تنبیہ ۔۔۔ یا آفت ۔۔۔؟

تنبیہ ۔۔۔ یا آفت ۔۔۔؟
earthquake-flood-pkجب انسان پر کوئی بڑی آفت آ جاتی ہے تو اس وقت خدا کے سوا کوئی پناہ گاہ نظر نہیں آتی۔ بڑے سے بڑا دہریہ بھی اس وقت خدا کو مدد کے لئے پکارتا ہے۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ رضى الله عنه کو اسی نشانی نے ایمان کی توفیق عطا کی۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مکہ معظمہ پر فتح حاصل کر لی تو عکرمہ رضى الله عنه جدہ کی طرف بھاگے اور ایک کشتی پر سوار ہو کر حبش کی را ہ لی۔ راستے میں سخت طوفان آیا اور کشتی خطرے میں پڑ گئی۔ جب طوفان نے شدت اختیار کر لی اور کشتی بے قابو ہونے لگی تو سب نے کہا کہ یہ وقت خدا کو پکارنے کے سوا کسی کو پکارنے کا نہیں ہے۔ وہی چاہے تو ہم بچ سکتے ہیں۔ اس وقت عکرمہ رضى الله عنه کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کے دل نے آواز دی کہ اگر یہاں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں تو ہم کن خداوں کو پوجتے رہے؟ یہی وہ بات ہے جو محمد صلى الله عليه وسلم ہمیں بیس برس سے سمجھا رہے ہیں اور ہم ان کو تکالیف پہنچا رہے ہیں۔ ان کے دین کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ یہ عکرمہ رضى الله عنه کی زندگی میں فیصلہ کن لمحہ تھا۔ انہوں نے عہد کیا کہ اگر طوفان سے بچ گیا تو سیدھا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حضور جا کر اسلام قبول کر لوں گا۔ اللہ نے آپ کی مدد فرمائی اور آپ کی کشتی کو با حفاظت کنارے پر پہنچا دیا۔آپ سیدھے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس گئے اور اپنا سر ان کے قدموں میں رکھ دیا ۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عقل والوں کے لئے ان واقعات میں بہت کچھ پوشیدہ ہے مگر اس کا ادراک رکھنے والے تھوڑے ہی ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو عذاب اور قحط کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی انکار کر دیتے ہیں اور اپنی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سورہ الانعام کی آیت نمبر 45 میں ارشاد فرماتے ہیں ”تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب و الام میں مبتلا کیا تا کہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، خوب کر رہے ہو۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دئیے۔ یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہو گئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر چیز سے مایوس تھے۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔“
ہم نے اندرون اور بیرون ملک بڑے بڑے منکرین حق دیکھے ہیں۔ ہٹے کٹے دہریوں کے ساتھ واسطہ رہا ہے۔ یہ لوگ جب خدا اور اس کے دین کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ان کے مونہوں سے گند بہہ رہا ہے۔ مگر جب کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں تو بے ہوشی اور ہر کراہ میں ”ہائے اللہ“ ۔۔۔ نکلتا ہے۔
پاکستان میں بھی دہریوں اور نام نہاد لبرل سوچ رکھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے جبکہ منافقین کی تعداد ان سے بھی ہزار گناہ زیادہ ہے اور منافقین کا ٹھکانہ دوزخ میں منکرین اور مشرکین سے بھی نیچے درجے پر ہے۔ درحقیقت پاکستان ان دو طبقات کی وجہ سے قدرتی آفات کا شکار ہے مگر یہ آفات مستقل نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے تنبیہ ہے ۔۔۔ وارننگ ہے ۔۔۔ خبردار کرنے کی علامات ہیں ۔۔۔ یہ لوگ اس سے پہلے تاریخ کا بدترین زلزلہ بھگت چکے ہیں اور اب تاریخ کے بدترین سیلاب کا شکار ہیں۔ دوسری بار تنبیہ کی گئی ہے ۔۔۔ اگر اب بھی نہ سنبھلے تو ڈرو اس وقت سے جب نہ ٹلنے والا عذاب آن گھیرے گا ۔۔۔ پاکستان اور محسنوں کی احسان فراموشی خدا کی نا شکری ہے۔
پروردگار فرماتے ہیں ”آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خوامخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہواور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدردان اور سب کے حال سے واقف ہے۔ (النسائ147) ۔
شیخ سعدی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک بار دمشق میں بہت سخت قحط پڑا۔ حالت یہ ہو گئی تھی کہ ٹڈیوں نے سبزے کو اور انسانوں نے ٹڈیوں کو کھا لیا۔ مخلوقِ خدا بھوک سے ہلاک ہو گئی۔ ایک دن میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوئی جو کافی مالدار تھا لیکن میں نے دیکھا وہ ویسا ہی پریشان حال اور کمزور نظر آ رہا تھا جیسے شہر کے غریب غربا۔ میں اس کی یہ حالت دیکھ کر بہت حیران ہوا اور اس سے اس بابت دریافت کیا تو وہ بولا، اے سعدی! کیا تم اس بات سے بے خبر ہو کہ قحط کے باعث مخلوق خدا تباہ ہو گئی ہے ؟ میں نے کہا کہ دوست میں جانتا ہوں مگر تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے؟ میرے دوست نے ایک آہ بھری اور کہا، اے سعدی! کسی حساس آدمی کے لئے یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ وہ ارد گرد کے لوگوں کو بھول جائے اور صرف اپنی ذات پر نظر رکھے۔کوئی حساس آدمی کسی کو دریا میں ڈوبتے ہوئے دیکھ کر اطمینان سے ساحل پر کھڑا نہیں رہ سکتا ۔۔۔!

طیبہ ضیاء
(بہ شکریہ نواۓوقت)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں