تباہ کن سیلاب سے نیٹو کی سپلائی کٹ گئی، طالبان خوش

تباہ کن سیلاب سے نیٹو کی سپلائی کٹ گئی، طالبان خوش
new-flood-pkاسلام آباد/كابل (جنگ نیوز) پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کی معطل ہو جانے والی سپلائی جلد بحال نہیں ہو سکے گی۔ یہ بات بدھ کے روز معلوم ہوئی ہے۔

اس حوالے سے ”دی نیوز“ سے ٹیلی فون پر افغانستان کے نامعلوم مقام سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کنٹر میں طالبان کمانڈر قاری ضیاء الرحمن نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بڑی اچھی خبر ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے نیٹو کی سپلائی لائن کٹ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے شک پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے قیمتی انسانی جانی نقصان اور معاشی تباہی پر انتہائی دکھ ہے تاہم دوسری طرف نیٹو کی سپلائی لائن کٹ جانے پر بڑی خوشی ہوئی ہے،طالبان کمانڈر نے کہا کہ اب ہم قندھار میں ہونے والے امریکی و اتحادی فورسز کے آپریشن کے خلاف بڑی اچھی پوزیشن میں ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے راستے آنے والی نیٹو کی سپلائی سیلاب کے باعث مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، یہ ہمارے لئے بڑی فائدہ مند ہے۔
قندھار میں اس وقت جنرل میکرسٹل کی حکمت عملی کے تحت بڑا ملٹری آپریشن ہو رہا ہے جس میں امریکی صدر اوباما کی طرف سے بھیجے گئے مزید 30 ہزار اضافی فوجیوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
طالبان کمانڈر نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے باوجود مجاہدین امریکی اور نیٹو فورسز اور غیر ملکیوں پر اپنے حملے جاری رکھیں گے اور ان میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
قاری ضیاء نے کہا کہ رمضان میں اس حد تک نرمی برتی جائے گی کہ غیر ملکی خواتین کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور نیٹو فورسز کے علاوہ افغانستان میں کام کرنے والے بھارتی تاجروں سمیت غیر ملکیوں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جن پر حملے کئے جائیں گے۔ بھارتی باشندے ہمارا بڑا ہدف ہونگے کیونکہ وہ امریکہ کے قریب ہیں اور ہمارے مادر وطن میں کاروبار کر رہے ہیں اور بھارتی تاجروں کی موجودگی کی وجہ سے بڑے افغان شہروں کابل، جلال آباد اور قندھار کی مارکیٹیں بھارتی میوزک کی سی ڈیز اور کیسٹوں سے بھری پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی کی معاونت سے افغانستان میں بھارتی ثقافت کو فروغ دیا جا رہا ہے جو کہ منصوبے کے تحت 1970ء کی دہائی کی طرح افغانستان میں فحاشی پھیلانا چاہتے ہیں تاہم مجاہدین انہیں ایسا کرنے کی کبھی اجازت نہیں دینگے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں