مکہ معظمہ کوخوبصورت بنانے کے لیے مصوری کاعالمی مقابلہ

مکہ معظمہ کوخوبصورت بنانے کے لیے مصوری کاعالمی مقابلہ
tower-mecca1دبئی(العربیہ) اسلام کے مقدس شہر مکہ معظمہ کی آرائش اور اسے خوبصورت بنانے کے لیے دنیا بھر کے سیکڑوں مصورایک مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔

مکہ معظمہ کو خوبصورت بنانے کے لیے اس پہلے مقابلے کے نگران اورشہر کے مئیر ڈاکٹر اسامہ فضل البار نے بتایا ہے کہ ”مقابلے کا مقصد شہر کی اسلامی ثقافت کی مظہر پینٹنگز کے ذریعے آرٹ کلچر کوفروغ دینا ہے”۔
انہوں نے بتایا کہ ”مقابلے کا ایک مقصد اسلامی آرٹسٹوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے تاکہ وہ اپنی مہارت کا تبادلہ اور ایک دوسرے سے استفادہ کرسکیں”۔ اس مقابلے کے لیے 442آرٹسٹوں کورجسٹر کیا گیا ہے اور ان کی جانب سے 306فن پارے جمع کرادیے گئے ہیں۔تاہم ان میں سے صرف بارہ پینٹنگز کا انتخاب کیا جائے گا۔
ڈاکٹرالبار نے کہا کہ مقابلے کے تمام شرکاء اس کے سلوگن کے تلے”مکہ کی محبت میں ہم جمع ہیں”اکٹھے ہوکرکام کریں گے تاکہ شہرکے کونوں کواسلامی آرٹ کے ایک کھلے میوزیم میں تبدیل کیا جاسکے اور معاشرے کے جمالیاتی ذوق میں اضافہ کیا جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ مقابلے میں ایک شفاف عمل کے ذریعے بارہ پینٹنگز کا انتخاب کیا جائے گا اور ہرفن پارے کو ایک خفیہ کوڈ دیا جائے گا تاکہ آرٹسٹوں کے نام نہ دیکھے جاسکیں۔

سخت مقابلہ
جدہ کے سابق مئیر ڈاکٹرمحمد سعید فارسی نے بتایا کہ جمع کرائے گئے 306فن پاروں میں سے نصف معیاری نہیں ہیں اور ڈاکٹر البار کے مطابق ان میں سے 152کومقابلے سے نکال دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر فارسی نے بتایا کہ جن ممالک کے آرٹسٹوں نے اپنے فن پارے جمع کرائے ہیں،ان میں سعودی عرب،سوڈان،یمن،قطر،عراق،مراکش،الجزائر،ترکی،ایران،لبنان،اردن،فلسطین،شام،موریتانیہ،صومالیہ،پاکستان،ملائشیا،چین،بھارت،اٹلی اورامریکا شامل ہیں۔
منصفین کا پینل نامورآرٹسٹوں،ڈیزائنروں،فلسفے اور فائن آرٹ کے ماہرین پرمشتمل ہے اور ان کا تعلق مصر،مراکش،ملائشیا اور کوٹ ڈی آئیوری سے ہے۔
مقابلے کے فاتحین کے ناموں کا اعلان 27ستمبر کوایک خصوصی تقریب میں کیا جائے گا اور ان میں تین لاکھ ڈالرز کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔

مکہ سب سے ترقی یافتہ شہر ہونا چاہیے
مکہ کے گورنر شہزادہ خالدالفیصل نے بدھ کی رات جدہ میں منعقدہ ایک تقریب میں اس مقابلے کا افتتاح کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ”یہ سعودی عرب کی ذمے داری ہے کہ وہ مکہ معظمہ کو خوبصورتی اور ترقی کا ایک نمونہ بنائے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت نے مکہ معظمہ کو دنیا کے شہروں میں سب سے صاف ترین اور ترقی یافتہ شہر بنانے کا عزم کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مسجدالحرام اور مکہ کو عازمین حج کے لیے محفوط ترین مقام بنانے کے ذمے دار ہیں۔
شہزادہ خالدالفیصل آرٹ کے اس مقابلے کے اسپانسر ہیں۔انہوں نے نجی کمپنیوں اور کاروباری افراد سے مکہ کو خوبصورت بنانے کے لیے اس پہلے بین الاقوامی مقابلے میں تعاون کے لیے کہا ہے۔
سعودی عرب نے یکم رمضان المبارک کو مکہ معظمہ میں تعمیر کیے گئے دنیا کے سب سے بڑے گھنٹہ گھرکا بھی افتتاح کیا ہے۔اس کی تعمیر پرساٹھ کروڑ ڈالرز لاگت آئی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں