شدید بارشوں سے تباہی : جام پور‘ مدین میں 82 افراد سیلاب کی نذر

شدید بارشوں سے تباہی : جام پور‘ مدین میں 82 افراد سیلاب کی نذر
flood-pakistan1لاہور/جام پور/سکھر/اسلام آباد (ایجنسیاں) سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جبکہ بارشوں کے نئے سلسلے نے خیبر پی کے میں پھر زبردست تباہی مچا دی، سینکڑوں گھر ملیامیٹ ہوگئے، دریائے سندھ پر بند ٹوٹنے سے پنجاب اور سندھ کے مزید کئی علاقے زیر آب آگئے، ڈیرہ غازی خان کا ملک بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا، جام پور میں متاثرین کی کشتی الٹنے سے 40 افراد بہہ گئے، مدین میں ایک ہی خاندان کے 42 افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتہ ہوگئے، ادھر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سیلاب کے نقصانات کے بعد تعمیر نو کیلئے پاکستان کو اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق گدو اور سکھر بیراج پر غیر معمولی درجے کا سیلاب ہے‘ کمزور حفاظتی پشتوں کے باعث کئی شہروں کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ شکارپور میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارکوکی آئل ریفائنری کو سیلابی پانی سے بچانے کے لئے سپر بند کو توڑا گیا۔ پنجاب سے جانے والے امدادی سامان کے ٹرک بھی پھنس گئے۔ ڈی جی خان میں 30 لاکھ افراد متاثر ہیں۔
دوسری جانب جام پور کے قریب کشتی الٹنے سے بہہ جانے والے اکیس افراد کو بچا لیا گیا ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے مطابق ایک پرائیویٹ کشتی میں سوار یہ افراد محفوظ مقام کی طرف جا رہے تھے کہ محمدی راواں بند کے قریب کشتی اپنا توازن برقرار رکھ سکی اور الٹ گئی۔6 نعشیں نکال لی گئیں۔
دریائے چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے جس سے ملتان اور مظفر گڑھ میں سیلاب آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ٹوڑی بند ٹوٹنے کے بعد ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔ غوث پور اور کرم پور شہر مکمل خالی کرالیے گئے ہیں۔جیکب آباد ، ٹھل اور گردونواح سے بھی نقل مکانی شروع ہوگئی۔ گھوٹکی کے قریب سندرانی بند میں کٹاﺅ شروع ہوگیا۔ گھوٹکی کے قریب قادر پور گیس فیلڈ کے بند کو حساس قرار دیا گیا ہے اور پاک فوج کے جوان اس کی نگرانی پر مامور ہیں۔ کچے کے علاقے میں محصور افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے۔
نوشہرو فیروز میں کچے کا نوے فی صد علاقہ زیر آب آگیا ہے۔ ڈی سی او نوشہروفیروز کے مطابق 25 ہزار افراد اب بھی کچے کے علاقے میں موجود ہیں جنہیں نکالنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ سیلاب سکھر اور روہڑی شہر کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر گزر جائےگا۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ سکھر بیراج کو کوئی خطرہ نہیں اور بند نہیں توڑا جائےگا۔
دریائے چناب میں ہیڈ تریموں پر 2 لاکھ 9 ہزار کیوسک ، ہیڈ سلیمانکی پر 16 ہزار 4 سو 44 کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے مخدوم رشید، شجاع آباد اور وجو ہٹا برانچ کو خطرہ ہے ۔ گدو بیراج سے 12 لاکھ کیوسک اور کوٹری سے 9 لاکھ کیوسک کا ریلا گزر چکا ہے۔ شدید بارشوں اور بڑے پیمانے پر سیلاب کے باعث پنجاب اور خیبر پی کے میں بیشتر آئل فیلڈ بند کر دئیے گئے۔ جام پور میں سیلاب سے پاک عرب ریفائنری کارپوریشن (پارکو) اور امریکن الیکٹرک سپلائی کمپنی کو بچانے کیلئے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔فیڈرل فلڈ کمشن نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ سیلاب سے اب تک ملک میں 1176 افراد جاں بحق ہوئے 29 لاکھ 58 ہزار 665 افراد بے گھر جبکہ دو لاکھ 74 ہزار 377 مکانات تباہ یا عمومی متاثر ہوئے۔ بھارت کی جانب سے لداخ اور کرگل میں تین ڈیموں کے سپل وے کھول دیئے گئے جس سے دریائے سندھ میں سکردو کے مقام پر پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ضلع میں ایک سو پندرہ مکانات منہدم ہوئے جبکہ بارہ سے زائد پل ٹوٹ گئے۔
سکردو اور گانچھے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے جاں بحق 62 افراد میں سے 39 نعشیں نکال لی گئیں۔ تربیلا ڈیم میں ایک بڑا سیلابی ریلہ داخل ہونے سے ڈیم میں پانی کی آمد خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ کنارے آباد دیہات غازی، خالو کا ایک حصہ بھی زیر آب آگیا۔ لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے۔
گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق شہر اور نواح میں واقع سینکڑوں دیہات سیلابی ریلے کی زد میں آچکے ہیں جس کی وجہ سے ان دیہات کے سینکڑوں متاثرین میں وبائی امراض بھی پھوٹنے لگے ہیں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں گزشتہ روز بھی شدید بارش ہوئی۔ گوجرہ‘ ٹوبہ اور دلے والا سمیت کئی شہروں میں نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ چھتیں گرنے اور آبی ریلوں سے 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں اور شمالی وزیرستان میں مزید 16 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق مدین میں ایک ہی خاندان کے 42 افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتہ ہوگئے جبکہ ان بے بس لوگوں کو نکالنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی امدادی کام نہیں ہوا۔
ضلع ہنگو میں سیلابی ریلوں سے 25 مکانات تباہ جبکہ ایک خاتون اور دو بچوں سمیت چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ ضلع شانگلہ میں 150 مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔چوک سرور شہید کے اڈ ہ پٹھان ہوٹل پر سیلاب متاثرین نے خوراک اور ادویات نہ ملنے پر خیموں سے باہر آکر ملتان میانوالی روڈ بند کر دی اور احتجاجی مظاہرہ کیا اور دو گھنٹے تک ٹریفک بلاک رکھی جس سے گاڑیوں ٹرکوں بسوں ویگنوں کی لمبی لمبی لائینیں لگ گئیں۔بان کی مون کے خصوصی ایلچی مورس رابرٹ نے امریکی خبررساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو تعمیر نو کیلئے اربوں ڈالر درکار ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی امداد بہت ضروری ہے لیکن اس امداد کے حصول میں عالمی معاشی بحران کی وجہ سے دشواریاں ہونگی۔
سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان نیوی کے ہیلی کاپٹرز نے کشمور اور گھوٹکی کے علاقوں میں 2500 کلو گرام کی امدادی اشیاءاور راشن کے پیکٹ گرائے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں