موجودہ حالات اور اختلافِ راۓ

موجودہ حالات اور اختلافِ راۓ
ideas-to-save-the-worldعالم اسلام آج جن مسائل سے دوچار ہے ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ تو اپنے ہی دین سے روگردانی ہے۔ اس کے ازالے کے لیے جو پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں اور ان سے متعلق جو حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے اس پر امت میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا لگتا یہی ہے کہ فی الحال یہ اختلاف ہی بڑے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے، کئی صدیوں سے ہی امت میں اتحاد واتفاق کا فقدان پایا جاتا ہے او رامت کا اتحاد جتنا ناگزیر ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ آج کل یہ اختلاف اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب مسلمانوں میں اختلافی امور پر ” شوقیہ بحث ومباحثے“ رواج اور فیشن کا ایک چھوٹا سا حصہ بن چکے ہیں ۔ اختلاف کا شوق اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ کلمہ گو مسلمان جن کو یہ پتہ نہیں کہ کلمہ کے کتنے فرائض ہیں وہ بھی اکابرین امت سے ”کھل کر“ اختلاف رکھ کر خود کو دھوکہ دینے میں مبتلا ہیں، باقی رہے پنج وقتہ نمازی اور روزے دار ان کی تو بات ہی کچھ اور ہے اور بصیرت سے عاری لوگوں کو اختلاف اور انتشار کے بھیانک نتائج کا ادراک نہیں اورانہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ ذہنیت بھی یہود کی پیداوار ہے، جنہوں نے غیر یہود ( بالخصوص مسلمانوں) کو مختلف انداز سے سوچنے کے لیے مختلف نظریات (جیسے سیکولر ازم، سوشلزم، قوم پرستی اور دیگر خرافات) کے ساتھ ہی میڈیا کا استعمال کیا۔ مختلف انداز سے سوچنا اور عمل کرنا تو اختلاف ہے، نتیجہ واضح ہے کہ بہت سے دین دار اور سمجھ دار کہلانے والے ”حضرات“ بھی اختلاف رائے کے آداب نہ جانتے ہوئے امت کی بہت بڑی ہستیوں سے متعلق انتہائی نازیبا اور نامعقول رائے رکھتے ہیں۔ اور اپنی نادانی کو نادانی ہی کی وجہ سے سمجھ نہیں پاتے۔

اختلاف رائے رکھنے والے مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض لاعلم، کم فہم، بے دین، ان پڑھ اور میڈیائی پروپیگنڈے کے شکار لوگ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ”رائے“ کا اظہار کر بیٹھتے ہیں ۔ پھر ہوتا یوں ہے کہ نہ تو انہیں سمجھایا جاسکتا ہے، کیوں کہ وہ ”میڈیا کے حقائق“ سے ”باخبر “ ہوتے ہیں، نہ ہی ان کے پاس اپنی رائے سے متعلق معقول دلائل ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں نتائج کا ادراک ہوتا ہے یا کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ چند ٹوٹے پھوٹے دلائل تو رکھتے ہیں ، لیکن ایسے نامعقول کہ صرف جان چھڑانے کے لیے ان کو استعمال میں لایا جاتا ہے، لیکن ایسے ” معقول دلائل“ سے ان کا اپنا ضمیر بھی مکمل طور مطمئن نہیں ہوتا۔
بعض حضرات ایسے ہوتے ہیں کہ ناقص معلومات، مفروضوں، پروپیگنڈوں اور افواہوں کے زیر اثر رہ کر کچھ عجیب وغریب رائے کا اظہار کرکے اپنی ” عقل مندی“ کا پردہ چاک کر دیتے ہیں، لیکن جب انہیں حقائق کا پتہ چل جاتا ہے تو خاک ساری اور حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی سابقہ رائے سے دست بر دار ہو جاتے ہیں، لیکن بعض ”پرلے درجے کے عقل مند“ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حقائق سے باخبر ہو کر بھی اپنی سابقہ اور فضول رائے سے دستبردار ہونا برداشت نہیں کرتے، ایسے لوگ یا تو ایک ”ایجنڈے“ کے تحت ایسا کرتے ہیں یا پھر ان میں صرف اور صرف ہٹ دھرمی کا عنصر ہوتا ہے۔
ایسا بھی دیکھنے میں آتا رہتا ہے کہ بعض لوگ کوئی ایسی رائے قائم کر لیتے ہیں کہ ان کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں، لیکن انہیں مقاصد کے حصول کے لیے دلائل کچھ اور قسم کے دیے جاتے ہیں، یعنی یہ ظاہر بھی نہیں کہ ان کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں ان کے لیے یہی کافی ہے کہ ”بغل میں چھری اور منھ میں رام رام“۔
روشن خیال قسم کے لوگوں کا خیال ہے کہ انسان کسی بھی قسم کی رائے قائم کرنے میں آزاد ہے او رکسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کی رائے پر اثر انداز ہو اور انہیں اپنی رائے واپس لینے پر مجبور کردے۔ یہ خیال دراصل مغرب سے درآمد شدہ لادین نظریات کا نتیجہ ہے، مغرب کو تو ”آزادی رائے“ کی وجہ سے جن خرافات کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ بھی دل دہلا دینے والی خرافات ہیں، لیکن ان پر توبہ کرنے یا اپنے ہی دین کی طرف رجوع کرنے کے بجائے مسلمانوں کو انہی خرافات میں دھکیلنے کے لیے وہ پرتول رہے ہیں ۔ قرآن وسنت کے حوالے سے علمائے کرام نے اسلامی احکامات کو فرض، واجب ، سنت اور مستحب قرار دے کر ان کی تعریف کی اور ترتیب دی اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھایا کہ جواحکامات فرض ہیں وہ قطعی دلیل کے ساتھ ثابت ہیں، لہٰذا دیگر کے بارے میں بھی تفصیل سے سمجھایا۔ الغرض یہ کہ ان فرائض کے حوالے سے واضح کیا کہ ان امور میں کسی بھی کلمہ گو مسلمان کو ”کرنے یانہ کرنے“ سے متعلق زبان درازی کا اختیار نہیں ہے او ریہ سمجھنا بھی ضرور ی ہے کہ الله تعالیٰ کے احکامات عمل کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور جس عمل سے قرآن وسنت نے منع فرمایا ہے وہ نہ کرنے کے کام ہیں او را س معاملے میں اپنی طرف سے کوئی ”رائے “ گھڑ لینا کسی مسلمان کے شایان شان نہیں۔
امت میں اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں، لیکن تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اختلاف رائے کے نام پر امت مسلمہ اصل مقاصد پر توجہ دینے کے قابل نہ رہی اوربہت سے حضرات نے ”رائے“ قائم کرتے ہوئے امت کے اتحاد کو تار تار کر دیا۔
میرا مقصد صحابہ کرام کے اختلاف کو بیان کرنا،ائمہ کرام یا علمائے دیوبند کے باہمی اختلاف کو موضوع بحث لانا نہیں، کیوں کہ صحابہ کرام سے متعلق تاریخ گواہ ہے کہ وہ کفار کے خلاف ایک مضبوط چٹان بنے، اتحاد ہی کی برکت سے ان کا ایک وسیع علاقہ فتح کرلیا۔ ائمہ کرام کا اختلاف صرف فقہی مسائل تک محدود تھا ،آج کل کی طرح وہ ایک دوسرے کی غیبت، بہتان تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر کبھی نہ اترے۔ مزے کی بات ہے کہ وہ ایک ایک مسئلہ پر گھنٹوں نہیں، بلکہ راتوں بحث کرتے، حتی کہ صبح ہو جاتی، لیکن پھر بھی ان کی محبت اپنی مثال آپ سمجھی جاتی تھی ۔ اس طرح قیام پاکستان سے پہلے تقسیم ہند کے مسئلے پر علمائے دیوبند میں شدید اختلاف پایا جاتاتھا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ الله، مفتی کفایت الله رحمہ الله، امیر شریعت حضرت سید عطا ء الله شاہ بخاری رحمہ الله جیسے علمائے کرام تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے حق میں نہیں تھے، جب کہ دوسری طرف علمائے دیوبند ہی میں سے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ الله، مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ الله جیسے علمائے کرام قیام پاکستان کے حق میں تھے ۔ اس شدید اختلات کے باوجود شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ الله اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله کے جو باہمی تعلقات تھے وہ اپنی مثال آپ تھے۔ یہاں تک کہ حضرت مدنی رحمہ الله جو کبھی کبھار حضرت حکیم الامت رحمہ الله کے ہاں آتے رہتے تھے۔ حضرت حکیم الامت رحمہ الله کے ایک مرید جو قیام پاکستان کے حق میں ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ کے اجلاس میں شرکت کرتے رہتے تھے ایک دن حضرت مدنی رحمہ الله کے خلاف برابھلا کہنا شروع کیا۔ حضرت حکیم الامت رحمہ الله کو پتا چلا تو اس مرید کو اپنی خانقاہ سے نکال باہر کیا اور جب تک کہ اس نے حضرت مدنی رحمہ الله سے دست بستہ معافی نہیں مانگی اپنی خانقاہ میں آ نے نہیں دیا۔ اسی کو کہتے ہیں کہ محبت اور اخلاص۔
آج کل کے جو اختلافات ہیں وہ صحابہ کرام، ائمہ کرام یا علمائے دیوبند کی طرح نہیں، ان کا اختلاف وہی ہوتا تھا جو وہ بیان کرتے۔ لیکن آج کل نصف اختلافات تو ظاہراً ہوتے ہیں، جب کہ کچھ خفیہ بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ظاہراً جو اختلاف ہے اس کی وجہ سے خفیہ اختلاف ہوتا ہے لیکن کھل کر کھری بات کرنے میں فائدہ نہیں سمجھا جاتا، اس لیے دل میں کچھ اور منھ میں کچھ اور ہوتا ہے۔
ان تمام خرافات کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے عمل، کردار اور رائے میں اخلاص پیدا کریں، خصوصاً مذہبی طبقہ جو روز امت کے اتحاد کے حوالے سے بیانات جاری کرتے کرتے نہیں تھکتا واقعتا بھی امت کے اتحاد کی فکر کرے اور امت کے اتحاد کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نیک، پر خلوص اور معقول رائے کا نہ صرف احترام کریں، بلکہ جب اس سے مطمئن ہو جائیں تو اتفاق سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے او رجب کسی کی رائے میں معقولیت اور اخلاص کے فقدان کو محسوس کریں تو اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ اس کی پیٹھ پیچھے باتیں بنانا شروع کر دیں، جس کا اکثر اوقات ہمیں پتا نہیں چلتا اور ہم غیبت اور بعض اوقات بہتان کے مرتکب ہو جاتے ہیں ۔ لہٰذا غیبت اور بہتان سے بچنے کی خاطر ہی ہمیں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے، ان شاء الله موجود ہ حالات میں امت مسلمہ کے اتحاد اور انفرادی رائے میں بہتری اور اخلاص پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔ الله ہمارا حامی وناصر ہو۔

وماعلینا الا البلاغ

محترم عبدالله جان
شائع ہواالفاروق, شعبان المعظم 1431ھ
(بہ شکریہ فاروقیہ ڈاٹ کام)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں