غزہ رضاکاروں پرسیدھی فائرنگ درست تھی:اسرائیلی آرمی چیف

غزہ رضاکاروں پرسیدھی فائرنگ درست تھی:اسرائیلی آرمی چیف
ashkenazyمقبوضہ بیت المقدس(ایجنسیاں) اسرائیل کی مسلح افواج کے سربراہ گابی اشکنزئی نے غزہ جانے والے امدادی بحری جہازوں پرسوار نہتے امدادی کارکنوں پراپنے فوجیوں کی سیدھی فائرنگ کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست قراردیا ہے جس کے نتیجے میں نوترک کارکنان شہید ہوگئے تھے۔

اشکنزئی نے غزہ فلوٹیلا پر حملے کی تحقیقات کرنے والے پانچ رکنی اسرائیلی پینل کے روبروحلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ امدادی جہاز پردھاوا بولنے والے بحری کمانڈوز نے ایک فوجی پر فائر کیے جانے کے بعد رضاکاروں پر فائرنگ شروع کی تھی۔
اسرائیلی آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ ”یہ ہم پر واضح ہوچکا ہے کہ جیسے ہی پہلا فوجی امدادی جہازپراتراتودوسرے فوجی پر فائرنگ کردی گئی۔فوجیوں نے وہیں فائرکھولاجہاں ایسا کرنا ناگزیرتھا”۔انہوں نے کہا کہ زخمی فوجی نے حملہ کرنے والے پر فائرنگ کی تھی۔اس نے سادہ طورپر اپنی بندوق نکالی اور شوٹر کو گولی ماردی۔
صہیونی آرمی چیف نے ترکی کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ بعض شہداء کو قریب سے انہیں قتل کرنے کے انداز میں گولیاں ماری گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ قریب سے گولیاں زندگی اور موت کی جدوجہد کے دوران ماری جاتی ہیں اور ایک واقعہ میں ایک فوجی پر کلہاڑی سے حملہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ کا رضاکاروں کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹ پہلے ہی طشت ازبام ہوچکا ہے اور صہیونی بحری کمانڈوز کے حملے کا نشانہ بننے والے ترک جہاز سے کوئی بندوق برآمد نہیں ہوئی تھی۔اسرائیلی فوج نے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپوں کے دوران رضاکاروں نے فوجیوں سے ایک بندوق چھین لی تھی۔
اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک نے گذشتہ روز پینل کے روبروبیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھاکہ غزہ جانے والافریڈم فلوٹیلا ایک منظم اشتعال انگیزی تھی اور اسرائیل کو آپریشن سے کئی ہفتے قبل ہی تشدد کی توقع کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اپریل سے ہی اس بات کے اشارے ملے تھے کہ جو تنظیم فریڈم فلوٹیلا کو منظم کررہی تھی،وہ اسرائیل کے ساتھ مسلح تنازعے کی بھی تیاری کررہی تھی۔
انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نتین یاہو نے سوموارکو تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہوکربیان دیا تھا اور انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیل نے فریڈم فلوٹیلا پرحملہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کیا تھا۔لیکن نہ توصہیونی وزیراعظم اور نہ وزیردفاع نے یہ بتایا ہے کہ نہتے امدادی کارکن صہیونی فوجیوں پرکیسے حملہ کرسکتے تھے۔
اسرائیل کے سابق جج یاکوف ٹرکل کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی کمیشن کو اس بظاہر لاحاصل مشق کے دوران صرف یہ تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ کیا اسرائیلی کمانڈوز کا فریڈم فلوٹیلا پرحملہ اورغزہ کی پٹی کا محاصرہ بین الاقوامی قانون کے مطابق تھا۔اس کمیشن میں دوبین الاقوامی مبصرین بھی شامل ہیں۔
پینل کے ارکان کو امدادی قافلے پر حملے کے لیے فیصلہ سازی کے عمل اور امدادی کشتیوں پر دھاوا بولنے والے فوجیوں سے سوال پوچھنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور اسرائیلی آرمی چیف واحد فوجی افسر ہیں جن کا تحقیقات کے سلسلہ میں بیان قلم بند کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کے تحقیقاتی پینل نے فریڈم فلوٹیلا پرحملہ کرنے والے فوجیوں سے سوال پوچھنے پراصرار کیا تو وہ اس کا بائیکاٹ کردیں گے۔عالمی ادارے کا پینل نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم جعفرے پالمر کی سربراہی میں الگ سے واقعے کی تحقیقات کررہا ہے۔اس پینل میں اسرائیل اور ترکی کا بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں