یمن:حوثی باغیوں نے 200یرغمالی فوجی رہا کردیے

یمن:حوثی باغیوں نے 200یرغمالی فوجی رہا کردیے
yemen-troopsصنعا (ایجنسیاں) یمن میں حوثی باغیوں نے دوروز پہلے لڑائی کے دوران یرغمال بنائے گئے دوسوسرکاری فوجیوں کو رہا کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے زیرحراست دوسرے سول اور فوجی قیدیوں کو بھی رہا کردیں گے۔

یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان مصالحتی کرداراداکرنے والے ایک ثالث نے بتایا ہے کہ”حوثی باغیوں نے شمالی صوبہ العمران کے علاقے العمشیہ میں لڑائی کے دوران جن فوجیوں کو پکڑا تھا،انہیں آج بدھ کورہا کردیا ہے”۔فرانسیسی خبررساں ادارے نے حوثی باغیوں کے قریبی قبائلی ذرائع سے فوجیوں کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔
منگل کو ایک فوجی افسر نے اطلاع دی تھی کہ حوثی باغیوں نے فوج کی ری پبلکن گارڈز کی بہترویں رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے دوسوفوجیوں کو پکڑلیا ہے۔
ان فوجیوں کو حوثی باغیوں نے مبینہ طورپر سوموار کو صوبہ عمران کے علاقے الزعلا میں فوجی اہمیت کی حامل ایک چوکی پر قبضے کے بعد پکڑا تھا۔اس علاقے میں حوثی باغیوں اورفوج کے حامی قبائل کے درمیان گذشتہ نوروز سے شدید جھڑپیں ہورہی ہیں۔
بدھ کو قبل ازیں یمن کی وزارت دفاع نے ری پبلکن گارڈز سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے باغیوں کے ہاتھوں پکڑے جانے کی تردید کی تھی۔یمن کی سرکاری نیوز ایجنسی سبا کے مطابق وزارت کے ترجمان نے کہا کہ ”مبینہ چوکیوں پر ری پبلکن گارڈز سے تعلق رکھنے فوجی تعینات ہی نہیں تھے”۔
یمنی حکومت کے اس بیان کے بعد فوری طورپر یہ واضح نہیں ہوا کہ باغیوں نے شمالی یمن میں جن سرکاری فوجیوں کو پکڑا تھا،ان کا تعلق فوج کےکس یونٹ سے تعلق تھا۔
اس علاقے میں حوثی باغیوں اور فوج کے حامی العزیز قبائل کے درمیان 19جولائی کوجھڑپیں شروع ہوئی تھیں اور علاقے میں جاری لڑائی سے فروری میں باغیوں اور حکومت کے درمیان طے پایا جنگ بندی کا معاہدہ خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔فریقین کے درمیان چھے ماہ کی جنگ کے بعدامن معاہدہ طے پایا تھا،جس کے دوران حوثی باغیوں کی سعودی فوج سے بھی خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔حوثی باغی اورحکومت ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتے رہتے ہیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں