کے طلبہ شریک تھے۔وہ کابل کی میلادالنبی مسجد کے باہر گینس ویلے،فلوریڈا کے ڈوو ورلڈ آٶٹ ریچ سنٹر کی جانب سے نائن الیون کی برسی کے موقع پراسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کے نسخے شہید کرنے کے ناپاک جسارت کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔
مظاہرے میں شریک ایک طالب علم وحیداللہ نوری نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی توہین کا سلسلہ بند کرائے۔انہوں نے کہا کہ چرچ کی جانب سے قرآن مجیدکے نسخے نذرآتش کرنے کے خلاف ہرروزمظاہرے کیے جائیں گے۔
ایک طرف توامریکی انتہاپسند،اسلام کی مقدس کتاب کی توہین کی ناپاک جسارت کررہے ہیں تودوسری جانب امریکی صدربراک اوباما گذشتہ سال اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں اور انہوں نے رمضان المبارک کے آغاز میں وائٹ ہاٶس میں مسلم قائدین کودعوت افطار میں مدعو کیا تھا۔
کابل میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت دین اسلام کی بے توقیری کرنے کی کسی کارروائی کو نظراندازنہیں کرسکتی اور اسے کسی مذہب کے پیروکاروں یا کسی نسلی گروپ کے خلاف جان بوجھ کراشتعال انگیزجارحانہ حملے کی کوشش پرگہری تشویش ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب اورمختلف نسلی پس منظرسے تعلق رکھنے والے امریکی فلوریڈا کے ایک چھوٹے گروپ کی جانب سے کی جانے والی اس اشتعال انگیزحرکت کو مسترد کرتے ہیں اور اس تنظیم کی جانب سے دلآزار بیانات کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
افغانستان میں ماضی میں بھی توہین قرآن اور توہین رسالت کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔2006ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار میں توہین رسالت پرمبنی خاکوں کی اشاعت پرجنگ زدہ ملک میں زبردست مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔
اس سال جنوری میں جنوبی صوبہ ہلمند میں غیرملکی فوجیوں کے ہاتھوں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران قرآن مجید کی توہین کے واقعہ کے خلاف افغانوں نے احتجاجی ریلی نکالی تھی۔افغان فوجیوں کی مظاہرین پر فائرنگ کردی تھی جس کے نیتجے میں آٹھ افرادجاں بحق اورتیرہ زخمی ہوگئے تھے۔نیٹوفورس کے ایک ترجمان نے تب واقعے کی تردید کی تھی۔
واضح رہے کہ گینس ویلے، فلوریڈا میں واقع”ڈوو ورلڈ آؤٹ ریچ سنٹر” اپنی ویب سائٹ اورسوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پرجولائی سے اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کے نسخوں کو جلانے کی ترغیب دینے کے لیے مذموم مہم چلا رہا ہے۔
اس چرچ نے طیارہ حملوں کے مہلوکین کی یاد میں ”ایوری باڈی برن قرآن ڈے” کے نام سے گیارہ ستمبرکا دن منانے کا مذموم منصوبہ بنایاہے اوروہ اپنے پیروکاروں سے کہہ رہا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔اس چرچ کے لیڈر انتہا پسند ڈاکٹر ٹیری جونز نے”اسلام ایک برائی ہے” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے اور چرچ کے باہر اسی نعرے پر مبنی ایک کتبہ بھی لگا رکھا ہے۔
یہ چرچ امریکا میں ماضی مِں ہم جنسی پرستی،اسقاط حمل وغیرہ کے خلاف بھی مہم چلاتا رہا ہے اور اس نے گذشتہ سال اسلام مخالف نعرے والی ٹی شرٹس تقسیم کر کے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا تھا۔
سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ فیس بُک پر اس امریکی چرچ کی مذموم مہم کی مخالفت کے لیے متعدد گروپ تشکیل پاچکے ہیں جواس کے انتہا پسندانہ اور جارحانہ موقف کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔
امریکی مسلمانوں کی ایک موقرتنظیم امریکی اسلامی تعلقات کونسل (کئیر) نے چرچ کی مذموم مہم کے جواب میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں مسلمانوں پر زوردیا گیا تھاکہ وہ اس مہم کے توڑ کے لیےاپنے دوستوں میں قرآن مجید کے نسخے تقسیم کریں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں