پاکستان میں سیلاب 2004ء کے سونامی طوفان سے تباہ کن ہے: اقوام متحدہ

پاکستان میں سیلاب 2004ء کے سونامی طوفان سے تباہ کن ہے: اقوام متحدہ
flood-pk2اسلام آباد (العربیہ۔ایجنسیاں) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ایک کروڑ اڑتیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور اس کی تباہ کاریاں دسمبر 2004ء کے سونامی طوفان سے بڑھ گئی ہیں جبکہ متاثرین بر وقت امداد نہ ملنے کی وجہ سے حکومت پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت اور اقوام متحدہ کے حکام نے اسی سال کے بعد ملک کے شمال مغربی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں آنے والے شدید سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری سے مزید فوری امداد اور ریلیف کی کوششوں میں ہاتھ بٹانے کی اپیل کی ہے جبکہ صدر آصف علی زرداری اپنے متنازعہ دورہ یورپ کے بعد آج وطن واپس پہنچنے والے ہیں۔
تباہ کن سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی پاکستان کے شمال علاقوں اور شمال مغربی وادی سوات، جنوبی پنجاب اور زیریں سندھ میں ہوئی ہے اور سیکڑوں مربع میل علاقے زیر آب آنے کی وجہ سے ملک کے باقی حصوں سے کٹ گئے ہیں۔ لاکھوں مکانات، سڑکیں، پل اور عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاری انسانی امور کے ترجمان مور زیوگیلیانو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”پاکستان میں بدترین سیلاب کی تباہ کاریاں دسمبر2004ء کے سونامی طوفان، پاکستان میں 2005ء کے شدید زلزلے اور ہیٹی میں زلزلے سے زیادہ ہیں”۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے ایک کروڑ اسی لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 2005ء کے زلزلے میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد، سونامی میں پچاس لاکھ سے زیادہ اور ہیٹی میں زلزلے سے تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دسمبر 2004ء میں جنوب مشرقی ایشیا میں سونامی طوفان سے دو لاکھ بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے پاکستان میں انسانی امور کے رابطہ کار مارٹن موگوانجا نے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ واضح رہے کہ بہت سے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک پاک فوج یا دوسرے علاقوں کی ٹیمیں پانی میں گھرے افراد تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ابھی بارشیں ہو رہی ہیں، اس لیے مزید نقصانات کا خطرہ ہے۔ میں عالمی برادری سے اپیل کروں گا کہ وہ اس قدرتی آفت میں ہماری مدد کرے”۔
امریکا سمیت متعدد غیر ملکی ڈونرز نے کروڑوں ڈالرز کی امداد دینے کے اعلانات کیے ہیں لیکن بر سر زمین حکومت سے زیادہ اسلامی خیراتی ادارے متاثرین سیلاب کی امداد کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ہزاروں بے گھر

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے آیندہ چوبیس گھنٹے کے دوران مختلف مقامات میں بارش کی پیشین گوئی کی ہے اور کہا ہے کہ مون سون کی شدت میں اب کمی واقع ہورہی ہے۔
سیلاب کی اطلاع دینے والے مرکز کے مطابق سوموار کو دریائے سندھ میں گدواورسکھر کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تھا جبکہ دریائے سندھ میں چشمہ اور دریائے کابل میں نوشہرہ سے نہایت اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر تھا،بدھ کو تونسہ کے مقام پردریائے سندھ میں پانی کی سطح سات لاکھ کیوسک تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔
شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں مزید سیکڑوں مکانات منہدم ہوگئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چشمے پرمندرا پل گرنے کی وجہ سے ڈیرہ اسماعیل خان اور اسلام آباد کے درمیان شاہراہ بند ہوگئی ہے جبکہ ڈیرہ۔ ژوب روڈبھی اب تک نہیں کھولی جا سکی۔
سیلابی ریلے کے جنوبی پنجاب اور سندھ کی جانب بڑھنے کے بعد وہاں سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات اور شہروں کی جانب منتقل ہورہے ہیں یاانہیں فوج اور دیگر امدادی ادارے محفوظ جگہوں پر منتقل کررہے ہیں۔صوبہ سندھ کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔
سندھ کے قصبے کرم پور کا وسیع علاقہ زیرآب آنے کی وجہ سےسیکڑوں کاشت کارایک پل پر پھنسے ہوئے ہیں جبکہ انڈس ہائی وے زیرآب آنے سے بند ہوچکی ہے۔اسی طرح سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں بھی پانی میں گھرے افراد امدادکے منتظر ہیں۔
سیلاب میں زندہ بچ جانے والے افراد اب امداد کی فراہمی میں تاخیر پرحکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور اپنے علاقوں میں ہفتہ عشرہ گزرنے کے بعد آنے والے سرکاری حکام اور وزراء کو بے نقط سنارہے ہیں۔گذشتہ روز سیلاب سے متاثرہ ضلع مظفر گڑھ میں متاثرین نے اقتصادی امور کی وزیرمملکت حنا ربانی کھر پر حملہ کردیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم گذشتہ ایک ہفتے سے مصیبت میں گھرے ہوئے ہیں اور وزیرصاحبہ اب منہ دکھانے کے لیے ان کے پاس آئی ہیں۔
ایک پینتالیس سالہ عورت ماہی باچی کا کہنا تھا کہ ”ہم نے اس حکومت کو ووٹ دیا تھا،ہم نے آصف زرداری کو اپنا حکمران بنایا تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ وہ اتنے بے پرواکیوں ہیں۔ہم خوراک اور پانی کے بغیر یہاں موجود ہیں،ہمارے بچے کمزور ہوچکے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی بھی ہمارے امداد کے لیے نہیں آیا”۔
اس خاتون نے حکومت سے اپیل کی کہ” مہربانی کرکے ہمارے لیے گاڑیاں بھیجیں جو ہمیں یہاں سے نکالے۔ہم بہت بڑے خطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔یہاں ایک طرف پانی ہے اور دوسری طرف بھوک ہے”۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں