’برطانوی حکومتی فیصلے کو چیلنج کروں گا‘

’برطانوی حکومتی فیصلے کو چیلنج کروں گا‘
z-naikممبئی (خبررساں ادارے) ڈاکٹر ذاکر نائیک نے لندن میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے برطانوی حکومت کے اقدام کو چیلنج کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

نائیک کے مطابق وہ پہلے ہائی کورٹ کے سامنے اپیل دائر کریں گے۔ نائیک حکومت ہند کے وزیراعظم من موہن سنگھ اور خارجی امور کے مرکزی وزیر ایس ایم کرشنا سے اس معاملہ میں مدد کی اپیل بھی کریں گے۔
ڈاکٹر نائیک کے مطابق انہوں نے وہاں کے قانونی فرم ’ آئی ٹی این‘ کے دو بیرسٹرز میتھو رائیڈرز اور رنجیت گل کی خدمات حاصل کی ہیں۔ جو جلد ہی برطانوی ہائی کورٹ میں اپیل داخل کریں گے۔
مسلم مبلغ ڈاکٹر نائیک جو اٹھارہ جون کو برطانیہ کانفرنس سے خطاب کے لیے جانے والے تھے، دو روز قبل انہیں برطانوی ہوم سیکریٹری کے دفتر سے اطلاع ملی کہ ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان کے ناقابل قبول طرز عمل کی بنیاد ان کے برطانیہ میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ڈاکٹر نائیک نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے حکومت برطانیہ کے فیصلہ کو غلط ، جانبدارانہ اور سیاسی محرکات سے متاثر ہو کر کیا گیا فیصلہ قرار دیا۔
ڈاکٹر نائیک نے کہا کہ حکومت برطانیہ نے حال ہی میں اخبارات میں شائع شدہ رپورٹس کو بنیاد بنا کر شاید یہ فیصلہ کیا ہے۔ نائیک کہتےہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ حکومت برطانیہ نے ان کی تقریر سے صرف عراق، افغانستان اور لبنان پر ہوئے حملوں کی مذمت کو بنیاد بنایا لیکن یہ نہیں دیکھا کہ اسی تقریر میں انہوں نے امریکہ میں ہوئے نائین الیون لندن بم دھماکہ اور ممبئی میں ہوئے ٹرین کے سلسلہ وار بم دھماکوں کی بھی مذمت کی تھی۔
ڈاکٹر نائیک کا دعوی ہے کہ ان کی تقاریر کو سیاق و سباق سے علیحدہ رکھ کر اس کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی بھی دہشت گردی یا دہشت گردوں کی حمایت نہیں کی ہے۔
ڈاکٹر نائیک نے مثال دی کہ وہ گزشتہ پندرہ برسوں سے برطانیہ جاتے رہے ہیں۔ متعدد مرتبہ انہوں نے وہاں تقاریر کی ہیں لیکن کبھی کہیں بھی نظم و نسق کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ وہاں ان کے مداحوں کی تعداد زیادہ ہے جس میں غیر مسلم بھی ہیں۔ ڈاکٹر نائیک کے مطابق ایک ایسے ملک میں جہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں اظہار کی آزادی ہے ، وہاں محض نظریات کی مخالفت کو بنیاد بنا کر کسی کے آنے پر پابندی عائد کرنا سراسر غلط اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
کانفرنس میں فلمساز اور حقوق انسانی کے رضاکار مہیش بھٹ بھی موجود تھےجنہوں نے کہا کہ وہ یہاں ذاکر نائیک کی حمایت میں آئے ہیں۔ انہوں نے نائیک کی تعریف کی کہ وہ برطانوی حکومت کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ بھٹ نے فلم اداکار شاہ رخ کا اس موقع پر ذکر کیا کہ کس طرح انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے امریکہ کے ایئرپورٹ پر گھنٹوں تلاشی کےنام پر روکا گیا تھا۔
ایڈوکیٹ مجید میمن نے برطانوی حکومت کے فیصلہ کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار آٹھ میں ڈاکٹر نائیک کو برطانوی حکومت نے ویزا دیا تھا جو دو ہزار تیرہ تک کے لیے تھا لیکن اس سے قبل ہی حکومت نے اسے منسوخ کر دیا جو غلط ہے اور جسے وہاں کی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
ممبئی کے آزاد میدان میں برطانوی حکومت کے فیصلہ کے خلاف لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔ لیکن ممبئی کے علماء میں اس معاملہ میں تفریق پیدا ہو گئی ہے۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ اور علماء ڈاکٹرنائیک کو اسلامی سکالر نہیں سمجھتے ان کےمطابق ڈاکٹر نائیک کی تقاریر ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہیں اور حال ہی میں انہوں نے کئی متنازعہ بیانات دیے تھے۔ چند علماء نے گزشتہ روز برطانوی ہائی کمیشن کے معاون کمشنر مسٹر پیٹر بیکھنگم سے ملاقات کر کے ان کےاس اقدام کی تعریف کی تھی۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں