افغان باقی کہسار باقی

افغان باقی کہسار باقی
taleban3ستمبر2001ء کے واقعے سے ذرا پہلے میں امریکہ کی اسلامک سوسائٹی کی دعوت پر امریکہ کے دورے پر تھا اس دورے میں اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (ISNA) اوراسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (ICNA)کی مختلف شاخوں کے علاوہ میں نے امریکی معاشرے اور حکومت کے اہم لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔

امریکہ کے مشہور زمانہ تھنک ٹینکس Brookings, Stymsonاور Middle East Instituteنے بھی مجھے باہمی دلچسپی کے موضوعات پر گفتگو کے لئے بلایا ۔ میرے اس دورے کامقصد یہ تھاکہ امریکی عوام ،امریکی حکومت اور امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ بتاسکوں کہ اسلامی تحریکوں کا موقف تمام عالمی مسائل کے بارے میں حق اور اعتدال پر مبنی ہے۔ مسلمانوں نے کسی غیر مسلم ملک میں مداخلت نہیں کی بلکہ مسلمانوں کے ممالک میں ناجائز مداخلت ہو رہی ہے۔کشمیر اور نیوکلیئر استعداد کے بارے میں بھی پاکستان کا موقف برحق اور امن کی تلاش پر مبنی ہے اور اسلامی تحریکوں کی بڑی تنظیمیں مسائل کے پر امن حل کے بارے میں تعاون کے لئے تیار ہیں اگر امریکہ اور بڑی طاقتیں بھی واقعتاً مسائل کا پر امن حل چاہتے ہیں ۔ میں تقریباً دس دن تک امریکہ کے مختلف شہروں میں اسلام کی اعتدال پسندی کا پرچار کرتارہا ۔ میرے دورے کے خاتمے پر واشنگٹن کی ایک یونیورسٹی کی مسجد سے ملحقہ ہال میں میرے لئے ایک ظہرانہ ترتیب دیا گیا تھااور اس سے پہلے کچھ منتخب لوگوں کے سامنے میری تقریر تھی ۔ تقریر میں میں نے وہی اسلام کی اعتدال پسندی (Moderation)کی بات دہرائی اور کہاکہ انتہا پسندی (Extremism)کے ساتھ اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ظہرانے کے بعد مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھا ہواتھاکہ پیچھے سے ایک آدمی آیا اور سرگوشی کے انداز میں مجھ سے کہنے لگا کہ آپ کن لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ آپ انتہا پسند نہیں اعتدال پسند ہیں اور اسلام اعتدال پسندی کا مذہب ہے۔ میں نے عرض کی میں حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔ یہ شخص جو شکل و صورت اور وضع قطع سے ایرانی لگ رہاتھا اس نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ سے مسلمان نوجوانوں کو بڑی توقعات ہیں اور آپ کی صاف گوئی کی وجہ سے وہ آپ کی قدر کرتے ہیں۔آپ جن لوگوں کو اپنی اعتدال پسندی کا یقین دلانا چاہتے ہیں یہ کبھی آپ کی بات نہیں مانیں گے اور آپ کی اس کوشش کے نتیجے میں آپ کے چاہنے والے آپ سے مایوس ہوجائیں گے ۔ یہاں کے پالیسی ساز مسلمانوں کو انتہا پسندی کا بہانہ بنا کر کسی تنگ وادی میں گھیرنا چاہتے ہیں ان کو قائل کرنے کی کوشش سے بہتر ہے کہ آپ اپنے لوگوں کے اندر اپنی دعوت اور تنظیم کا کام جاری رکھیں ۔میں کہ اپنی دس روزہ ڈپلومیسی کی کوششوں سے اکتا چکاتھا اور میرے ضمیر پر اس کا بوجھ بھی بڑھ رہاتھا کہ میں ان لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کررہاہوں جن کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ میں نے اس اجنبی آدمی کو اللہ کا بھیجا ہوا آدمی سمجھا جو مجھے بر وقت خبردار کررہاتھا اور اگلے ہی روز واپسی کا فیصلہ کیا۔
واپسی پر میں پاکستانی شہریوں سے ملنے کے لئے سپین کے شہر بارسلونا میں ایک دو روز کے لئے ٹھہر گیا ۔ یہ شہر فرانس کی سرحد کے قریب واقع ہے اور عموماً کشتیوں اور لانچوں کے ذریعے پاکستانی نوجوان روز گار کی تلاش میں مراکو سے سپین آنے کے بعد اس شہر کا رخ کرتے ہیں اور یہاں سے پھر وہ یورپ کے مختلف ممالک میں قسمت آزمائی کے لئے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں میں نے محسوس کیا کہ سپین کے سیکورٹی کے لوگ مسلسل میرا پیچھا کررہے ہیں جس پر احتجاج کرنے کے بعد شہر کے سیکورٹی کے انچارج اور صوبائی سطح کی خاتون وزیر مجھے ملنے کے لئے آئے اور مجھے یقین دلایا کہ یہ لوگ فقط آپ کی سیکورٹی کے لئے ہیں ۔ دراصل بارسلونا کے پاکستانی نوجوانوں نے میری تقریر سننے کے لئے مقامی سپورٹس کمپلیکس میں ایک پروگرام کا انتظام کیاتھا جس میں بہت بڑی تعداد میں نوجوان حاضر ہوئے۔ اس پر مقامی انتظامیہ کے کان کھڑے ہوگئے اور انہوں نے معلوم کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا کون ہے۔ پاکستان میں سپین کے سفارتخانے نے انہیں بتایا کہ یہ پاکستان کا ایک معروف سیاسی رہنما ہے تو انہوں نے بقول ان کے اپنے سیکورٹی ادارے کو پیچھا کرنے کے لئے کہا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں پورے یورپ اور ایشیا میں یہ خوف موجود تھا کہ مذہبی انتہا پسندکچھ کرنے والے ہیں۔ امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف ایک شعبہ پہلے ہی بنادیاگیاتھا اور وزارت خارجہ میں Anti Terrorismکے لئے ایک اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ موجود تھا ۔ میرے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان کی مدد سے آپ دنیا کی واحد سپر پاورر بن گئے اور یونین آف سویٹ سوشلسٹ ریپبلکس(USSR ) ٹوٹ گیا اب آپ پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہاں سے دہشت گردی جنم لیتی ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ دنیا میں کسی بھی جگہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتاہے تو اس کے ڈانڈے پاکستان اور اس کے ساتھ افغانستان سے ملتے ہیں۔ میں نے کہاکہ آپ نے ان سب لوگوں کو خود ہی پاکستان کا راستہ دکھایا ہے ان کو تربیت کے مواقع فراہم کئے ہیں اب یہ پاکستان کے بس میں نہیں ہے کہ اس جن کو جس کو آپ سب لوگوں نے مل کر بوتل سے نکالا ہے۔ فوری طور پر جو بوتل میں بند کردیں ۔ اس کے لئے آپ کو صبر کے ساتھ ایک لمبے عرصے کی حکمت عملی اپنانی ہوگی اور اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانی ہوگی ۔
پاکستان واپسی کے چند روز بعد 9ستمبر2001ء کا واقعہ ظہور پذیر ہوا جس کو عرف عام میں نائن الیون( 9/11 )کہتے ہیں۔ امریکہ کے اندر چار ائیر پورٹس سے بیک وقت چار بڑے ہوائی جہاز جو مسافروں سے بھرے ہوئے تھے اور جن کی ٹینکیاں پٹرول سے بھری ہوئی تھیں محو پرواز ہوئے اور انہیں 19ہائی جیکروں نے ہوا کے اندر ہائی جیک کرلیا ۔ دو ہوائی جہازوں کو نیویارک کے Twin Towers سے ٹکرادیا گیا۔ ایک ہوائی جہاز کو واشنگٹن کے فوجی مرکز Pentagon(پینٹاگون)سے اور چوتھا ہوائی جہاز پنسلوانیا میں گرگیا چوتھے ہوائی جہاز کی سواریوں نے ہائی جیکروں کا مقابلہ کیا اور وہ اپنے ٹارگٹ تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی قوم اور حکومت کے لئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا جس طرح کے صدموں سے وہ اس سے قبل آشنا نہ تھے ۔دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کیاتھالیکن وہ امریکہ کے مین لینڈ سے بہت دور جزائر ہوائی میں ہواتھا اور اس میں جانی نقصان بھی اتنا بڑا نہیں ہوا تھا ۔ امریکہ نے اس حملے کا ذمہ دار القاعدہ تنظیم کو ٹھہرایااور کہاکہ ان کا مرکز افغانستان ہے اور یہ طالبان کے زیر سایہ ہیں۔
یہ حملہ کس نے کرایا ہے اس کے بارے میں بہت سے شکوک ہیں۔ اور اب بھی خود امریکہ کے تیس فیصد لوگ نہیں مانتے کہ یہ حملہ القاعدہ نے کیا ہے ۔
ان دنوں اسلام آباد میں امریکہ کی سفیر ونڈی چیمبرلین( Wendy Chamberlin) نے ہمیں امریکی سفارت خانے میں بلایا اورہمیں افغانستان پر امریکی حملے کے ارادے سے آگاہ کیا۔ میں نے مشورہ دیا کہ افغانستان پر حملہ کرکے اسے فتح کرنابظاہرآسان نظر آتاہے کیونکہ وہ فقیر اور بے سہارا لوگ ہیں۔ ان کے پاس اسلحہ بھی نہیں ہے ۔ امریکہ بلاشبہ وہاں داخل ہوسکتاہے اور بظاہر فتح بھی کرسکتاہے لیکن افغانستان سے نکلنا مشکل ہوتاہے اور ہم آپ کو اور آپ کی وساطت سے امریکی حکومت کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس ایڈونچر سے گریز کریں۔ امریکی سفیر ظاہر ہے کہ ہمیں اپنی حکومت کے ارادے سے آگاہ کرنا چاہتی تھی اور پالیسی کو بدلنا اس کے بس میں نہیں تھا اس نے ہم سے پوچھا کہ اگر ہم افغانستان پر حملہ کردیں تو کیا آپ لوگ ہماری مدد کریں گے۔ میں نے صاف کہہ دیا کہ ہماری پوری قوم آپ کے خلاف ہوگی اور ہم اپنی قوم کا ساتھ دیں گے آپ کی حمایت نہیں کریں گے ۔ اس پر خاتون سفیربے مزہ ہو گئیں اور جب ہم ان کے کمرے سے باہر نکلے تو اتنی مروت بھی نہیں کی کہ ہماری گاڑی کو پارکنگ سے ہمارے لئے منگوالیں۔
ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے بر وقت امریکی سفارتخانے کو کہہ دیاتھاکہ افغانستان میں جنگ جیتنی کسی کے لئے ممکن نہیں ہے۔ دس سال تک ہر طرح کے ظلم توڑنے کے باوجود امریکی افواج اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی افغانیوں کے فقر غیور کو شکست نہ دے سکے۔
”محراب گل افغان کے افکار “ نامی نظموں میں اقبال ایک افغان کی زبانی استفسار کرتاہے۔
”اے مرے فقر غیور فیصلہ تیرا ہے کیا
خلعت انگریز یا پیرھن چاک چاک“
افغانوں کے اسی فقر غیور نے افغانستان کو بڑی طاقتوں کاقبرستان بنایا ہے۔ Wikilinksکے ذریعے اب جو خفیہ دستاویز سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کا کوئی ایسا حربہ نہیں ہے جو افغانوں کے خلاف استعمال نہیں ہوا۔ ان مظالم نے نام نہاد مہذب اقوام کے چہرے سے پردہ اٹھا کر ان کی اندرونی تاریکی کو اجاگر کردیاہے۔
”چہرہ روشن اندروں چنگیزسے تاریک تر “
صدر آصف علی زرداری نے برطانیہ سے جاری شدہ ایک بیان میں پاکستانی طالبان سے گفت و شنید کا عندیہ دیا ہے ۔ پاکستانی طالبان کون ہیں؟ ان کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہے اگر پاکستانی حکومت ان سے گفت و شنید کرنا چاہے گی تو کس سے رابطہ کرے گی ۔ یہ اچانک تبدیلی کیسے آئی ہے اور برطانیہ کی سرزمین پر یہ بیان جاری کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے۔ امریکی حکومت کے بارے میں تو یہ خبر یں آ رہی ہیں کہ وہ جنگ سے نکلنے کے لئے باعزت راستے کی تلاش میں ہے اور اس کے لئے وہ طالبان سے خفیہ مذاکرات کررہی ہے لیکن افغان طالبان کے جس گروہ سے مذاکرات ہو رہے ہیں وہ مدت سے کابل میں مقیم ہیں ۔ اور یہ یقینی نہیں ہے کہ افغان طالبان کے واحد حقیقی لیڈر ملا عمر پر ان کا کتنا اثر ہے اور کیا مذاکرات سے پہلے ملا عمر کو اعتماد میں لیا گیاہے کہ نہیں۔ ملا عمر نے جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کو امریکیوں کے سپرد کرنے سے انکار کردیاتھا ۔ وہ جس مزاج کا آدمی ہے اس سے اگر مذاکرات کئے جائیں گے تو وہ آج بھی کسی درمیانے راستے کی طرف آنے کی بجائے اپنے اس موقف پر اصرار کرے گا کہ افغانستان کے تمام دوسرے فریق اسے بلا شرکت غیرے امیرالمؤمنین تسلیم کرکے اس کی بیعت کرلیں ۔
امریکیوں کو یہ خوف ہے کہ اس طرح کرنے سے افغانستان ایک بار پھر القاعدہ کے لئے محفوظ جنت (Safe heaven)بن جائے گا۔ لیکن امریکی اور ان کے اتحادی کب تک لڑ سکتے ہیں ۔ امریکہ کی مالی حالت اگرچہ بہت مضبوط ہے لیکن ہرانسانی طاقت کے کچھ حدود ہوتے ہیں ۔ لامحدود طاقت کا مالک صرف رب العالمین ہے۔ افغانوں کا بڑا اسلحہ قرآن کی زبان میں مصائب اور مشکلات میں ان کا صبر ہے۔ والضربن فی البأساء والضراء وحین البأس ” تنگ دستی،دکھ درداور جنگ میں صبر کرنے والے ہیں۔
افغانستان کے تجزیہ نگاروں کے خیال میں امریکی اوراتحادی افواج افغانستان میں زیادہ سے زیادہ مزید دو سال تک ٹھہر سکتے ہیں اس دوران میں اگر وہ اپنے لئے باعزت نکلنے کا کوئی راستہ نکال لیں تو ان کے لئے بہتر ہے ورنہ انہیں رسوا ہو کر وہاں سے نکلنا پڑے گا۔
آنچہ دانا کند کند نادان
لیک بعد ازخرابی بسیار
نادان وہی کرتاہے جو دانا کرتاہے لیکن بہت خرابی اور نقصان اٹھانے کے بعد۔ ونڈی چیمبر لین اگر آج سے نو سال قبل ہماری بات سن لیتی اور اپنی حکومت کو پہنچادیتی تو افغانستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے دوسرے طریقے اختیار کئے جا سکتے تھے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکی اور اس کے اتحادی غیر انسانی رویہ اختیار کر کے مزید ظلم تو ڈھا سکتی ہیں لیکن افغانستان کو فتح کر کے اس میں اپنے پٹھوٴں کی حکومت قائم نہیں کر سکتیں۔ان کا زور بڑے بڑے محلات میں بیٹھے ہوئے پاکستان کی پٹھو حکومت پر تو چلتا ہے لیکن افغانستان کے کوہساروں اور بیابانوں کے چاک چاک پیراھنوں والے فقیر منش مجاہدین پر نہیں چل سکتا۔
کڑکا سکندر بجلی کی مانند
تجھ کو خبر ہے اے مرگ ناگاہ
نادرنے لوٹی دلی کی دولت
اِک ضرب شمشیر افسانہ کوتاہ
افغان باقی کہسار باقی
الحکم للہ الملک للہ

قاضی حسین احمد
(بہ شکریہ اداریہ جنگ)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں