اسرائیل سے مذاکرات فضول مشق ہے،حقوق کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی جائے”

اسرائیل سے مذاکرات فضول مشق ہے،حقوق کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی جائے”
mashaalدمشق(مرکزاطلاعات فلسطین) اسلامی تحریک مزاحمت. حماس. کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل سے امن مذاکرات کو”فضول اور بے کار مشق” قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے. خالد مشعل کا کہنا ہے کہ فلسطین ہماری سرزمین ہے جس پر صہیونی دشمن کا کوئی حق نہیں. اپنے وطن کی آزادی کے لیے ہمیں مذاکرات کی نہیں ایک مرتبہ پھر مسلح جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت ہے.

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق  خالد مشعل منگل کے روز شام کے دارالحکومت دمشق میں فلسطینی مہاجر کیمپ” یرموک  کیمپ” میں میٹرک کے نتائج میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فلسطینی اور شامی طلبہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے.
رمضان المبارک کی آمد پر تمام حاضرین اور مسلم امہ کو مبارک باد کا پیغام دینے کے بعد خالد مشعل نے کہا کہ “ہمیں اپنے حقوق کی جنگ مذاکرات کے ذریعےنہیں بلکہ مسلح جدوجہد کے ذریعے لڑنی ہے. مذاکرات کا تجربہ ایک فضول اور بے کار مشق ہے جس  کا فلسطینی عوام کو کوئی فائدہ نہیں.
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے فطری حصول کی جنگ میز پر جیتنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ان کا خام خیال ہے. یہ جنگ کھیل نہیں کہ میز پر جیتی جا سکے. اس کے لیے پوری فلسطینی قیادت اور عوام کو میدان جنگ میں اترنا ہو گا. ان کا اشارہ فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کی جماعت فتح کی جانب تھا جو اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے.
طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ” آپ نے تعلیم کے میدان میں دیگر طلباء کے درمیان ممتاز مقام  ہی حاصل نہیں کیا بلکہ آپ نے پوری امت میں خود کو نمایاں کر دیا  ہے. کل کو عالم اسلام کی قیادت تمہارے ہاتھوں میں ہو گی. مسلم امہ کی خدمت،اہل عرب اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کی جنگ بھی آپ ہی کو لڑنی ہے. فلسطینی قوم علم کے میدان میں ہمیشہ اول رہی ہے. یہ اس کا خاصا ہے جو اسے ورثے میں ملا ہے”
فلسطینی طلبہ کی محنت اور اسرائیلی مظالم کا تذکرہ کرتےہوئے خالد مشعل نے کہا کہ “جبر کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے زیادہ ہمدردی اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں. فلسطینی طلبہ نے اسرائیل کی معاشی ناکہ بندی، ریاستی دہشت گردی، جیلوں کی قید اور ہرطرح کے مظالم کا پامردی سے مقابلہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت ان کے حصول علم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا.
حماس کے راہنما نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی عوام کو ناخواندہ رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ ان کے حقوق دبائے رکھے لیکن فلسطینی عوام اسرائیلی جبر کے نتیجے جامعات بنا رہے ہیں، اسکول، کالج اور مدارس کی بنیادیں رکھ رہے ہیں اور ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو علم اور قیادت کے میدان میں اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے.
خالد مشعل نے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج  ہمارا قبلہ اول ہم سے چھین لیا گیا ہے. اس پر دشمن کا قبضہ ہے، لیکن ہماری جدوجہد اور قربانیاں انشاء اللہ رائیگاں نہیں جائیں گی اور ضرور رنگ لائیں گی. وہ وقت دور نہیں جب ہم اسی طرح جیسے یرموک کیمپ میں جمع ہیں مسجد اقصیٰ میں بھی جمع ہوں گے.

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں