صہیونی خواتین خود کو سر تا پا مکمل طور پر ڈھانپ کررکھیں: یہودی علماء

صہیونی خواتین خود کو سر تا پا مکمل طور پر ڈھانپ کررکھیں: یہودی علماء
jew-womanمقبوضہ بیت المقدس (العربيہ.نت) مقبوضہ بیت المقدس میں شدت پسند مذہبی یہودیوں کی جانب سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے۔ فتوے میں القدس کی “ہریڈیم سوسائٹی” کی تمام یہودی خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سروں پر بڑی چادریں اوڑھیں اور اپنے پورے جسم کو سر سے پاٶں تک مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔

جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے کی پابندی یہودی خواتین میں پہلے بھی پائی جاتی ہے تاہم ایسی خواتین کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ تازہ فتویٰ یہودیوں کے جس حلقے کی جانب سے جاری ہوا ہے وہ بیت المقدس کی”ہریڈیم” سوسائٹی میں نہ صرف اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں بلکہ ان کی پشت پرکئی بڑے یہودی مذہبی پیشوا بھی موجود ہیں۔
خواتین کے مکمل پردے سے متعلق یہ خبر کثیر الاشاعت موقر عبرانی اخبار “معاریف” نے بدھ کے روز اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہودیوں کی طرف سے خواتین کے مکمل جسم کو ڈھانپنے کا فتویٰ افغانستان میں طالبان دور کے مسلمان خواتین کے پردے کے مشابہ ہے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ “تازہ فتوے کا مقصد خواتین کو ہر قسم کی اخلاقی آلودگیوں سے بچاتے ہوئے ان کی حرمت اور تقدس کو قائم کرنا ہے”۔ فتوے میں مروجہ جدید دور کے ہر قسم کے لباس جس میں اسکرٹس اور تنگ شلوار قمیص شامل کے پہننے کی ممانعت کر دی گئی ہے اور صرف سیاہ رنگ کا ایسا لباس اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی جو پورے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ دے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں جگہ جگہ اس فتوے پر عمل درآمد اور اس کی تشہیر کے لیے پوسٹر لگائے گئے ہیں جن میں یہودی خواتین کو مکمل طور پر جسم کو ڈھانپنے والے سیاہ لباس اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نیز ریڈی میڈ گارمنٹس کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تنگ اور چھوٹے تیارشدہ کپڑوں کی فروخت بند کر دیں کیونکہ تنگ لباس تورات کی تعلیمات کے منافی ہے اور عذاب کا باعث بنے گا۔
معاریف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی فتوے کی ہدایت کے مطابق کپڑوں کی فروخت میں بے پروائی کرنے والے دکانداروں کو “ہریدیم” کے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے نہ صرف دھمکیوں کا سامنا ہے بلکہ فتوے کی خلاف ورزی کرنے وا لے کئی دکانداروں کی دکانوں پر حملے کر کے ان کی توڑ پھوڑ بھی کی گئ ہے۔

مذہبی حلقوں کی اختلافی آراء
اخبار لکھتا ہے کہ “اگرچہ نئے فتوے کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تاہم یہودیوں کے تمام مذہبی اس فتوے کے حق میں نہیں۔ اختلاف کرنے والوں میں یہودی مذہبی جماعت شاش بھی شامل ہے۔
شاس کے سربراہ اور یہودیوں کےایک اہم روحانی پیشوا عوفادیا یوسف کے صاحبزادے الراف ابراھیم یوسف کہتے ہیں کہ “ماضی میں یہودی مذہبی پیشواٶں کی کسی نسل یا گروہ نے ایسا انتہاء پسندی کا مظہر لباس اختیار کرنے تاکید نہیں کی اور نہ ہی یہودی خواتین میں ایسا لباس اختیار کرنے کی کوئی مشترکہ روایت رہی ہے۔
یہودی مذہبی پیشواٶں کی جانب سے خواتین کو خوبصورت لباس پہننے کی ترغیب دی ہے حتی کہ خواتین کے لیے ایام مخصوصہ میں بھی خوبصورت لباس اختیار کرنے کی تعلیم موجود ہے”۔

خواتین پر موبائل فون استعمال کی پابندی
معاریف کے مطابق یہودی انتہا پسند حلقوں کی جانب سے صرف خواتین کے نئے لباس کی سختی سے تاکید نہیں بلکہ خواتین کے موبائل فون پربات کرنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آنے والے چند روز میں”ہریدیم” سوسائٹی کی خواتین پر پبلک مقامات اور بسوں میں سفر کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں