اوباما: نیو یارک مسجد منصوبے کا دفاع

اوباما: نیو یارک مسجد منصوبے کا دفاع
obama_iftarواشنگٹن(بى بى سى) امریکی صدر براک اوباما نے نیو یارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے مقام کے قریب مسجد اور اسلامی مرکز بنانے کے متنازع منصوبے کا دفاع کیا ہے۔

اس منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر گیارہ ستمبر دو ہزار کے حملے اسلامیی انتہا پسندوں نے کیے تھے لہاذا یہاں مسجد کی تمعیر کا منصوبہ انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے اور حملوں میں مرنے والے تین ہزار افراد کے لواحقین کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔
صدر اوباما نے کہا کہ اس منصوبے سے متعلق کئی پہلو حساس ہیں لیکن یہ اہم ہے کہ امریکہ میں مسمانوں کو اپنے مذھب پر عمل کرنے کی وہی آزادی حاصل ہو جو دوسرے مذاھب کے لوگوں کو ہے۔
صدر اوباما نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں افتاری کی ایک تقریب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بطور شہری اور بطور صدر میں یہ واضح کرنا چاتا ہوں کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا وہ ہی حق حاصل ہے جو اس ملک میں دوسروں کو حاصل ہے۔ اس میں نیو یارک کے مینھیٹن کے علاقے میں مسجد اور کمیونٹی سینٹر کا منصوبہ بھی شامل ہےجو تمام مقامی قوائد اور قوانین کے تحت بنایا جا رہا ہے۔یہ امریکہ ہے اور آزادی مذہب ہمارا ایک اہم اصول ہے جس پر ہمیں قائم رہنا چاہیے۔ یہ اصول ہماری شناخت کا بنیادی حصہ ہے کہ اس ملک میں ہم تمام مذاہب کے لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور مذہب کی نیاد پر ہم ان میں تفریق نہیں کرتے۔
امریکی صدر کے مطابق ’القاعدہ کی کارروائیوں کا اسلام سے تعلق نہیں بلکہ وہ اس کو بگاڑتی ہیں اور اسلام کی تحریف ہیں۔‘
نیو یارک میں ’گراؤنڈ زیرو‘ کہلانے والے علاقے کے قریب اس مسجد اور مرکز کے منصوبے کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے کئی افراد کے خاندان والے اس کے خلاف ہیں لیکن ان کے علاوہ امریکہ میں حزب اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے دیگر ارکان نے اس منصوبے کے خلاف مہم چلا رکھی جن میں ایوان نمائندگان کے سابق سپیکر نیوٹ گرنگرِچ اور ریپبلکن جماعت کی نائب صدر کے لیے سابق انتخابی امیدوار سارا پیلن شامل ہیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں