جنرل میک کرسٹل فارغ، جنرل پیٹریاس افغانستان میں نئے کمانڈر مقرر

جنرل میک کرسٹل فارغ، جنرل پیٹریاس افغانستان میں نئے کمانڈر مقرر
obama-petrواشنگٹن (ایجنسیاں) امریکا کے صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کے کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ایچ پیٹریاس کو امریکی فوج کا نیا کمانڈر مقرر کیا ہے۔

صدر اوباما نے بدھ کو وائٹ ہاٶس کے روز گارڈن میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جنرل پیٹریاس کو افغانستان میں تعینات امریکی فوج کا کمانڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ جنرل میک کرسٹل کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ”انہوں نے جنرل کو ہٹانے کا فیصلہ محض ذاتی توہین کی بنا پر نہیں کیا بلکہ میگزین کے مضمون میں جنرل اور ان کے اسٹاف کے حوالے سے انتظامیہ کے سنئیر عہدے داروں کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس نقل کیے گئے تھے۔یہ ریمارکس ایک کمانڈنگ جنرل کے کردار کے معیار کے مطابق نہیں تھے اور اس سے فوج پر سویلین کنٹرول کو دھمکانے کی کوشش کی گئی تھی”۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ”جنگ کو کسی بھی مرد یا عورت سے زیادہ اہمیت حاصل ہے خواہ یہ عام آدمی ہو، جنرل ہو یا صدر ہو، جنرل میک کرسٹل کو ضائع کرنا مشکل ضرور ہے لیکن میرے خیال میں قومی سلامتی کے لیے یہ ایک درست فیصلہ ہے”۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ٹیم میں بحث و مباحثے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن وہ تقسیم کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔
صدر اوباما نے یہ بات زور دے کر کہی کہ فوجی قیادت میں تبدیلی ان کی افغانستان میں جنگ کے بارے میں مجموعی حکمت عملی میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں ہے۔”یہ افراد کی تبدیلی ہے، یہ پالیسی کی تبدیلی نہیں”۔ان کا کہنا تھا۔
اس سے پہلے جنرل میک کرسٹل نے صدر اوباما سے وائٹ ہاٶس میں بیس منٹ تک تنہائی میں ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے پینٹاگان میں فوجی قیادت سے بات چیت کی۔ جنرل میک کرسٹک کو صدر براک اوباما اور ان کے مشیروں کے خلاف توہین آمیز اور تنقیدی ریمارکس پر افغانستان سے وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا اور اس بات کا واضح امکان تھا کہ ان کو جنگ زدہ ملک میں امریکی فوج کی کمان سے ہٹا دیا جائے گا۔
جنرل میک کرسٹل نے صدر براک اوباما اور ان کے قریبی مشیروں کے خلاف رولنگ اسٹون میگزین کے مضمون میں توہین آمیز ریمارکس پر منگل کو معافی مانگی تھی لیکن ان کی اس معذرت کو قبول نہیں کیا گیا۔ یہ مضمون رولنگ اسٹون میگزین میں آیندہ جمعہ کے شمارے میں شائع ہو رہا ہے لیکن اسے منگل کو میگزین کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا تھا جس کے بعد وائٹ ہاوس میں ایک بھونچال سا آ گیا تھا۔
رولنگ اسٹون میگزین کے مضمون میں میک کرسٹل کے حوالے سے ان کے ایک معاون نے کہا ہے کہ ”گذشتہ سال ان کی صدر براک اوباما سے تنہائی میں ملاقات سے انہیں مایوسی ہوئی تھی”۔جنرل میک کرسٹل کے مشیر کا کہنا ہے کہ ”یہ صرف دس منٹ کی فوٹو سیشن ملاقات تھی۔اوباما واضح طور پر ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھےکہ وہ کون ہیں اور ملاقات کے دوران ان کا جنرل کی طرف کوئی زیادہ دھیان بھی نہیں تھا”۔
جنرل میک کرسٹل نے سوموار کو ایک بیان میں مضمون کے ان مندرجات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ”یہ ایک کمزور فیصلے کا نتیجہ تھا۔ میں صدق دل سے اس پروفائل پر معافی مانگتا ہوں۔ ایسا ہر گز بھی نہیں ہونا چاہیے تھا”۔
مضمون میں میک کرسٹل کے متعدد نامعلوم معاونین کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس میں امریکی فوج اور صدر اوباما کے مشیروں کے درمیان پینٹاگان کے لیے ایک ایسے حساس وقت میں اختلافات کی عکاسی کی گئی ہے جب اسے گذشتہ قریباً نو سال سے افغانستان میں جاری جنگ کی وجہ سے اندرون اور بیرون ملک کڑی تنقید کا سامنا ہے۔
مضمون میں میک کرسٹل کی ٹیم کے ایک رکن کے حوالے سے نائب صدر جو بائیڈن کا مذاق اڑایا گیا ہے جو جنرل کی افغانستان میں حکمت عملی کے ناقد ہیں اور وہ انسداد دہشت گردی کے لیے زیادہ محدود حکمت عملی اختیار کرنے کے حامی ہیں۔
اس کے علاوہ صدر اوباما کے قومی سلامتی کے مشیر سابق جنرل جیمز جونز کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے اور انہیں ایک جوکر قرار دیا گیا ہے جو مضمون نگار کے بہ قول ابھی تک 1985ء میں پھنسے ہوئے ہیں۔
میک کرسٹل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی سفیر کارل ایکنبری کے گذشتہ سال کے ایک میمو کے افشا ہونے پر سُبکی محسوس کرتے تھے جس میں میک کرسٹل کی جانب سے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے بارے میں سوال اٹھایا گیا تھا اور امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ سفیر نے تاریخ میں خود کو بچانے کی کوشش کی تھی۔
امریکی فوج کے کمان دار اعلیٰ، چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے سوموار کی رات جنرل میک کرسٹل سے بات کی تھی اور ان سے مضمون کے مندرجات پر اپنے شدید تحفظات اور مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی ایک بیان میں جنرل میک کرسٹل کے حوالے سے مضمون پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
جنرل میک کرسٹل کو جون 2009ء میں جنرل ڈیوڈ میکائیرنن کو ہٹا کر افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔ان کے پیش رو کو ہٹائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض مبصرین نے کہا تھا کہ واشنگٹن کا افغانستان میں تشدد پر قابو پانے میں فوج کی ناکامی پر صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔
جنرل میک کرسٹل نے امریکی اور نیٹو فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد صدر اوباما کو طالبان کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے مزید تیس فوج بھیجنے کی سفارش کی تھی اور وہ فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے باوجود یہ کہتے رہے تھے کہ جنگ درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔اوباما انتظامیہ کی جانب سے جنرل میک کرسٹل کی مخالفت کے باوجود افغان صدر حامد کرزئی ان کی حمایت میں پیش پیش تھے اور وہ حالیہ تنازعے کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی انہیں ہٹانے کی مخالفت کر رہے تھے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں