بعض منافرت وانتشار پھیلانے والے اور سنی مسلمانوں کی مقدسات کامذاق اڑانے والے ذرائع ابلاغ کی مجرمانہ حرکتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے خطے میں ایسے ذرائع ابلاغ خاص کر ویب سائٹس اور بلاگز کو افراتفری اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے بنیادی اسباب و وجوہات قرار دیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ان کا قبلہ سیدھا کرانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزیدکہا جو صحافی حقائق اور اصل واقعات سے لوگوں کوباخبر کرتاہے اس کامعاشرہ پر بڑا احسان ہے۔ لیکن بعض صحافی جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں، ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے دوچار ہوجائیں گے۔ خاص طور پر جب یہ دروغ گوئی مخصوص ایجنڈے کے تحت ہو۔ جو صحافی تحقیق کرکے خبر نشر کرتاہے مگر بعد میں اس کی خبر غلط نکلتی ہے تو اس کی نجات کا امکان ہے مگر جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتاہے اور غلط خبروں سے انتشار پھیلاتاہے اس کاانجام انتہائی برا ہوگا اور وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔
بعض ویب سائٹس کے ذمہ داران مخصوص سیاسی مفادات کی خاطر اللہ کے بندوں پر طرح طرح کے الزامات اور تہمتیں لگاتے ہیں؛ ان لوگوں کا منہ دنیا وآخرت میں کالاہے۔ [حاضرین کانعرہ تکبیر]
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھائی: صوبے کے سیکورٹی اداروں سے میرا مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کی راہ بند کریں جو خطے میں عوام کے اتحاد ویکجہتی کیلیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ عناصر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلیے فضا کو مکدر کرناچاہتے ہیں، اسی لیے کبھی اہل سنت کے علماء اور مدارس کو نشانہ بناتے ہیں اور کبھی ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں کی مقدس شخصیات کی توہین کرکے ان کی دل آزاری کرتے ہیں۔ اگر متعلقہ حکام نے ان عناصر کو گرفت میں نہیں لیا تو یہ ان کی اپنی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہوگا۔
جی ہاں! آزادی بیان وصحافت ہونی چاہیے، ایران کے آئین سمیت بین الاقوامی قوانین کی رو سے آزادانہ اظہار خیال ہرشخص کا حق ہے، ہم بھی اس بات کے شدید حامیوں سے ہیں لیکن آزادی کامطلب ہرگز یہ نہیں کہ دوسروں پر الزامات لگا کر جو دل چاہے کہہ دیاجائے۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض عناصر لوگوں کی شرافت سے غلط فائدہ اٹھا کر افترا و الزام تراشی پر اترآتے ہیں۔
ایک شدت پسند رکن قومی مجلس کے الزامات کی جانب اشارہ کرکے سنی رہنما نے کہا بعض ارکان پارلیمنٹ (جن کاتعلق صوبہ سیستان وبلوچستان) سے ہے سرکاری سطح پر عوام کی نمایندگی کے مقام پر الزام تراشی پر اتر آتے ہیں۔ اگر ہم نے ایسے لوگوں کا جواب نہیں دیاہے تو یہ ہماری شرافت کی وجہ سے ہے۔ [نعرہ تکبیر] ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور زاہدانی عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ لوگ کس طرح راتوں رات ووٹ حاصل کرکے قومی مجلس تک پہنچے ہیں۔ قوم ایسے ووٹوں کی حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا کہ کیا حق کی بات کرنا، عوام کوحقائق سے آگاہ کرنا انصاف کامطالبہ کرنا اور مختلف برادریوں میں مساوات قائم کرنے کی دعوت دینا گناہ ہے؟ ایسی باتوں کو برداشت نہ کرنے والے تحمل کے مادہ سے عاری ہیں۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے بعض انتہاپسند عناصر کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا جو اپنی ویب سائٹس، بلاگز اور ہفت روزہ جرائد کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دیکر اہل سنت کی مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور یہ لوگ بظاہر حکومت کی حمایت کے دعویدار بھی ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے بعض مسائل کی بنیاد ایسے ہی میگزینز، اخبارات اور ویب سائٹس ہیں جو حکومت کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور سرخی لگاتے ہیں ’’الفتنۃ اشد من القتل‘‘! پھر مکی مسجد اور تقریب ختم بخاری کی تصاویر بھی لگاتے ہیں، گویا یہ مقامات فتنے کے مراکز ہیں! یہ نئی بات نہیں ہے، مگر ایسے انتہاپسندوں کو روکنے والا کوئی نظر نہین آرہا۔ معلوم نہیں استغاثہ کہاں ہے؟
ان جرائد اور ویب سائٹس کے ذمہ داران کو یقین ہے کہ کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہے۔ ورنہ یہ لوگ ایسی حرکتوں سے باز آتے۔ یہ عناصر صوبے میں بدامنی وانتشار پھیلانے کے ذمہ دار ہیں؛ بلوچ، زابلی، بیرجندی ودیگر برادریوں کے لوگ کئی سالوں سے شیروشکر ہوکر ساتھ رہتے ہیں۔ آپس میں ان کی کوئی چپقلش نہیں تھی۔ سوال یہ ہے کون دوریاں پیدا کرنے پر تلا ہواہے؟ اس کا فائدہ کس کو پہنچ رہاہے؟ ایسے ہی حالات میں بعض لوگ فرقہ واریت اور نفاق کو ہوا دیکر جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ایسے عناصر کو قانون کی گرفت میں لائے۔ میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ سنی شدت پسندوں کے رویے سے سنی برادری کو فائدہ نہیں پہنچتا اسی طرح شیعہ انتہاپسندوں کی حرکتوں سے اہل تشیع کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ (سنی آن لائن) کو ایران میں بند کیا گیا ہے حالانکہ ہم سختی سے ویب کے بعض مضامین کو سینسر کرکے مٹادیتے ہیں تا کہ کہیں کسی کی جذبات مجروح نہ ہوں۔ دوسری طرف متعدد ویب سائٹس بلا روک ٹھوک توہین والزام تراشی میں مصروف ہیں۔ جب تک مقامی اور اندرونی انتہاپسندوں کی راہ نہ روکی جائے مسائل حل نہیں ہوں گے چونکہ یہ عناصر اختلاف وانتشار کے بنیادی اسباب میں شمار ہوتے ہیں۔
سرپرست دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا ہم سنی بلاگرز اور نیٹ کی دنیا میں سرگرم سنیوں کو اہل تشیع کی مذہبی توہین کی اجازت نہیں دیتے ہیں، اسی طرح توقع رکھتے ہیں ملک میں کسی بھی نشریاتی ادارے کو سنی برادری کی مقدس شخصیات کی شان مین گستاخی کی اجازت نہ دی جائے جو بیت المال کے پیسے سے چل رہے ہیں۔ اگر ہم گستاخیوں اور بدزبانیوں کے باوجود خاموش رہتے ہیں صرف اس لیے کہ ہمیں امید ہے صوبہ بلوچستان کی ’’سیکورٹی کونسل‘‘ ودیگر سرکاری ادارے ان کو منع کریں گے۔ ہماری خاموشی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہمیں مسائل کا ادراک نہیں، تمام شواہد اور دستاویزات ہمارے پاس محفوظ ہیں اور مناسب وقت پر آیت اللہ خامنہ ای کے سامنے ان گستاخانہ مضامین کو رکھ دیں گے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایک مذہبی سیٹلائٹ ٹی وی چینل کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب اس چینل کے پروگرامز کا آغازہوا تو اسی وقت میں نے کہا اس چینل کے اجرا کامقصد اہل سنت کی توہین اور ان کے عقائد کامذاق اڑانا ہے، اگر اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد نہیں کی گئی تو دسیوں اور چینلز منظر عام پرآئیں گے اور یہ سب اہل سنت والجماعت پر برسیں گے۔ اس بات کا نوٹس نہیں لیا گیا اور نتیجے میں ایسے کئی سیٹلائٹ چینلز کے پروگرامز کا آغاز ہوا۔ اب جب ان انتہاپسند ویب سائٹس نے سراٹھایا ہے میں متعلقہ حکام کو وارننگ دیتاہوں کہ اگر ان کی سرگرمیوں کانوٹس نہیں لیاگیا تو اس طرح کے ذرائع ابلاغ کھنبیوں کی طرح اگیں گے اور صوبے کی فضا کو بدبو کردیں گے حالانکہ اس وقت ہمیں اتحاد و یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔
اپنے خطبے کے دوسرے حصے میں قرآنی آیت: «یا ایها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون» (بقره:183) کی تلاوت کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا اللہ تعالی نے سورہ ’’حٓمٓ مومن‘‘ کے شروع میں اپنی صفات بیان کرکے فرمایاہے:«غافر الذنب قابل التوب شدید العقاب ذی الطول لا اله الا هو الیه المصیر»؛ اللہ تعالی جس طرح بخشنے والا اور معاف کرنے والا ہے اسی طرح قہار بھی ہے، عذاب بھی دیتاہے۔ اللہ تعالی جنت اور جہنم دونوں کا مالک ہے۔
تمام احکام پر عمل کرکے خالق کی رضامندی حاصل کی جاسکتی ہے۔ نفس کی اصلاح میں تمام اعمال اور دینی احکام موثر ہیں۔ تزکیہ واصلاح حاصل کرنے کے بعد کامیابی تک آدمی پہنچ سکتاہے۔ نماز و زکات کا شمار ان اہم اعمال میں ہوتاہے۔ ہم کلمہ پڑھ کر گویا وعدہ کرتے ہیں تمام احکام کو بجا لائیں گے۔
مال انسان کی ضرورت ہے اور اس سے ادنی محبت بھی ہونی چاہیے لیکن اتنی محبت کہ زکات وصدقات دینے سے انکارکیا جائے، ربا اور رشوت لی جائے پھر یہ مال نہیں زہرقاتل ہے۔
روزے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا روزہ اللہ تعالی کاصریح حکم ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ نفس انسانی جو شیطان کا مورچہ اور گڑھ ہے تباہ ہوجاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ رکھ کر شیطان کا راستہ بند کریں۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث نبوی کہ رمضان المبارک میں شیطان زنجیروں میں جکڑ دیا جاتاہے کامطلب یہی ہے کہ شیطان لوگوں کو ورغلانے سے عاجز ہوجائے گا۔
بھوکے رہنے میں بہت ساری حکمتیں ہیں۔ یہ نہ صرف روح اور جسم کیلیے مفید ہے بلکہ اصلاح کے حوالے سے بھی انتہائی موثر ہے۔ اس سے دل قرآنی آیات میں غور وتدبر کیلیے تیارہوتاہے۔
حاضرین کو رمضان کے استقبال کیلیے تیار رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا بہت سارے لوگ مسجدالنبی اور مسجد الحرام کو رمضان گزارنے کیلیے انتخاب کرتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے علاقوں کارخ کرتے ہیں جہاں زیادہ تر نیک لوگ رہتے ہیں۔ زاہدان سے تعلق رکھنے والے حضرات کوشش کریں اس مبارک مہینے کو زاہدان ہی میں گزار دیں، جو دوسرے شہروں میں ہیں وہ بھی زاہدان یا کسی اور مناسب علاقے کارخ کریں۔ آپ جہاں بھی ہوں وہاں اللہ بھی ہے، رمضان بھی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ جتنا ہوسکے نیک کاموں میں لگ جائیے۔
اس مبارک مہینے میں کوشش کرنی چاہیے کہ جتنا زیادہ امکان ہے افطاری تیار کرکے پڑوسیوں، غریبوں اور مساجد تک پہنچایئے۔ افطاری کھلانے پرخصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح غریب اور مستحق لوگوں کے ساتھ تعاون کرکے ہمدردی کا اظہار کیجیے۔ رمضان مواسات و ہمدردی کامہینہ ہے۔

آپ کی رائے