‘ گستاخی کرنے والے ذرائع ابلاغ بدامنی وانتشار کے ذمہ دارہیں’

‘ گستاخی کرنے والے ذرائع ابلاغ بدامنی وانتشار کے ذمہ دارہیں’
mediaزاہدان(سنی آن لائن) خطے میں انتشار وبدامنی کا ایک بڑا سبب بعض حکومت کے حامی ذرائع ابلاغ کا فرقہ واریت پرمبنی رویہ ہے، ایرانی بلوچستان کے شہر زاہدان میں سنی عوام سے بات کرتے ہوئے مولاناعبدالحمید نے یہ بات کہی۔

انہوں نے مزید کہا ان جرائد اور ویب سائٹس کے ذمہ داران کو یقین ہے کہ کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہے۔ ورنہ یہ لوگ ایسی حرکتوں سے باز آتے۔ یہ عناصر صوبے میں بدامنی وانتشار پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے صوبائی حکام سے مطالبہ کیا ایسے عناصر کا قبلہ سیدھا کرائے جو سنی شخصیات ومراکز پر الزام تراشی کرکے امن کی فضا کو انتشار اور خانہ جنگی کی طرف دکھیل رہے ہیں۔ انہوں نے ایک رکن پارلیمنٹ کے الزامات کی جانب اشارہ کرکے مزید کہا اگر ہم نے ایسے لوگوں کا جواب نہیں دیاہے تو یہ ہماری شرافت کی وجہ سے ہے۔  ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور زاہدانی عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ لوگ کس طرح راتوں رات ووٹ حاصل کرکے قومی مجلس تک پہنچے ہیں۔ قوم ایسے ووٹوں کی حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہے۔
ایرانی اہل سنت کے رہنما نے پوچھا کہ کیا حق کی بات کرنا، عوام کوحقائق سے آگاہ کرنا، انصاف کامطالبہ کرنا اور مختلف برادریوں میں مساوات قائم کرنے کی دعوت دینا گناہ ہے؟ ایسی باتوں کو برداشت نہ کرنے والے تحمل کے مادہ سے عاری ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اہل تشیع کے ایک مذہبی سیٹلائٹ ٹی وی چینل کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب اس چینل کے پروگرامز کا آغازہوا تو اسی وقت میں نے کہا اس چینل کے اجرا کامقصد اہل سنت کی توہین اور ان کے عقائد کامذاق اڑانا ہے، اگر اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد نہیں کی گئی تو دسیوں اور چینلز منظر عام پرآئیں گے اور یہ سب اہل سنت والجماعت پر برسیں گے۔ اس بات کا نوٹس نہیں لیا گیا اور نتیجے میں ایسے کئی سیٹلائٹ چینلز کے پروگرامز کا آغاز ہوا۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا اب جب ان انتہاپسند ویب سائٹس نے سراٹھایا ہے میں متعلقہ حکام کو وارننگ دیتاہوں کہ اگر ان کی سرگرمیوں کا نوٹس نہیں لیاگیا تو اس طرح کے ذرائع ابلاغ کھنبیوں کی طرح اگیں گے اور صوبے کی فضا کو بدبو کردیں گے حالانکہ اس وقت ہمیں اتحاد و یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں