قرآن کو نذر آتش کرنے کا مطالبہ تعصب، جہالت اور بدنیتی ہے: جامعہ ازھر

قرآن کو نذر آتش کرنے کا مطالبہ تعصب، جہالت اور بدنیتی ہے: جامعہ ازھر
a-tayyebقاہرہ(العربیہ) مصر کی جامعہ الازھر نے امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع چرچ کے پادری کی طرف سے نائن الیون کے دہشت گردی کے واقعات کی یاد میں قرآن پاک کے نسخے نذرآٓتش کرنے کے مطالبے کی شدید مذمت کی ہے۔

شیخ جامعہ الازھر کے ڈاکٹر احمد الطیب کی سربراہی میں قائم سپریم کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان عیسائی پادری کی اس سوچ کو تعصب، اسلام اور اس کی سنہری روایات سےلاعلمی اور شعائر اسلام کی توہین کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکی ریاست فلوریڈامیں چرچ کے پادری ٹیری جونزنے تمام مذہب پسند عیسائیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نائن الیون کی یاد کو بہتر طریقے سے منانے کے لیے گیارہ ستمبر کو مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کریں۔
جامعہ ازھر کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت کے ساتھ کہاگیا ہے کہ عیسائی پادری کی طرف سے قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کرنے جیسے شرمناک مطالبات اسلام اور قرآن کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ نزول قرآن کے بعد سے اب تک اس کتاب مقدس کو ختم کرنے کی ہزار ہا سازشیں ہوتی رہیں لیکن اس کے باوجود یہ ہدایت کی ابدی کتاب آج بھی موجود ہے اور تا قیامت موجود رہے گی کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خدا نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔
ادھر الازھرکی سپریم کونسل کے ترجمان ڈاکٹرمحمد رفاع الطھطاوی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “قرآن پاک کے نسخے جلانے کا مطالبہ ایک ایسے عیسائی پادرکی جانب سے کیا جا رہا ہے جو اسلام کے بارے میں نہایت متعصبانہ رویہ رکھتا ہے۔ اس مکروہ ترین مطالبے کے پس پردہ آسمانی مذاہب کی توہین، مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی اور امریکا میں مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امتیاز قائم کرنا ہے۔”
“عالمی سطح پر ہر مذہب کے تقدس و احترام کے لیے قانون موجود ہیں۔ قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کرنے کا مطالبہ اقوام متحدہ کےمذاہب کے احترام سے متعلق عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔”

اسلام کے بارے میں جہالت

جامعہ ازھر کے بیان میں دو ٹوک انداز میں وضاحت کی گئی ہے کہ عیسائی پادری کی طرف سے قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کرنے کے مطالبات کو مسلمان کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کریں گے اور اس طرح حرکت کی گئی تو دنیا بھر میں ایک نیا اشتعال پیدا ہو گا، جس کی ذمہ داری اس پادری اور اس کے ساتھیوں پر عائد ہو گی۔
جامعہ الازھر نے یورپی اہل دانش اور آزاد ضمیر رکھنے والی شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ فلوریڈا چرچ کے پادری کے فیصلے مذمت کرتےہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ بیان میں مصر میں انجیلی عیسائی فرقے کی جانب سے پادری کے اقدام کی مذمت کو سراہا اور کہا کہ مسیحی برادری کے دیگر فرقے بھی انجیلی فرقے کے طرز عمل کی پیروی کریں اور اس طرح کے قبیح فعل کے ارتکاب سے سختی سے روکیں۔
بیان میں فلوریڈا کے عیسائی پادر کے قرآن کے بارے میں ریمارکس اور رویے کو اسلام اور اس کی سنہری اقدار کے حوالے سے جہالت پر مبنی قرار دیا۔

مصری انجیلی فرقے کی مذمت

مصر میں عیسائیوں کے انجیلی فرقے کی جانب سے ٹیری جونز کے بیان اور نائن الیون کی یاد میں قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کے مطالبے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
قاہرہ میں انجیلی فرقے کے نائب سربراہ ڈاکٹر انڈریہ زکی کی جانب سے جاری العربیہ کو موصولہ بیان میں انکا کہنا ہے کہ “وہ فلوریڈ کے عیسائی پادری کی مطالبے کی شدید مذمت کے کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو نذرآتش کرنے کا مطالبہ لاعلمی پر مبنی ایک نئے فساد کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اسے روکنے کے لیے وہ امریکا اور پوری دنیا میں تمام عیسائی فرقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ٹیری جونز کو ایسے کسی ناپسندیدہ اقدام سے سختی سے روکیں”۔
انجیلی فرقے کا مزید کہنا ہے کہ ہم ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اورہمیں یہ کسی صورت میں زیب نہیں دیتا کہ قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی کوشش کریں۔ خدا نخواستہ ایسا کیاگیا تو دنیا بھر میں تشدد کی ایک ایسی فضا بنے گی جس نہایت بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں